افسانے

جانے کیوں لوگ محبت کیا کرتے ہیں

جی ہاں! محبت میں معلوم نہیں کتنے دل ٹوٹے ، کتنے دل برباد ہوۓ ۔ کچھ لوگ تو دل توڑنے میں اتنے ماہر ہوۓ ہیں ، مٹی کے برتنوں کی طرح توڑتے ہیں ۔ دل کے بدلے میں درد دل دیا کرتے ہیں ۔ لوگ پھر بھی زدی ہیں ، جانے کیوں لوگ محبت کیا کرتے ہیں
ثناء اور صمائمہ دونو سگی بہنیں تھی ۔ مگر دونوں کے کردار اور صحبت میں ڑمیں آسمان کا فرق تھا ۔
ثناء اک بے حس انسان تھی ۔ اسے اپنے سوا کسی اور پر رحم نہیں آتا تھا ۔ جبکہ صائمہ اس کے مقابلے میں بہت نرم دل لڑکی تھی ۔
صائمہ نے ڑندگی میں ایک ہی انسان سے محبت کی اور اسی کے لیے زندگی برباد کر ڈالی اور اسی کا انتظار کرتی رہی ۔
مگر ثنا کا کام ہر اک مرد کے دل اور جیب سے کھیلنے تک کا تھا ۔ وہ خد کو بہت تیز اور ہوشیار سمجھتی تھی ۔
جبکہ صائمہ اپنے ماموں کے بیٹے (عدنان) کو پسند کرتی تھی اور عدنان بھی اس سے پیار کرتا تھا ۔ وہ دونوں اپنی محبت کو حاصل کرنا چاہتے تھے مگر افسوس ان کے درمیان ثناء آگئ ۔ جوکہ حوس اور لالچ سے بھری ہوئ تھی ۔ عدنان کے ماں،باپ اس رشتے کے لیے رضامند نہ تھے مگر پھر بھی عدنان نے منت سماجوں سے اپنے ماں باپ کو اس رشتے کے لیے اپنی پھپھو کے گھر بھیجا ۔ مگر ثناء اپنی عادت سے مجبور تھی ۔ ثناء نے ان دونوں کے ایک نہ ہونے کی قسم کھا لی اور کہہ کہ عدنان کے بڑے بھی کو میں پسند کرتی ہوں ۔ میرا رشتہ لیں گیں تو صائمہ کا ملے گا ۔ عدنان کا بڑا بھائ خوبصورت تھا ، اپنا کاروبار تھا اور عدنان کے ماں باپ ثناء کی حرکتوں سے اچھی طرح واقف تھے ۔ پھر وہ کیوں ثناء کا رشتہ لیتے ۔
مگر پھر بھی عدنان نے انہیں اپنے اور صائمہ کے رشتے کے لیے منا لیا ۔ لیکن ادھر ثناء نے اپنی ماں کو اپنی باتوں میں ایسا لیا کہ انکار کروا دیا ۔
پھر کیا ہونا تھا ثناء نے اپنا رخ اپنی بھابھی کے بھیئ کی طرف کر لیا ۔ اس کا نام سنی تھا ۔ سنی کا ایک بڑا بھائ بھی تھا ۔ بھابھی کی طرف اپنے رشتے کی بات چلا دی ان لوگوں نے رشتے کے لیے اک شرط رکھ دی کہ ثناہ کا رشتہ اس صورت ہو گا اگر صاءمہ کا رشتہ بڑے لڑکے کے لیے ہو گا ثناہ نے سب کے سامنے یہ ڈرامہ کرنا شروع کیا کہ میں سنی سے بہت پیار کرتی ہو اس کے بغیر رہ نہیں سکتی مگر ثناہ نے زندگی میں کسی سے بھی پیار نہیں کیا ہمیشہ دولت کے پیچھے بھاگنے والی لڑکی تھی رشتے کی بات صاءمہ اورعدنان کے لیے بہت بڑا دہھچکا تھا ثناہ نے اپنی والدہ اوربھابھی کے ذریعے رشتے کی ہاں کردی صرف بدلہ لینے کہ لیے کہ عدنان کے ماں باپ نے میرے رشتے کے لیے انکار کیں کیا مگر صاءمہ اور عدنان بیچارے دونوں اس بات سے پڑپ رہے تھے عدنان نے آخر کار صاءمہ کو ایک پیغام بھجا کہ اگر گھر والے نہیں مانتے تو ہم بھاگ جاتے ہیں مگر صاءمہ نے انکار کر دیا کہ بھگنا نہیں ہے میں کوشش میں ہوں کہ امی کو منالوں اتنے میں جب ثناہ کو یہ پتاہ چلا کہ عدنان نے یہ پیغام دیا ہے اس نے دن اور تاریخ مقرر کروالیے اوردن بھی صرف چار پانچ ۔ ثناء نے جادو ٹونے شروع کر دیے کہ صائمہ عدنان کو بھول جاۓ ۔ بارات سندھ سے آنی تھا ۔
صائمہ : مجھے نہیں معلوم کب میرا نکاح ہوا اور میں سندھ روانہ ہو گئ ۔ عدنان باربار کال کرتا رہا لیکن معلوم نہیں مجھے کیا ہوا ۔ پتا تو تب چلا جب دونوں بہنیں بیاہ کر کراچی پہنچ چکی تھی ۔
ثناء تو بہت خوش تھی کہ میں نے اپنا پیار حاصل کر لیا لیکن صائمہ اپنا پیار حاصل نہ کر سکی ۔ مگر صائمہ کو جب ہوش آیا تو رو رو کر کہنے لگی کہ ثناء تم نے بڑی بہن ہو کر میرے ساتھ یہ کیا کیا ۔ اتنے میں دونوں کے شوہر بھی آگۓ ۔
صائمہ رو رو کر کہہ رہی تھی کہ میں عدنان سے پیار کرتی ہوں ۔ میں تمہارے ساتھ زند گی نہیں گزار سکتی ۔
صائمہ نے اپنا دروازہ بند کر لیا اور روتی رہی جب تک کہ سب گھر والے نہیں آگۓ ۔ آخر ماں اور بھائ دونوں بہنوں کو واپس لے آۓ ۔ صائمہ نے صاف انکار کر دیا کہ میں عدنان کے بغیر کسی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ۔اتنے میں پناہ میں بننے والی ہوگئ ۔ کسی عقل مند کا قول ہے کہ : جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ۔
سنی نے کہا اگر میرے بھائ کا گھر برباد ہوگا تو میں پناء کو رکھوں گا ورنہ نہیں ۔
صائمہ نے عدالت کی طرف سے خلاء لے ہی ۔ مگر جانے کیوں لوک محبت کیا کرتے ہیں ۔ عدنان کے میں باپ اب صائمہ کے رشتے کے لیے تیار نہ تھے ۔ بلکہ عدنان کو اس کی والدہ نے اپنے واسطے دے کر اپنی بھتجی کے لیے ہاں کردی ۔
اب عدنان کہتا ہے کہ “میں بھی مجبور ہوں ۔ اپنے ماں باپ کو بار بار دکھ نہیں دے سکتا ۔ کچھ دن میں عدنان کی اپنی کزن کے ساتھ شادی ہے ۔ آج ثناء اپنے بیٹے کو لے کر دھکے کھا رہی ہے ۔ اور صائمہ بیچاری نہ ادھر کی رہی نہ ادھر کی ۔ صائمہ کا کہنا ہے کہ “میں ساری زندگی عدنان کے انتظار میں گزار دوں گی ۔ جو لوگ دوسروں کا دل توڑتے ہے ۔ وہ خود بھی آباد نہیں ہوتے ۔ پیار میں صرف جدائ ہی ملتی ہے ۔ پھر بھی بانے کیوں لوگ محبت کیا کرتے ہیں ۔

nusrat hameed abdul hameed

میں ایک لکھاری ہوں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!