کھیل

پارا اولمپک گیمز(PARALYMPIC GAMES)

پارا اولمپک کھیلیں ایسے افراد کے لیے منعقد کی جاتی ہیں جو حرام مغز یا ریڑھ کی ہڈی کے متاثر ہونے کے باعث معذوری کا شکار ہو چکے ہوں۔ان کھیلوں کا انعقاد ہر چار سال بعد کیا جاتا ہے۔اور یہ کیھلیں ہر چار سال بعد اسی شہر میں منعقد کی جاتی ہیں جہاں پر گرمائی اولمپک منعقد ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے۔یعنی موسم گرما کے اولمپک کھیلوں سے قبل گرمائی اولمپک کا میزبان شہر پارا اولمپک کھیلیں منعقد کرواتا ہے۔

پارا اولمپک گیمز کی ابتداء

پارا اولمپک گیمز کی ابتداء دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد ہوئی۔1948ء میں برطانیہ کے ایک لارڈ سر لودوگ گٹ مین نے دوسری جنگ عظیم میں شامل ہونے والے افراد کی تربیت کی اس کے لیے ایسے افراد کو چنا گیا جو حرام مغز یا ریڑھ کی ہڈی کے متاثرہ تھے اور ان کے درمیان مختلف کھیلوں کے مقابلے کروائے گے۔
ان کے کامیاب انعقاد کے باعث چار سال بعد ہالینڈ کے معذور کھلاڑیوں نے ان میں دلچسپی لی اور ان میں شرکت کر کے اس کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کا کردار ادا کیا۔
یوں پہلی دفعہ باقاعدہ طور پر 1960ء میں اٹلی کے دارالحکومت روم میں ان کو اولمپک سٹائل کے طور پر منعقد کیا گیا جس میں نہ صرف حرام مغز یا ریڑھ کی ہڈی کے متاثرہ افراد نے شرکت کی بلکہ دیگر معذور افراد کو بھی شرکت کا موقع دیا گیا۔

پارا المپک کے درجات

پارا اولمپک کھیلوں کو چھ مختلف درجات میں تقسیم کیا گیا یا ایونٹس رکھے گئے۔اٹلی کے شہر روم میں باقاعدہ کھیلوں کے انعقاد میں دنیا کے دیگر ممالک نے بھی دلچسپی کا اظہار کیا اور دن بدن اس کی ترقی میں پیش رفت ہوتی رہی یوں روم میں کھلاڑیوں کی تعداد فقط چار سو تھی لیکن سڈنی تک کے سفر کیں اپنا ریکارڈ بہت ذیادہ بڑھا چکی تھی سڈنی کے پارا اولمپک میں 122 ممالک کے ہزاروں کھلاڑیوں نے شرکت کی

پارا اولمپک کے انعقاد کی وجہ

معذور افراد کے سپیشل اولمپکس کے انعقاد کا مقصد تمام ایسے افراد کے اندر جینے کی امنگ اور حوصلہ کو بلند رکھنا مقصود ہوتا ہے اسی لیے ان کھیلوں میں تمغوں کو بہت ذیادہ رکھا جاتا ہے تا کہ کوئی بھی معذور فرد دل برداشتہ نہ ہو بلکہ اس طریقہ سے بھی ان خصوصی افراد کو حوصلہ مندی دی جاتی ہے

پاکستان اور پارا اولمپک

پاکستان کے خصوصی کھلاڑیوں نے پارا اولمپک کھیلوں میں بھر پور شرکت کی ماسوائے اسرائیل اور روس میں منعقد ہونے والے مقابلوں کے اولمپکس کے۔اور بہت سے تمغے پاکستان کا نام روشن کرنے کے لیے حاصل کیے۔
بقلم۔سکندر شاہ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button