افسانے

کیا کامیابی صرف پڑھنے لکھنے سے ہی ملتی ہے

ایک جو ہمارے یقین ہے کہ بچپن سے ہمارے دماغ میں بٹھا دیا گیا ہے کے پڑھنا اچھا ہوتا ہے تو ہم نے اس یقین کو پکڑ لیا ہے کہ کامیابی صرف پڑھنے لکھنے سے ہی ملتی ہے جو پڑھ لکھ گیا اس کی زندگی بن گئی اور جو نہیں پڑھا اس کی زندگی بیکار ہے یہی بچپن سے سب نے دماغ میں بٹھایا ہوا ہے اور یہی ہمارا یقین بن جاتا ہے اور اسی یقین کے حساب سے ہم کام کرنا شروع کر دیتے ہیں بنا سوچے سمجھے اگر بنا سوچے سمجھے ہم اپنی زندگی میں کام کرتے ہیں تو یہ عادت بری ہے

جیسے کسی کے دماغ میں فیڈ کر دیا جاتا ہے کے یہی صحیح ہے اور بس یہی صحیح ہے اور وہ مان لیتا ہیں کہ ہاں بس یہی صحیح ہے جو لوگ اسے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہی صحیح ہے ان کے لیے تو یہی صحیح ہے اور وہ کبھی سوال نہیں کرتا ایسے ہی جو آپ لوگوں کی ایج گروپ ہے اس میں اگر دماغ چلاؤ تھوڑا سا سب سے بے کار لائن ہمارے دماغ میں بٹھا دی گئی ہے کے پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب کھیلو گے کودو گے بنو گے خراب میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پڑھنا لکھنا ضروری نہیں ہے

دونوں ہی ضروری ہے لیکن سمجھنا ہو گا اسکول اور کالج میں جتنے پڑھائی کے پیریڈ ہونے چاہیے اتنے ہی ایکٹیویٹی کے پیریڈ ہونے چاہیے مطلب کے جتنے ان ایکٹیویٹی کے پیریڈ ہے بس ایک جگہ بیٹھے ہیں اور انفارمیشن ہی فیڈ کر رہے ہیں
وہ بچہ جو کھیلے گا کو دے گا نہیں تو بچا کیا اس کی زندگی میں اس کا بچپن تو گیا کی انفارمیشن کی کمی ہے اس دنیا میں بس ایک جگہ بیٹھ کر انفارمیشن ہی فیڈ کرتے رہو دماغ میں ملے گا کیا اس سے پیسہ کیا پیسے کمانے کے اور کوئی طریقے نہیں ہے اگر تم اپنا کچھ کرنے کا سوچو گے یا گھر پر بولو گے کہ مجھے اپنا کچھ کرنا ہے صرف یہی ایک طریقہ تھوڑی ہے دنیا میں کہیں پر بھی جانے کا ایک ہی راستہ نہیں ہوتا ہزاروں لاکھوں راستے ہوتے ہیں پیسے کمانے کے تو ہزاروں لاکھوں راستے ہیں لیکن صرف پیسہ کمانا کامیابی نہیں ہوتی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button