اسلامک

حضرت نوح علیہ السلام

حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ تعالی نے دین سے بھٹکے ہوئے لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا تھا ان لوگوں نے پتھروں کا بھوت بنا کر اس کی عبادت کرتے تھے حضرت نوح علیہ السلام نے ان لوگوں کو اللہ تعالی کا پیغام پہنچایا اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا لیکن وہ نہ مانے ان لوگوں نے حضرت نوح علیہ السلام کو بے انتہا ستایا اس طرح کیٔ صدیاں بیت گئیں ایک دن حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ کے حکم سے آپ علیہ السلام کے ہاں آئے اور جنت کی ایک شاخ لا کر آپ علیہ السلام سے کہا کہ ایک کشتی بناؤ نوح علیہ سلام نے کشتی بنانا شروع جبرائیل علیہ السلام ان کو بتلاتے رہتے کئی سال بعد کشتی تیار ہوگی حضرت نوح علیہ السلام کے گھر میں ایک تنور تھا جو جو نسل در نسل حضرت آدم علیہ السلام سے نوح علیہ السلام تک پہنچا تا عذاب کی پہلی نشانی اس تنور سے پانی اگلنا تھا جب تنور سے پانی اگلنےلگا تو آپ علیہ السلام نے ایمان والوں سے کہا

کشتی میں سوار ہو جانا

کشتی میں سوار ہو جاؤ جب جانور اور چرند پرند سب سوار ہوگئے تو زمین جگہ جگہ سے شق ہونا شروع ہوئی تو تھوڑی دیر بعد اسمان نے بھی اپنے دہانے کول دیے کافر یہ سمجھتے تھے کہ یہ تھوڑا سا طوفان کچھ دیر بعد رک جائے گا لیکن طوفان نے ہر طرف قیامت برپا کردی زمین پر سب کچھ غرق ہو رہا تھا تب ان پر خوفطاری ہوکر ان لوگوں نے پہاڑوں پر چڑھنا شروع کیا پانی بلند سے بلند تر ہونے لگا ان لوگوں میں نوح علیہ السلام کی کافر بیوی اور کافر بیٹا بھی شامل تھا جو اپ علیہ السلام نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو اسے اپنا بیٹا پہاڑ پر چلتا ہوا نظر آیا بیٹے کو دیکھ کر آپ علیہ السلام کے محبت نے جوش مارا اور آپ علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو پکارتے ہوئے کہا کہ بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہو جاؤ بیٹا بولا کہ نہیں میں بہت جلد پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا ہر طرف قیامت کا شور برپا تھا اس دوران آپ علیہ السلام نے اپنے کافر بیوی کو ڈوبتے دیکھا اور اپنے بیٹے کو آخری موجوں سے لڑتے دیکھا تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی کو پکارا اے میرے رب میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اس کے جواب میں ارشاد ہوا کے اے نوع وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں کسی چیز کی درخواست نہ کرو جیسا کہ تمہیں علم نہیں اتنے میں ایک موج آئی اور ان کے بیٹے کو ہمیشہ کے لیے آنکھوں سے چھین لیا آخرکار تمام پہاڑ پانی میں ڈوب گئے پانی کیٔ مہینوں تک زمین پر کھڑا رہا چھ ماہ اور کچھ دن یہ کشتی اللہ کے حکم سے پانی پر تیرتی رہی پھر یہ کشتی اللہ کے حکم سے کوہ جدی پر ٹھہری اور اللہ کے حکم سے سب کشتی سے اتر گئے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button