اسلامک

مجاہدینِ غزوہ ہند (قسط نمبر 10)

محمد بن قاسمؒ
محمد بن قاسم خود ایک چھوٹے سے دستے کے ساتھ ایران سے ہوتے ہوئے بلوچستان داخل ہوئے،اور مکران کے ساحل کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے موجودہ سندھ جا پہنچے۔دونوں فوجیں دیبل کے قلعے کے قریب آپس میں مل گئیں۔محمد بن قاسمؒ کی فوج میں گھڑ سوار دستے اور پیادہ فوج شامل تھی۔یہ سندھ کے ہندو راجاؤں کا مسلمانوں کی باقائدہ فوج سے پہلا تصادم تھا۔دیبل کے قلعے کا محاصرہ کر لیا گیا۔طویل عرصے تک دیبل کا محاصرہ جاری رھا۔اکثر اوقات دونوں فوجوں کی کھلے میدان میں جھڑپیں بھی ہوتیں،مگرمسلمان ابھی قلعے کو فتح نہ کر پائے تھے۔
دیبل کے قلعے کے عین بیچوں بیچ ایک مندر تھا جس پر ایک جھنڈا نصب تھا۔کسی نے محمد بن قاسمؒ کو اطلاع دی کہ شہر میں موجود ہندوؤں کا عقیدہ یہ ہے کہ جب تک یہ جھنڈا اس مندر پر قائم ہے،اس وقت تک فوج دیبل کے قلعے کو فتح نہیں کر سکتی اب محمد بن قاسمؒ نے اپنے توپ خانے میں کام کرنے والے سپاہیوں کو حکم دیا کہ تاک کر اس جھنڈے پر ضربیں لگائی جائیں۔توپوں کی سنگ باری کے باعث بلآخر یہ جھنڈآ اپنی جگہ سے اکھڑ گیااور مسلمانوں نے قلعے پر یلغار کر دی۔جھنڈا گرنے کی وجہ سے دفاعی فوج حوصلہ ہار بیٹھی اور جلد ہی یہ قلعہ مسلمانوں نے فتح کر لیا۔
یہ سندھ میں مسلمانوں کی پہلی بڑی فتح تھی،آج دیبل کا شہر اور اس کا قلعہ موجود نہیں ہے،مگر سندھ کے ساحل کے پاس شہر کے کچھ کھنڈرات باقی ہیں کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہی دیبل کا شہر تھا۔
محمد بن قاسمؒ نے فتح کے بعد مسلمان قیدیوں کو آزاد کروایا اور شہر کو مسلمان سلطنت میں شامل کر لیا۔یہاں پر محمد بن قاسمؒ کو معلوم ہوا کہ راجہ داہر فرار ہو چکا ہے۔اب مح،د بن قاسمؒ نے فیصلہ کیا راجہ داہر کا اندرون سندھ تعاقب کیا جائے۔ (جاری ہے)

Muhammad Hassnain ؔحسنین

میرا نام محمد حسنین ھے۔میں نے اردو لکھنے کا کورس کیا ھے۔میں اس پلیٹ فارم پر بھی ا چھی طرح کام کروں گا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button