TECH

وٹس ایپ نوٹس

تحریر:-رحیم حیدر
11-جنوری-21
واٹس ایپ نوٹس
1992 میں یوکرائن میں یہودیوں پر ظلم شروع ہوگیا۔پھر دونوں ماں بیٹا نے اپنی ضرورت کا سامان پیک کیا، اور بیٹے کی چند کتابیں بیگ میں ڈالیں اوریوکرائن سے امریکہ کی ریاست کیلیفونیا میں شفٹ ہوگئے۔
حالات اس قدر خراب تھے کہ کھانا کھانے کے لیے بھی پیسے نہ تھے،اُس وقت امریکی حکومت نے ایسے تمام تاریکین وطن لوگوں کے لیے ایک ادارہ بنایا ہوا تھا۔
جس میں مستحق لوگوں کی مدد کے لیے امداد کی جاتی تھی، یہ دونوں ماں بیٹا بھی اُسی ادارے کی کرسیوں پر گھنٹوں امداد کا انتظار کرتے اور کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا کہ اُن کو بھوکے پیٹ ہی واپس جانا پڑتا.
وہ کہتے ہیں جب انسان کا نصیب گردش میں ہو تب اپنے پرائے سب طنز بھی کرتے ہیں اورباتیں بھی سُناتے ہیں۔
یہ دونوں ماں بیٹا بھی ہر روز امدادی ادارے کے لوگوں سے باتیں سنتے اور امداد لے کر واپس چلے جاتے.
آخر کار بیٹے نے ایک ایسے شاپنگ مال میں نوکری کر لی جس میں وہ صبح شام صفائی کا کام کرتا یہاں تک کہ واش روم تک بھی اُس نے صاف کرنے شروع کردئیے،لیکن اپنی پڑھائی کو جاری رکھا.
آپ جانتے ہیں میں کس کی بات کر رہا ہوں سماجی رابطہ کی مقبول ترین میسجنگ ایپلیکیشن وٹس ایپ کے موجد ’’جین کوم’’ کی یہ وہ انسان ہے۔
جس نے اپنی محنت کے دم پر ایک ایسی ایپلیکیشن دی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا پر اپنے سکے جما دیئے اور آج پوری دنیا میں 2 ارب سے زیادہ صارفین اس ایپلیکیشن کو استعمال کر رہے ہیں،اور ایک دوسرے سے رابطہ میں ہیں.
وقت گزرتا رہا اور اس ایپلیکیشن نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی، اور پھر اس ایپلیکیشن کے بانی ’’جین کوم‘‘ نے اسے 19 بلین ڈالر کے عوض فیس بک کو بیچ دیا.
جو کہ ایک بہت بڑی رقم تھی آپ اس بات کا اندازہ اس طرح سے لگا سکتے ہیں،کہ پاکستان کا قُل بجٹ سے دو گناہ زیادہ رقم اس ایپ کی خریداری پر استعمال کی گئی.
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فیس بک نے اس میں بہت سی تبدیلیاں کی جو صارفین کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوئیں.
لیکن گزشتہ دنوں وٹس ایپ نے اپنی پرائیویسی پالیسی میں تبدیل کرکے صارفین کو کافی مشکل میں ڈال دیا ہے.
وٹس ایپ انتظامیہ کے مطابق 8 فروری 2021 کے بعد وٹس ایپ استعمال کرنے والے صارفین کا تمام تر ڈیٹا فیس بک کے ساتھ شئیر کردیا جائے گا.
اس سلسلے میں صارفین کو ایک آگاہی نوٹفیکشن بھی موصول ہو رہا ہے.جس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں صارف کا واٹس ایپ اکاوُنٹ منقطع یا ڈیلیٹ کردیا جائے گا.
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس ایک ایپلیکیشن کی پرائیویسی پالیسی پر صارفین اس قدر پریشان ہیں.اس کے برعکس اگر دیکھا جائے تو جو موبائل فون ہم زیادہ تر استعمال کر رہے.
اس میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سٹم گوگل کا ہی بنایا ہوا ہے.جس کی مدد سے ایک موبائل فون صارف کون کون سی ایپلیکیشن اپنے موبائل فون میں انسٹال کررہا ہے،صارف کی کیا لوکیشن ہے،صارف کے پاس کونسا موبائل فون ہے۔اس میں کونسے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سٹم کا کون سا ورژن ہے،صارف نےاپنے موبائل کے زریعے کیا کیا سرچ کیا ہے.
یہ سب صارفین کا تمام ڈیٹا پہلے سے ہی گوگل کے سرور پر منتقل ہو رہا ہے.جو کافی حیران کُن بات ہےجس کی مدد سے ہر سال گوگل ایک لسٹ جاری کرتی ہے کہ گزشتہ سال سب سے زیادہ کیا سرچ کیا گیا.
میرے خیال سے ہر ایپلیکیشن بنانے والی کمپنی جانے انجانے میں صارف سے تمام پرمیشن لی لیتی ہے.جس میں صارف کے کونٹس،فوٹو گیلری،لوکیشن،وغیرہ شامل ہے.
بس فرق صرف اتنا ہے کہ وٹس ایپ نے سب کو اس آگاہی نوٹیفیکشن سے پریشان کردیا ہے.

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!