عوام کی آواز

خاموشی ایک عبادت بھی

انسان اگر حسن اخلاق کے ساتھ بول چال رکھے تو وہ لوگوں کے دلوں میں راج کرتا ہے۔ مگر آج کے اس دور میں سب سے زیادہ دوریاں منہ کی وجہ سے ہوئی ہیں کیونکہ لوگ بغیر سوچ کر بولتے ہیں اور اس سے رشتوں میں دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اگلے زمانے کے لوگ کہا کرتے تھے کہ پہلے طولو پھر بولو۔ یہ بات بڑی اہم ہے کیونکہ سوچ سمجھ کر اگر ضروری بات بھی ہو تو کرنی چاہیے۔ نہیں تو خاموش رہا جائے کیونکہ خاموش رہنے میں ہی عبادت ہے۔ اس سے انسان گناہوں سے بھی محفوظ رہتا ہے اور غیر ضروری باتوں سے بھی۔ بول چال میں حسن ہو تو اللہ پاک اس میں عاجزی بھی عطا کرتا ہے۔ حسن اخلاق ایک بہت بڑی خوبی ہے جو کم لوگوں کے پاس ہوتی ہے اور کم لوگ ہی اسے سنبھال پاتے ہیں۔ میں بہت سارے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو ماضی میں دوسروں کو گالی گلوچ دیتے تھے مگر آج وہ سب دوست بنے ہوئے ہیں۔

یہاں ہر کوئی اپنے ذاتی مفاد کی حد تک اچھا ہے ورنہ ہر رشتہ ضرورت کا رشتہ ہے۔ جب تک آپ لوگوں کے لیے میسر ہوں گے آپ ان کو اچھے لگے گیں۔ اس سے بہتر ہے اپنی ترجیحات طے کریں اور خاموشی سے ان پر عمل پیرا ہوں۔ جتنا آپ خاموش رہیں گے اتنا آپ سننے کے قابل رہیں گے۔ حسن اخلاق کو نبی کریم نے اپنایا اور لوگوں کو بھی اس کی تلقین کی۔ آپ اکثر اوقات خاموش رہتے اور ذکر اللہ کرتے۔ اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ سمجھ بوجھ کر الفاظ کا چناؤ کیا جائے تاکہ بعد میں کسی قسم کا پچھتاوا نا ہو۔ ملکی سیاست میں بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں۔ ان میں سب سے تازہ مثال اپوزیشن کی ہے جو ایک دوسرے پر سخت الفاظ استعمال کرتے تھے مگر آج وہ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ماضی میں ایک دوسرے کے ساتھ سخت الفاظ میں بات کیا کرتے مگر اب وہ ساتھ ساتھ ہیں۔ کیونکہ ہر رشتہ ضرورت کا رشتہ ہے۔

Also Read:

https://www.newzflex.com/56701

الفاظ کا آئینہ بہت سخت ہوتا ہے اگر بندے کو یہ دیکھا دیا جائے تو۔ اس لیے کہ ہم ماضی میں ایسے الفاظ استعمال کر جاتے ہیں جو بعد میں ہم سوچتے ہیں کہ اگر یہ نہیں کرتے تو رشتے بچ جاتے۔ اس چھوٹی سی تحریر کا ایک ہی مقصد ہے کہ انسان اپنے الفاظ کو سوچ سمجھ کر بولے۔ بہتر ہے خاموش رہیں اور ذکر اللہ اور ذکر رسول ادا کریں۔ اس کے دو فاعدے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ غیر ضروری باتوں سے بچے رہتے ہیں۔ دوسرا آپ کو ان اذکار کا ثواب بھی ملتا ہے۔ اللہ پاک آپ کو ان سب باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں اور آپ سب کو خوش رکھے۔

Danish Hameed

I’m a student, researcher & a writer. I started writing articles 2 years ago. I’m 19 years old and always try to work for the betterment of country.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
نوٹ: اگر آپ اپنی پروڈکٹس،سروسز یا آفرزکا مفت اشتہار لگوانا چاہتے ہیں تو نیوزفلیکس ٹیم، عوام تک آپ کا پیغام پہنچانےکا موقع فراہم کر رہی ہے. شکریہ_ اپنا پیغام یہاں لکھیں
error: Content is protected !!

Adblocker Detected

Note: Turn Off the AdBlocker For this Site