افسانے

فیصلے

بعض اوقات انسان کا کیا ہوا فیصلہ کسی نہ کسی دن اس کیلۓ پریشانی بھی بن سکتا ہے.آپ سوچ رہیں ہو گے کون سے فیصلے. ضرور ی نہیں کوئی آپ کو کچھ بتاۓتو آپ اسے ویسے ہی سمجھیں جیسا بتانے والے کے دماغ میں ہے.. اس لیۓ آؤ پھر زندگی کی کتاب پر کچھ نظر ڈال لیتے ہیں. اس کتاب کو اس سےبھی.زیادہ سمجھنےکی کوشش کرنا
جتنے سال تم زنگی کےپڑھ چکے ہو.
ہم بات کر رہے تھے فیصلوں کی. چاہے شادی کا فیصلہ ہو چاۓ کسی کی زندگی یا موت کا فیصلہ ہو چاۓ اپنی زندگی یا موت کا اسی طرح ایک ماں باپ کا اولاد کے بڑے ہو جانے پر ان کو رشتوں کے بندھن میں باندھنے کا فیصلہ. یہ فیصلہ انسان کو مشکل میں ڈال دیتا ہے. اب ماں باپ تو یہ نہیں چاہتے کے کوئی غلط فیصلہ ہو لیکن یہ فیصلہ کرنے میں اتنی دیر ہو جاتی ہے. کے اولاد بھی زندگی کے آدھے پنے پڑھ چکی ہوتی ہے. اگر اسی سال کا سفر ہے. تو چالیس سال کا سفر اولاد بھی کر چکی ہوتی ہے. خا ص طور پر بیٹیاں.لاڈ پیار سے پال کر انھیں انصاف نہ ملے تو. کیا کریں گی وہ مازی کی یا دوں کو بیچ دیا گیا ہے انھیں یہ سب بھلانے کے لیے. اس لیے ہمیں یہ فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے چاہیے. پہلے سوچو پھر سوچا ہوا تولو پھر تولا ہوا بولو.
ہمیں کیسے سوچنا چاہیے. سب سے پہلے ہمارا اسلام جو کہتا ہے وہ کرو. ہمارے سرور قونین ہمارے نبی کریم آقا ہمارے نبی دو جہاں ہمارے ہضرت محمد مصطفیٰ صلی للہ علیہ و آلہ وسلم. کے فیصلوں پر نظر ڈال لو انھوں نے کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا جو آپ کیلۓ غلط ثابت ہو.ایسے بگاڑ معاشرے میں آ جاتے ہیں. گھر اجڑ جاتے ہیں. جہاں فیصلے عو رتیں کرتی ہیں یا وہ مرد جن کے فیصلوں میں کچھ دم نہیں ہو تا. گھروں میں بد امنی پیدا ہو جاتی ہے. کوئ کہنا کچھ اور چاہا رہا ہوتا ہے مطلب کچھ اور نکل رہا ہوتا ہے. کھانے میں کچھ اور مانگ رہا ہوتا ہے مل کچھ اور رہا ہوتا. حق مانگ رہا ہوتا ہے. مل غم رہا ہوتا ہے. فیصلوں کا ٹائم ہوتا ہے. ٹائم پر فیصلہ نہ کیا جائے تو. بعد میں وہ ہا تھ سے نکل جاتا ہے. مثال کے طور پر. آپ کسی بچے کو 5سال کی عمر کا پیار یا اس کی 5سال کی عمر والی خواہشیں. 20سال کی عمر میں تو نہیں نہ دے سکتے. کیوں کہ ٹائم گزر جائے گا. اب اس کے بچپن میں ریمونٹ والی گاڑی بھی بڑی ہو گئی ہے. آپ اسے اگر بڑی گاڑی نہی دے سکتے. آپ اسے یہ تو کہہ سکتے.جس گاڑی کی میری اوقات تھی اور جس ٹائم پر تھی. وہ میں نے تمہیں دے دی تھی. وہ سمجھ جاۓگا کیونکہ زندگی کے 20پنے جو اس نے پڑ لیے ہیں. وہ وہی بولے گا جو اسے محول کے فیصلے میں دیا ہے آپ نے. شروع سے کوشش کر و اسے اس کا حق دینے کی. یہ میری زندگی کا تجربہ تھا جو آپ سے شئر کیا. میں نے بہت سے ایسے گھر دیکھے بچوں کا محول رشتوں میں دیر غلط فیصلوں کی وجہ سے لڑائیاں سہی فیصلوں کی وجہ سے اچھے گھر اور اچھا محول اچھی تمیز. عوام کی عدالت میں دیکھا کرو کتنے لوگوں نے ہم سے پہلے کیسے فیصلے کیے اور کیسا اثر پایا. اپنوں سے مشورہ کرنا بھی بہتر ہے. آپ بھی ایک جج ہو معاشرے کی عدالت میں اپنے گھر کی عدالت میں اپنی فیملی میں اپنے چھوٹوں میں. اپنی فیملی اپنے لوگ تم سے فیصلے کی نا امید ی سے کسی اور کو جج نہ بنا لیں کیونکہ با ت فیصلوں پر ہو رہی تھی اس لیے میری نظر میں یہ فیصلے بھی بہت سنجیدہ ہیں باقی انصاف حق عقیدہ یہ ایک علیدہ موضوع ہے اگر آپ کو میری یہ گفتگو اچھی لگی ہو تو تبصرے میں ضرور بتانا بہت شکریہ. اللہ حافظ.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button