تعلیم

مقابلے کے امتحانات میں بے ضابطگیاں

ملک میں مقابلے کے امتحانات شروع کیے گئے تو ان کا ایک ہی مقصد تھا کہ ادارہ میں پڑھے لکھے لوگ آئیں تاکہ ملک کا نظام بہتر ہو سکے۔ اس کاوش کے لیے پہلے وفاقی پھر صوبائی لیول پر ان امتحانات کا اجرا ہوا۔ کئی خالی سیٹس جو کہ گریڈ 17 یا اس سے اوپر کی تھی ان کا امتحان فیڈرل لیول پر ہوا اس طرح ایک ادارہ وجود میں آیا جسے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا نام دیا گیا۔ مقابلے کا امتحان پاس کرنے والوں کو افسر شاہی کہا جانے لگا اور اسی طرح کئی افراد نے اس میں شرکت کی اور ابھی تک اس سے فائدہ اٹھایا۔ اس کے علاوہ صوبائی سطح پر بھی یہ امتحان شروع ہوا جس میں گریڈ 9 سے اوپر کی پوسٹوں پر بھرتیاں کی جانے لگی۔ اس طرح تمام صوبوں میں پبلک سروس امتحان کے لیے ادارے بنائے گے۔

ان اداروں کے وجود کا ایک ہی مقصد تھا کہ براہ راست قابل اور میرٹ پر پورا اترنے والوں کو موقع دیا جائے تاکہ ملک کا نظام ٹھیک ہوسکے۔ آج تک کئی دہائیاں گزر جانے کے بعد نظام میں کچھ تبدیلی تو آئی ہے مگر ویسی نہیں جیسا ہم توقعات کررہے تھے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے جو کہ ہم گزشتہ دنوں میں دیکھ چکے ہیں وہ ہے قابل اور میرٹ پر پورا اترنے والوں کی بجائے سفارشی لوگوں کو بھرتی کرنا۔ الیکٹرونک میڈیا کہ ذریعے ہم دیکھ چکے کہ کس طرح لوگ بھرتی کیے جاتے ہیں۔ اور یہ آج سے نہیں ہو رہا بلکہ کئی سالوں سے یہی چل رہا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان ان غریب امیدواروں کو ہوا ہے جو میرٹ پر پورا اترتے تھے۔ دوسرے نمبر پر نقصان حکومت کا ہوا ہے کیونکہ ادارے ابھی تک ٹھیک نہیں ہوسکے۔

اگر یہ نظام اسی طرح چلتا رہا تو ملک ترقی نہیں کرسکتا اور ادارے کبھی نہیں ٹھیک ہوسکتے۔ امرا اپنے بچوں کو سفارش سے یا رشوت کا پیسہ دے کر اس نظام میں لے آتے ہیں جو صرف اور صرف غریب کے حق پر ڈاکا ہے۔ سیاسی لوگ اپنے بندے لگوانا چاہتے ہیں، اسی طرح ہر حال میں نقصان صرف اور صرف غریب بندے کا ہی ہے۔ مسائل تو ان امتحانات میں بے شمار ہیں مگر ہم نے ان کے حل کے لیے کبھی بات نہیں کی۔ ان مسائل کے حل کے لیے تھوڑا وقت لگ سکتا ہے مگر یہ نظام ٹھیک ضرور ہوگا اگر ہم نے اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی تو۔ حکومت کو یہ کرنا چاہیے کہ امتحانات کے طریقہ کار کو شفاف بنایا جائے۔ اگر امتحانات کا طریقہ شفاف ہوگا تب ہی قابل افسر اس نظام میں آکر نظام کو ٹھیک کر سکیں گے۔ پرچہ لیک ہونے کی خبروں سے لیکر دیگر کئی وجوہات ہیں جن سے امتحانات کا طریقہ خراب ہوا پڑا ہے اور اب کسی کو اس نظام پر کوئی اعتبار نہیں رہا۔

اگر یہ نظام ٹھیک ہو جائے اور حکومت امتحانات کے طریقہ کار کو ٹھیک کر دے تو نظام میں کافی بہتری دیکھنے کو ملے گی۔ دوسری ذمہ داری ہماری ہے۔ ہمیں چاہئے کہ کسی قسم کی سفارش تلاش کرنے کی بجائے اللہ پاک پر یقین کرنا چاہیے کہ وہ ہمیں کامیاب کرے گا۔ بار بار کوشش کرنے چاہیے اگر ایک بار ناکامی مقدر بنے تو۔ ہمیں بے ضابطگیوں کے خلاف آواز سوشل میڈیا کے علاوہ الیکٹرونک میڈیا پر اٹھانی چاہیے تاکہ ان تمام لوگوں کو بے نقاب کیا جائے۔ تب کہیں جا کے سسٹم ٹھیک ہوگا اور میرٹ پر قابل افراد لوگ اس نظام میں آئیں گے۔ اسی طرح ادارے ٹھیک ہوں گے اور اداروں کے ٹھیک ہونے پر ملک ترقی کی رہ پر گامزن ہوگا۔

Danish Hameed

I’m a student, researcher & a writer. I started writing articles 2 years ago. I’m 19 years old and always try to work for the betterment of country.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button