خوبصورتی اور جلد

استاد

السَّلَامُ عَلَیکمْ!
میں نے اپنے پاس ٹیوشن پڑھتے بچوں میں سے چند بچوں اور بچیوں کو نوٹس کیا کہ جب ان کو آئینے کے سامنے بٹھا دیا جائے تو ہر منٹ بعد بلکہ ہر بار موقع ملتے ہی آئینہ دیکھتے۔ میرے منع کرنے کے باوجود جب ان کو لگتا کہ میرا دھیان ان کیطرف نہیں ہے میں کسی اور کے ساتھ کچھ ذیادہ مصروف ہوں تو پھر وہ آئینہ دیکھتے۔ خیر یہ اس وقت کی ایک عام سی بات تھی میرے لیے بھی اور ان سب کے لیے بھی مگر چونکہ میرا تعلق شعبہ تعلیم سے ہے اور میں ایک استاد ہوں تو صبح سکول جانے کے لیے آئینے کے سامنے جو تیاری کرنی ہوتی ہے جس میں تقریبا دس منٹ لگتے ہیں اس دوران آئینہ دیکھتے ہوئے مجھے ان بچوں کی حرکات یاد آگئیں۔کہ خود کو آئینے میں دیکھ کر انسان کبھی بھی اکتاتا نہیں ہے۔ پھر میں نے اپنے چہرے کا بغور جائزہ لیا کہ ڈھونڈنے سے بھی کوئی نقص نہیں ملا۔اور سوچ آئی کہ اللہ نے بھی کیا خوب بنایا کہ بائیس سال سے اس صورت کو دیکھ رہا ہوں پھر بھی نہیں اکتاتیا اس میں کوئی عیب نظر نہیں آتا۔

اللہ کی دی ہوئی شکل میں میرا کوئی کمال نہیں میرا کمال تو میرا عمل اور کردار ہے۔ کیا وہ اللہ کی بنائی گئی شکل سے ذیادہ یا کم سے کم اتنا حسین ہے؟جواب نفی میں تھا۔

جس چیز کی روز آخرت باز پرس ہونی ہے وہ تو اعمال اور کردار یعنی دوسروں کے ساتھ رویہ ہے۔اس کو بہتر بنانے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟

سب سے پہلا کام اپنی اصلاح ہے۔ اور دوسروں کی اصلاح سے اجتناب ہے۔اور اگر ہم ان دونوں کاموں کے ریورس چلیں گے تو خرابی پیدا ہو گی۔اپنی اصلاح اس وقت ممکن ہے جب آپ خود کو پھنے خان سمجھنا چھوڑ دیں اور ہر دن کا آغاز اس جوش اور جزبے سے کریں کہ آج کچھ نیا سیکھیں گے یا کچھ نیا سیکھنے کو ملے گا۔اور دوسرا یہ کہ دوسروں کو خود سے کمتر سمجھنے کی سوچ کو زرا قابو میں کرنا ہوگا۔ انگریزی کی ایک کہاوت ہے کہ
” آپ دنیا کو جیسا دیکھنا چاہتے ہو ویسے خود بن جاؤ”۔

بے شک عمل تبلیغ سے بہتر ہے۔اور وقتا فوقتا فضل ربی کا شکر بجا لانے سے عاجزی اور انکساری میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں علم حاصل کرنے اور سو فیصد اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

Fazal Nabeel

میرا نام فضل نبیل ہے اور میرا تعلق راولپنڈی سے ہے۔میری تعلیم بی اے ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button