اسلامک

یتیم کسے کہتے ےہیں ،یتیم کے سر پر ھاتھ پھرنے کی فٖضلیت،

بچوں کی دیکھ بھال کرنا یہ اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ادا کرنے کے لیے کاشانہ نبوت سے پہلے بچے آپس میں خوبصورت کپڑے پہنے ہوئے نہ بچے کھیل رہے ہیں دوسری طرف بچہ بیٹھا ہوا ہے اس کے کپڑے پھٹے پرانے اور بوسیدہ نماز کا وقت ہو رہا ہے ہے جب اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ آپ سے رہا نہ گیا آپ اس بچے کے پاس گئے اور اس سے پوچھا کہ کیا ہمیں ایک اللہ کے نبی علیہ السلام کو جانتا نہیں تھا

اس نے کہا اے شخص آدمی میں یتیم ہوں میرا باپ ہے وہ جنگ میں شریک ہوا تھا اور اس جنگ میں میرے باپ نے جام شہادت نوش کر لیا تھا تو جو میری والدہ کی اس نے دوسری شادی کر لی اور ان کے ساتھ مل کر جو مل جائے جو میرے باپ کی وراثت تھی اس پر بھی قبضہ کر لیا اور مجھے گھر سے بھی نکال دیا ہے اس لیے میں نے بچوں کو دیکھتا ہوں جن کا خوبصورت ہے جن کا باپ زندہ ہے کی ضرورت کو پورا کر رہے ہیں اور میں اپنے آپ کو میری آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس بچے کی بات سنی تو آپ نے اس بچے کو اپنے سینے سے لگا دیا اپنے گلے سے لگا لیا اور اس بچے سے فرمایا کہ کیا تو اس بات پر خوش نہیں میرے بن جاؤ حضرت علی شیر خدا ہماری پہچان بن جائے حضرت سیدہ کائنات سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا بہن بن جائے امام حسن اور حسین یہ تمہارے بھائی بن جائے اور شخصیت کا یہ تمہاری ماں بن جائے اس بچے نے پہچان لیا ہے تو اللہ کے رسول اس نے عرض کی اس سے بڑھ کر میرے لئے اور مجھے اپنا بیٹا بنا رہے تو اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس یتیم بچے کو اپنے ساتھ ملا لیا اپنے گھر لے کے گئے اس کو خوبصورت لباس پہننا کھانا کھلایا اس لیے تین بچے ہیں اور جب وہ کچھ دیر بعد بچہ دوسرے بچے کھیل رہے تھے انہوں نے دیکھا کہ اس وقت سب سے بڑا تھا اور آپ اس کا چہرہ خوشی سے ہوا نظر آ رہا ہے بچوں نے بچے سے پوچھا کہ تمہاری خوشی کا راز کیا ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button