اسلامک

آپ حسد کیوں نہیں کرتے…؟

آجکل کا معاشرہ ایسا ہے کہ ہم لوگوں میں حسد بہت زیادہ پایا جاتا ہے حسد کرنے سے نہ ہم کو کچھ فائدہ ہوتا ہے اور نہ دوسرے کو کچھ نقصان ہوتا ہے البتہ آخرت کے لحاظ سے ہمیں ہی نقصان ہوتا دوسرے کو کچھ نہیں ہوتا
اگر ہم نے حسد کرنا ہی تو ہم نیک کاموں میں کریں اگر کوئی شخص نماز پڑھتا ہے تو ہم کو چاہیے کہ ہم اس سے زیادہ پابندی سے نماز پڑھیں اسی طرح کوئی شخص نوافل کی کثرت کرتا ہے تو ہم اس میں حسد کریں اور ہم بھی نوافل پڑھیں
ایک ہوتا ہے حسد اور ایک ہوت ہے رشک کرنا جس کو پنجابی میں ریس کہتے ہیں
رشک :وہ یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کے پاس آپ کوئی نعمت دیکھیں تو اس یہ دعا کریں کہ یا اللہ یہ جو نعمت آپ نے اس فلاں شخص عطاء فرمائی ہے یہ اس کو بھی نصیب فرما اور مجھے بھی یا اس طرح کے مجھے اس سے زیادہ نصیب فرما یہ ہے رشک اور یہ رشک کرنا ایک دوسرے سے یہ جائز ہے
اور جو حسد یہ جائز نہیں ہے وہ یہ ہے کہ اس میں یہ ہوتا ہے کہ کسی کے پاس کوئی نعمت دیکھی نہیں پہلے ہی جلن ہونے لگ پڑتی ہے کہ یہ چیز یہ نعمت اس کے پاس کہاں سے آگئی ہے
حدیث شریف میں بھی ہے لا تحاسدوا فسادی مت بنو! تو
تو ہم کو چاہیے کہ اگر ہم نے حسد کرنا ہی ہے اگر اس کے بغیر ہمارا گزارا نہیں ہوتا تو ہم نیک کاموں میں ایک دوسرے سے حسد کریں تا کہ کچھ آخرت کا تو فائدہ ہو آخرت تو کچھ سنور جائے جو ابدی زندگی ہے اس کی تیاری نہیں ہے اور جو کچھ تھوڑی بہت نیکیاں ہوتی ہیں وہ ہم اس جیسے بلافائدہ کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں
ہم کو ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہو کر چلنا چاہیئے کیونکہ اگر آج ہم کسی کے ساتھ حسن سلوک کریں گے تو پھر ہم کو بھی یاد رکھا جائے گا اور اچھے لفظوں میں یاد رکھا جائے گا اور اگر ہم اس کے برعکس چلے یعنی ہر ایک کے ساتھ مقابلہ بازی لگائی رکھی، حسد رکھا، کینہ رکھا،بغض رکھا اور عداوت رکھی تو پھر ہمارا کوئی حال نہیں ہے پھر ہم کو لوگ اچھے لفظوں میں یاد نہیں رکھیں گے پھر جب بھی ہمارا کہیں ذکر آئے گا تو لوگ ہمیشہ ہمیں برے الفاظ سے یاد کریں گے
ویسے ایک بات قابل غور یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس دنیا سے چلا جائے تو اس کی خامیوں کی بجائے ہمیں اسکی جو اچھائیاں ہوں انکا ذکر کرنا چاہئے کیونکہ اب اس کی خامیاں بیان کرنے سے ہم اس سے کسی قسم کا کوئی بدلہ نہیں لے سکتے بہتر یہ ہے کہ اگر کچھ غلطی وغیرہ ہو گئی ہو تو اس کو معاف کر دینا چاہیے اس سے اس کو بھی فائدہ ہوگا اور ہمیں بھی فائدہ ہو گا
لہٰذا اللہ تعالیٰ ہم کو نیک کاموں میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثم آمین
تحریر :حافظ سیف الرحمن چاند

Hafiz Saif-Ur-Rehman Chaand

زندگی کا سکون نماز میں ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button