افسانے

اپنے آپ کو کسی سے کم نہیں سمجھنا

آج میرا عنوان ھے ہے کہ اپنے آپ کو کسی سے کم نہیں سمجھنا
میں آپ کے ساتھ ایک واقعہ بیان کرتا ہوں ہو جس میں آپ کو پتہ چلے کہ آپ جس حال میں ہوں خوش رہو اور اللہ کا شکر ادا کرو

چلو واقعہ شروع کرتے ہیں ایک شخص تھا وہ ہر روز پہاڑ جا کے وہاں پتھر توڑ دیتے اور بنا دیتی تھے اور شام کو بیچ کر اپنے گھر کی روزی روٹی چلاتے تھے لیکن اس کو ایک دن خیال آیا کہ یہ کیا زندگی ہے کی پورہ روز ز کام کرکے تھوڑے سے پیسے کماتا ہوں ایسا کیوں نہ ہو کہ میں ایک بڑا آدمی بن جاؤں اور میرے ساتھ بہت سارے پیسے اور دولت ہوں اسی خیال میں وہ رات کو سو گیا اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ پہاڑ سے آتے اسے ایک محل دیکھا اس کے دل میں آیا کہ کاش یہ محل میرا ہوتا اور اس کے دل میں آتی ہی ہیں اس وہ اس محل کا مالک بن گیا وہ بہت خوش ہوا اور محل میں ادر ادر پہر رہا تھا اس نے محل کی کھڑکی سے جانکا تو نیچے ایک بندہ تھا بہت سارے لوگ اس کے لیے جمع تھے اور اس کے لیے نعرے لگا رہے تھے اور ہر ایک کی خواہش تھی کہ میں اس کے ساتھ ملوں اس کے دل میں یہ خواہش آیا کہ کاش میں یہ بندہ ہوتا اور لوگ میرے میرے ماتحت ہوتی اسی طرح اس کے دل میں آتی ہیں وہ اس بندے کی جگہ کھڑا ہوگیا اور لوگ اسے دیکھتے رہے اور اس کے نعرے لگاتے رہے لیکن وہ شخص اس کو گر می بہت بری لگتی تھی اور ایسا ہوا سورج نکلا اور اس پر پسینے آگئے اس کے دل میں یہ خواہش آ گیا کہ کاش میں سورج ہوتا دل میں آتی ہے وہ سورج بن گیا اور لوگوں پر راج کرنے لگا وہ بہت خوش ہو گیا کہ میں سورج بن گیا اور اب سارے لوگ میرے ماتحت ہوگئے اور کوئی میری اجازت کی بنا کچھ نہیں کر سکتی ہیں اور نہ ہی میری روشنی روک سکتی ہے تھوڑی دیر ہی گزرا تھا کہ بادل آ گئی اور سورج کی روشنی میں دیھمی پڑ گئی اس کے دل میں آیا کہ میں یہ بادل ہوتا اور وہی ہو گیا تھوڑی دیر میں ہوا آ گئی اور بادل کو ادھر آنے ا لگا اس کے دل میں اس نے کہا کاش میں ہوا ہوتی پچھلی کی طرح اس کے دل میں آتی ہیں وہ ہوا بن گئی اور تیز منڈلانے لگی ابھی اس نے سوچا کہ اب میرے رفتار کے سامنے کچھ نہیں رک سکتا ہے اور جہاں میرا دل ہو وہاں جا سکتا ہوں جاتے ہوئے راستے میں ایک پہاڑ آگیا اور وہ پہاڑ کے ساتھ ٹکرا گئی پہاڑ نے اسی کی طرف دھکیل دیا اس کی دل میں وہی خواہش آیا کہ کاش میں پہاڑ ہوتا اور آتی ہیں وہ پہاڑ بن گیا وہ دل ہی دل میں بہت خوش تھا میں پہاڑ بن گیا اور کچھ میرا بگاڑ نہیں سکتا اب کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ اس کے اوپر ایک درد سا طاری ہوگیا اور ٹک ٹک کی آواز آنے لگی اس نے بہت کوشش کی کہ کون سی چیز ہے جو مجھے درد ہو رہا ہے اس نے دیکھا کہ ایک آدمی ہیں اور پہاڑ کے اوپر بیٹھا ہیں اور تہشا لے کر پہاڑ کو کھود رہا ہے اور اسی بہت درد ہو رہا ہے اس کے دل میں خواہش آیا کہ کاش میں یہی بندہ ہوتا اس نے بہت کوشش کی لیکن وہی بندہ نہ بن سکے

کیونکہ وہ بندہ خود ہی تھا اس حالت میں وہ اٹھ گیا اور شکر ادا کیا کہ میں جو بھی ہو اچھا ہو
تو دوستو میری مقصد یہ تھا کہ آپ جس بھی حال میں ہو خوش رہو اور اللہ کا شکر ادا کرو کیونکہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ میرے بندے کے لیے کیا اچھا ہے اور کیا برا۔

Abid Aqeel

Student of CA

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button