تعلیم

خدا کا سب سے بڑا شاہکار ؟اور سیکھنے کی باتیں ۔۔۔۔

جب سے زمین پر نسل انسانی کا آغاز ہوا ہے ،میرے جیسا زہںن، میرے جیسا دل، آنکھیں، کان، ہاتھ، بال اور میرے جیسا چہرہ کسی کا نہیں بنایا گیا۔اس سے پہلے میرے جیسا کوئی نہیں آیا آج ہے نہ ہی آنے والے دنوں میں آئے گا ۔میری طرح کوئی چل نہیں سکتا نہ بات کرسکتا ہے نہ ٹھیک طرح سوچ سکتا ہے میں اپنے بہن بھائیوں سے مختلف ہوں۔درج ذیل کچھ ایسی باتیں بیان کی گئی ہیں جو آپ کے اندر ایک نیا جوش و ولولہ پیدا کر سکتے ہیں اور میں نے آخر میں کچھ ایسی باتیں بیان کی ہیں جس پر عمل پیرا ہونے سے آپ کو اپنا مقصد واضح دکھائی دے گا ۔
1۔میں خدا کا عظیم شاہکار ہوں
میری ذات کے اندر ایک شعلہ افروزاں ہے۔یہ شعلہ ان گنت نسلوں سے ہوتا مجھ میں منتقل ہوا ہے ۔اس کے گرمائش میری روح کو بے چین رکھتی ہے کہ میں خود کو بہتر بناؤ اور میں ایسا بننا جاری رکھوں گا ۔میں بے اطمینانی کے اس شعلے کو مزید بھڑکا کر دنیا کو اپنے انفرادیت دکھاؤں گا۔کوئی میرے دانتوں میں برش کرنے کے طریقے کی نقل نہیں کر سکتا نہیں کوئی میری طرز تحریر کی نقل کر سکتا ہے ۔کوئی میری جگہ میرا بچہ پیدا نہیں کر سکتا۔چنانچہ میں اپنی انفرادیت سے بھرپور فائدہ اٹھاؤں گا ۔کیونکہ یہ میرا ایسا اثاثہ ہے جس کو مجھے پوری طرح پروان چڑھانا ہے ۔
2۔میں اللہ کا سب سے بڑا شاہکار ہوں :
میں دوسروں کی نقل کی بیکار کوشش نہیں کروں گا ۔اس کی بجائے میں لوگوں میں اپنی انفرادیت کا کھل کر اظہار کروں گا اور اپنے دعوے کو ثابت کر کے دکھاؤں گا ۔آج سے وہ دوسروں کے ساتھ فرق کو بڑھاؤں گا اور مشابہتوں کو چھپاؤں گا ۔
3۔میں اللہ کی منفرد مخلوق ہوں :
اس لیے کہ میں نایاب ہوں اور نیابی میں ہی میری قدروقیمت ہے۔اسی باعث میں قیمتی ہوں ۔میں ہزار ہا سال کے ارتقا کی آخری پیداوار ہوں۔چنانچہ جتنے بھی شہنشاہ اور دانا لوگ مجھ سے پہلے گزرے ہیں ،میں ان سے اپنے وجود اور ذہن کے حوالے سے زیادہ آراستہ ہوں ۔
میری مہارتیں ، میرا ذہن، میرا دل، اور میرا جسم جمود کا شکار ہوجائے گا اور گلنا سڑنا شروع ہو جائے گا ،اگر میں نہ اچھے مقاصد کے لئے استعمال میں نہیں لاتا ۔میرے اندر لامحدود استعداد ہے ۔میں اپنے ذہن کا صرف محدود حصہ استعمال کرتا ہوں ۔پٹھوں کا تھوڑا سا حصّہ اکڑاتا ہوں۔میں اپنی گزشتہ دنوں کی کار کر دگی کو ہزار گنا بڑھا سکتا ہوں اور آج سے شروع کرتے ہوئے میں ایسا ضرور کروں گا
میں اپنی گزشتہ روز کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں گا نہ میں اپنے کام کی تعریف کے چکر میں پڑوں گا۔میری کارکردگی ایسے نہیں کہ میں اس کا اظہار کروں۔میں اس سے کہیں زیادہ کام کر سکتا ہوں ،جتنا کہ میں نے کیا ہے اور کروں گا ۔اس لئے کہ جس خدا نے مجھے ایک شاہکار بنایا ہے ،وہ مجھ سے کہیں بڑے کارنامے کی توقع رکھتا ہے ۔میں اپنی ذات کے معجزے کو اپنے عمل کے معجزہ میں کیوں نہیں ڈھال سکتا۔
4۔میں فطرت کا عظیم شاہکار ہوں :
میں زمین پر اتفاق سے نازل نہیں ہوا ۔مجھے ایک مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے ۔وہ مقصد یہ ہے کہ میں خدا کو پہچانو ۔اس کے آگے سر بسجود ہوں اور پہاڑوں سے بلند قد کاٹھ کا بن جاؤں نہ کہ ریت کے ذرے کی طرح سکڑ جاؤں ۔میں پہاڑ کی طرح اونچا بننے کی کوشش کروں گا اور اس کے لئے میں اپنی پوری قوت اور صلاحیتں بروئے کار لاوں گا ۔میں اپنی پوری توانائی لمحہ موجود کے چیلنجوں پر مرتکز کروں گا اور باقی ہر چیز بھول جاؤں گا ۔میرے گھر کے مسائل گھر پر ہی رہیں گے ۔جب میں آفس یا کام پر ہوں گا تو فیملی کے بارے میں نہیں سوچوں گا ۔کیونکہ میرے خیالات پراگندہ ہوتے ہیں ۔
میں باہر کے مسائل باہر ہی چھوڑ کر گھر آؤں گا ۔جب گھر میں ہوں گا تو اپنے پیشے کے بارے میں فکرمند نہیں ہوگا ۔کیونکہ اس سے میری گھر والوں کے ساتھ محبت متاثر ہوتی ہے ۔سو کام کی جگہ پر میری فیملی کے لئے کوئی جگہ نہیں اور گھر میں باہر کے مسائل کے لئے کوئی جگہ نہیں ۔
5۔میں خدا کا حیرت انگیز معجزہ ہوں:
مجھے دیکھنے کو آنکھیں دی گئی ہیں ۔سوچنے کو ذہن بھی آگیا ہے ۔میں زندگی کے ہر ایک سے آشنا ہوا ہوں کے تمام مسائل تمام حوصلہ شکنیاں اور دکھ درد درد دراصل چھپے ہوئے مواقع ہیں،مین سے دھوکہ کھانے والا نہیں ۔میری آنکھیں کھلی ہیں ۔میں ان کی پوشاک کے اندر ان کی اصلیت جان سکتا ہوں اور ان سے دھوکا نہیں کھا سکتا ۔
6۔میں فطرت کا عظیم معجزہ ہوں:
کوئی جانور کوئی چٹان کوئی ہوا اور بارش نہ ہی کوئی جھیل کا آغاز اس طرح سے ہوا ہے جیسے کہ میرا ہوا ۔کیونکہ مجھے محبت سے پیدا کیا گیا اور ایک خاص مقصد کے تحت دنیا میں بھیجا گیا ۔ماضی میں اس بات کو نہ سمجھ سکا لیکن اب یہی بات میری رہنمائی کرے گی اور مطلوبہ مقصد کی ساخت کرے گی ۔
فطرت شکست سے ناآشنا ہے ۔وہ فتح یاب ہوتی ہے تو میں بھی ہوں گا۔ہر فتح کے بعد اگلی جدوجہد کم مشکل ہوتی ہے ۔میرا یہ عہد اور عزم ہے کہ میں انشاءاللہ کامیاب ہوں گا ۔اپنے ملک اور قوم کے لئے اہم خدمات انجام دوں گا اور اپنے خاندان کا نام روشن کروں گا ۔
سیکھنے کی باتیں
1۔اپنی توجہ اپنے مقصد پر رکھیں نہ کہ رکاوٹ پر رکھیں۔
2۔کبھی الزام تراشی نہ کریں۔کبھی شکوے شکایت کریں نہ ہی بڑبڑائیں۔
3۔اپنے آپ سے مثبت طور پر باتیں کریں ۔خود کو برا بھلا مت کہیں نہ تنقید کا نشانہ بنائیں ۔
4۔اپنے خوابوں کو ٹھوس شکل دیں اور انہیں ہر وقت اپنے پیش نظر رکھیں ۔
5۔آپ جن لوگوں کو پسند کرتے ہیں ان کی خوبیوں کی نقل کریں ۔
6۔ایسے لوگوں سے وابستہ ہو جائیں جن کے خواب اور مقاصد آپ سے ملتے جلتے ہیں۔
7۔خود کو جانیں ۔اپنی خامیوں اور خوبیوں سے آگاہی حاصل کریں اس سے آپ کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کے آپ کسی خاص طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے ۔
8۔خوابوں کی تکمیل میں دوسروں کی مدد کریں
9۔اگر آپ بڑی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو بڑی ناکامی کے لئے بھی تیار رہنا چاہیے ۔
10۔جس چیز کا خوف اس کا سامنا کریں خوف دور ہو جائے گا ۔خوف کا سامنا کرنے کو جرت کہتے ہیں ۔خوب سے فرار بزدلی کہلاتی ہیں ۔کیا آپ بزدل کہ لانا چاہتے ہیں یا حوصلہ مند فیصلہ آپ نے کرنا ہے
شکریہ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!