اسلامک

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک عورت کے متعلق بڑا فیصلہ۔

کائنات سیدنا امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اندیشی کا ایک عجیب ترین واقعہ کی مذمت میں بیان کیا جارہا ہے اللہ فاروقی میں ایک عجیب و غریب مقدمہ پیش ہوتا ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ایک انصاری نوجوان لڑکا کہتا ہے کہ جناب میں فلاں عورت کا بیٹا ہوں مگر وہ مجھے اپنا بیٹا ماننے سے ہوتا ہے کہ تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے جناب میں اس کو کیا پیش کرسکتاہوں عورت سے پوچھا گیا کہ کیا معاملہ ہے اس نے سرے سے انکار کر دیا کے میری بک میں نے شادی کی پیشکش کر دیا جنہوں نے یہ اس نے کبھی کسی سے شادی نہیں کہاں سے پیدا ہو یا لڑکا اور وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس کا بیٹا ہے یہ سراسر ہے امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک عورت پر گویا ضلع کا الزام لگایا ہے تو اس علم اور ابھی تک جاری کی جائے اس پر حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ اور اس مقدمے کے بارے میں سوچنے لگا اس سارے خون عثمان بن عدی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس مقدمے سے متعلق سب لوگوں کو بلایا اور مسجد نبوی میں بیٹھ گئے اور اس سے پوچھا کہ کیا یہ نوجوان میرا بیٹا نہیں ہے اس نے کہا یہ میرا بیٹا واقعہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ان سے کہا کہ جو ان دنوں میں ویسے ہی انکار کر دو یہ اور تمہاری ماں نہیں ہے جیسا کہ اس نے تمہیں اپنا بیٹا ماننے سے انکار نوجوان عرض کرنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے یہ میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ میں جانتا ہوں کہ یہ میری ماں ہے اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ تم کو ماں کہنے سے انکار کردوں تم اس شھر کو ماننے سے انکار کر دیا اور میں آج سے تمہارا باپ اور میرے بیٹے اور تمہارے بھائی نے غلطی کی اور یہ اس عورت اپنی ماں ماننے سے انکار کرتا ہوں اللہ تعالیٰ عنہٗ نے عورت کے تولیا سے ارشاد فرمایا کہ کیا اس کے بارے میں میری بات مانی چائے میں جو فیصلہ کروں گا یا تمہارا فیصلہ کروں گا اور یار جی ہاں ہاں کیوں نہیں بلکہ ہمارے سلسلے میں جو فرمائیں گے اس کو ماننے کے لیے تیار ہے سونے کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں نے اس اجنبی خاتون کی شادی اس نوجوان سے کر رہے ہو کیا کر رہے ہو کیا گیا اور گیلا کر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور جوان سے کہا کہ اپنی بیوی کا حق ہو ہمارے پاس جب تمہارے پاس کے نشانات موجود ہو تو وہ عورت کہنے لگے اللہ الحسن یہ نوجوان جو میرے حق میں کٹ جائے گا یہ تو اللہ کی قسم میرا بیٹا ہے اور آپ کے سامنے یہ اقرار کرتی ہوں کہ میرا بیٹا ہے سکتا ہے جب کہ تم نے کچھ دن پہلے اسے اپنا بیٹا مانگنے سے انکار کیا تھا اور کیا تھا وہ الگ بات ہے اس نوجوان کا باپ ایک حبشی کا میرے بھائیوں نے اس کے ساتھ میری شادی کر دی میرا بچہ پیدا ہوگا میں نے اسے پیدا کیا اس کی صورت بنائی پھر میں نے اپنا بیٹھ کر دیا ارشاد فرمایا اس میں کسی اور کام کرسکتا ہوں کہ آپ نے اس نوجوان کو اس عورت کے ساتھ بھیج دیا اور اس کا نصب بھی اسی کے ساتھ ثابت کر دیا اللہ اکبر امیر المومنین علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ اور یہ ان کی وراثت ہے عطا ان کی وراثت ہے مومن

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button