اسلامک

ایام فاطمہ زھرا۔ یہ بچہ پوچھتا ہے علی اس وقت کہاں تھے جب دروازہ گر رہا تھا۔

یہ پیار کا نتیجہ ہے یہ عشق کا نتیجہ ہے کہ نبی چاہیے ہیں کہ ہر محفل میں علی کی بات ہو اپنی محفلوں کو مجلسوں کو علی کے ذکر سے زینت دو جب علی کی بات ہو گی تو سماج عالی ہو گا مزاج عالی ہو گا ماشرہ بلند ہو گا خد بہ خد ترقی ہو گی میں اگر مولا کے کلام نہج البلاغہ کو پڑھ لوں تو آپ خود محسوس کریں گے کہ ہم فکری طور پر کتنے مظبوط ہوتے جا رہے ہیں کتنے بلند ہو تے جا رہے ہیں ۔۔ ہم اپنے نفسوں کو لاتے ہیں تم اپنے جیسوں کو لائو ہم اپنے جیسوں کو لاتے ہیں اور جیسوں میں مولا علی کا وجود ہے

علی کو دیکھ کر نبی رو رہے ہیں یا رسول اللہ آپ کو کسی چیز نے تکلیف پہنچائی ہے فرمایا میں جب تم کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں میرے بعد تم پر کیا گزرے گی اے علی رسول نے علی کا ہاتھ پکڑ کر کہا اے علی مجھ سے وعدہ کرو میری وجہ سے تمہیں تکلیفیں ا ٹھانا پڑیں گی مگر تم تلوار نہیں اٹھاؤ گے یا رسول اللہ اللّٰہ اور اللّٰہ کا رسول جو چاہتا ہے وہی ہو گا کہا علی وعدہ کرو تمہاری زوجہ پہ ہاتھ اٹھایا جائے گا مگر تم بدلہ نہیں لو گے فرماتے ہیں مینے اگر رسول اللہ سے احد نہ کیا ہوتا اللّٰہ ھو اکبر ۔

بارہ دستاویز مہر لگی ہوئی جبرائیل لے کر آئے کہا یا رسول اللہ یہ آپ کے بارہ جانشینوں کے احکامات ہیں اللّٰہ نے آپ کے بارہ خلفاء کے احکامات بھیجے ہیں مولا علی نے اپنے حصے کا کھولا باقی امام حسن کو دے دیے امام حسن نے اپنے حصے کا کھولا اور باقی امام حسین کو دے دیے ہر امام اپنے حصے کے احکامات جو اللّٰہ کے احکامات جو اللّٰہ کی معیشت ہے جو اللّٰہ ان سے چاہتا ہے انہیں بتا دیا کہ کیا ہونا ہے تمہیں کیا کرنا ہے علی کو پہلے سے پتہ تھا یہ بچہ پوچھتا ہے علی اس وقت کہاں تھے جب دروازہ گر رہا تھا علی وہیں تھے علی دیکھ رہے تھے یہی تو امتحان تھا علی کا رسول اللہ فرماتے ہیں یا علی تلوار نہیں اٹھاؤ گے بیٹھے ہوئے تھے کھڑے ہو گئے آنکھوں میں آنسو آ گئے کہا ۔۔

یہ تو سب کے ذہنوں میں ہے کہ مولا علی غیرت مند بہت تھے جناب زاہرہ کا جنازہ میت جب اٹھا رہے تھے جناب حسن سے پوچھا کہ تابوت کے نتیجے کوئی ہے میں اک سایہ محسوس کر رہا ہوں فرمایا بابا ہماری بہن زینب اماں کو قبر تک پہنچانے تک ہمارے ساتھ جانا چاہتی ہے فرمایا تابوت کو رکھ دو زینب کو گھر پہنچا کے آؤ میں نہیں چاہتا کہ زینب کا سایہ بھی کوئی دیکھ لے۔۔۔۔ مولا علی کہاں تھے مولا علی وہیں تھے اسی لیے تو مولا کو اؤل مظلوم کہا گیا ہے سب سے پہلے مظلوم ۔ سب سے بڑا مظلوم علی علیہ ۔۔۔ اللّٰہ ھو اکبر اللّٰہ ھو اکبر

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!