اینٹیلیجنس وار فئیر کی ماہر “آ ئی ایس آئی”

Iکہتے ہیں محبت اور جنگ میں سب جائز ہے ۔ اینٹیلیجنس وار فئیر میں تو ویسے بھی کوئی اصول یا قائدہ نہیں ہوتا اور اگر کچھ ایسا ہوتا بھی ہے تو بھارت خود ان تمام قوانین اور اصولوں کو کلبھوشن یادیو جیسے کارندوں کے ذریعے روند چکا ہے۔ جیسے حق و باطل کی لڑائی ازل سے چلی آ رہی ہے بالکل اسی طرح پاکستان کو شروع دن سے ایک جارح دشمن کا سامنا رہا ہے جو اکھنڈ بھارت جیسے ناپاک خواب دیکھتا ہے۔ ایسے ہی جارحانہ عزائم رکھتے ہوئے وہ پاکستان کے خلاف ہر غیر انسانی چال اور سازش کرتاہے۔ وہ کبھی سربجیت سنگھ تو کبھی کلبھوشن یادیو جیسے چیلے بھیجتا ہے، لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اینٹیلیجنس وار فئیر کے بانی یوسف بن تاشفین، علی بن سفیان اور صلاح الدین ایوبی تھے اور آئی ایس آئی میں ان ہی عظیم جرنیلوں کے وارث پائے جاتے ہیں جو اللّٰہ رب العزت کے فضل سے نہ کبھی جھکتے ہیں، نہ ڈرتے ہیں اور نہ ہی بکتے ہیں البتہ بھارتی فوج میں ضرور ایسے ضرورت مند اور لالچی موجود ہیں جو جھکتے بھی ہیں، بکتے بھی اور موت سے ڈر کے ابھینندن بھی بنتے ہیں۔ اسی کو انٹلیجنس امپرووائزیشن کہا جاتا ہے اور آئی ایس آئی نے اسے عملی طور پر ثابت کر دیا۔
انڈیا ٹوڈے نے اطلاع دی ہے کہ ، راجستھان کے ایک شخص کو پاکستان انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے لئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ اسے آئی ایس آئی کے ذریعہ خواتین کی عریاں تصاویر کے ساتھ راغب کیا گیا تھا۔ ملزم نے کہا کہ اس طرح کی مزید تصاویر کا اس کو لالچ تھا جس کی وجہ سے وہ حساس فوجی معلومات لیک کرتا تھا۔
یہ سب کچھ سوشل میڈیا پر اس وقت ہوا جب ایک اکاؤنٹ اس کے قریب پہنچا اور واقفیت والی بات چیت شروع کردی جس کی وجہ سے بعد میں اس میں شہوانی تصاویر کا تبادلہ ہوا۔ انہوں نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ ایک خاتون جس نے آئی ایس آئی کی طرف سے اس سے بات کی تھی اس سے، وہ اکثر بھارتی فوج اور سرحدی علاقوں میں ان کی نقل و حرکت کے بارے میں حساس معلومات کے بدلے میں برہنہ تصاویر شیئر کرتا تھا۔
مزید برہنہ تصاویر اور لمبی گفتگو کے لئے اس کے لالچ نے مجھے اپنے ملک ہندوستان سے دھوکہ دیا اور اس کے بدلے میں میں نے آئی ایس آئی کو زیادہ حساس انٹیلی جنس معلومات شیئر کیں۔

3 thoughts on “اینٹیلیجنس وار فئیر کی ماہر “آ ئی ایس آئی”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *