TECH

سوشل میڈیا اور ذاتی زندگی

سوشل میڈیا کی کامیابی پر ہر کوئی اپنی ذاتی زندگی کا پرچار سوشل میڈیا پر کرنے لگا ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کو کئی قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لوگ دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے اپنی ذاتی زندگی جو سوشل زندگی کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں۔ لوگ اگر یہ یقین کر لیں کہ کتنا جلدی اس دنیا میں مرنے والے کو بھلایا جاتا ہے تو شاید لوگ ایک دوسرے کو متاثر کرنا چھوڑ دیں۔ اپنی زندگی زندگی کو سوشل زندگی سے بالکل علیحدہ رکھیں اور کوشش کریں کہ آپ کسی کو متاثر نا کریں کیونکہ آپ متاثر کرنے کے لیے نہیں بنے۔ لوگ وقتی طور پر آپ کو پسند کریں گے لیکن وہ آپ کے ساتھ کبھی مخلص نہیں ہو سکتے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے کئی لوگوں کی زندگی تباہ ہوئی ہے اور معاشرے میں ایک فساد نے جنم لیا ہے۔ لوگ بغیر کچھ سمجھے نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔

اس کا نتیجہ صرف اور صرف یہ نکلا ہے کہ معاشرہ انتشار کی زد میں آگیا ہے اور لوگوں میں نفرت عام ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا سے پہلے لوگ کسی کی ذاتی زندگی سے واقف نہیں تھے۔ مگر اب لوگ دوسروں کی ذاتی زندگی سے واقف ہیں۔ لوگ دوسروں کی تصاویر کو پسند کرتے ہیں اور تبصرہ بھی کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں لوگوں کے اندر شو آف کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ بندے کو وہی سب کچھ دکھانا چاہیے جو کچھ اللہ پاک کی ذات نے ان کو عطا فرمایا ہے۔ یہ دکھاوا کا بہت بڑا نقصان اس معاشرے کے تباہی ہے۔ اس کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ اب لوگوں کے پاس کسی سے براہ راست بات چیت کرنے کہ یہ مل بیٹھ کر حال حوال پوچھنے کا بھی وقت نہیں۔ دوریاں اور بڑھ گئی ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس سوشل میڈیا نے ہمیں ساتھ جوڑ دیا ہے۔ دوریوں کے علاوہ اس نے اختلافات اور خود کشی کے رجحان کو بھی بڑھایا ہے۔

بلیک میلنگ اور فراڈ اس سے بہت عام ہوگیا ہے اسی طرح کئی معصوم بچیوں کی زندگی بھی خراب ہوئی ہے۔ ان مسائل سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ اپنی ذاتی زندگی کا پرچار سوشل میڈیا پر نا کریں۔ اپنی ذاتی زندگی کو سوشل میڈیا سے دور رکھیں اور نفرت یا انتشار کو کبھی ہوا نا دیں۔ پچھلے پانچ سالوں میں ہزاروں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اس سوشل میڈیا کی وجہ سے جن سے لاکھوں لوگوں کو کئی قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس لیے اس قسم کی پریشانیوں سے بچنے کے لیے اپنی ذاتی زندگی اپنی ذات تک محدود رکھیں۔ جو لوگ اپنی ذاتی زندگی کو سوشل زندگی سے دور رکھتے ہیں وہ پر سکون ہیں اور اس کا مثبت استعمال بھی کر رہے ہیں۔ خدارا اپنا اور اپنی فیملی کا خیال کریں اور خود کو اور اپنی فیملی کو وقت دیں۔ ان سوشل میڈیا سے دور رہیں اور اپنا قیمتی وقت کچھ سیکھنے سیکھانے میں صرف کریں۔ تاکہ آپ اور آپ کی فیملی کسی قسم کی پریشانی سے بچ سکے۔

Danish Hameed

I’m a student, researcher & a writer. I started writing articles 2 years ago. I’m 19 years old and always try to work for the betterment of country.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!