اسلامک

دنیا جو چھوڑ دی ہے عقبٰی بھی چھوڑ دے

دنیا جو چھوڑ دی ہے عقبٰی بھی چھوڑ دے!
تقریباً میں دوسری کلاس میں تھا تو ہم پانچ دوست بنے اور پھر ہم میٹرک تک ساتھ پڑھے۔ میٹرک کے بعد باقی دوست تو پڑھائی ترک کر کے اپنے اپنے کام کاج میں مصروف ہو گئے لیکن میں نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ ہم دوست اکثر اپنی بیٹھک سجاتے اور طرح طرح کی سرگرمیاں کرتے۔ یہی تسلسل اب بھی جاری ہے۔ اس میں اب کچھ روکاو ضرور آیا ہے لیکن پھر بھی ہم کسی نہ کسی دن پلین کر کے اکٹھا ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح ایک دن ہمارے ایک دوست ابوبکر (ہمارا کلاس فیلو) نے کال کی کہ میں آ رہا ہوں آپ لوگوں سے کچھ کام ہے باقی دوستوں کو بھی بلوا لو۔ ابوذر, قمر٫ علی رضا, ارسلان اور میں ہم سب اکٹھے ہوئے۔ ابوبکر آیا جس کے ساتھ سر زاھد تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے ساتھ ہم لوگوں نے ایک چھوٹی سی نشست کرنی ہے ہم نے کہا ٹھیک ہے سر۔ کافی دیر بیٹھے رہے سر زاھد نے ہمیں انسان کی روح اور جسم سے متعلق انتہائی متاثر کن باتیں بتائیں اور بلکل ہمارے لیول پر آ کے۔ یقین جانیے کہ ہم ایک سیکنڈ کے لیے بھی بور نہیں ہوئے۔ ہم سب دوست ان سے بہت زیادہ متاثر ہوئے کیونکہ انہوں نے وہ باتیں بتائیں جن سے پہلے ہم واقف نہیں تھے۔ یہ باتیں کسی اور دن آپ سے شئیر کریں گے پہلے سر زاھد سے متعلق آپ کو تھوڑا سا بتا دوں۔جب ہم سکول لیول پر تھے تو ہمارے ایک ہیڈ ماسٹر منظور صاحب ہوتے تھے (اللہ ان کو جوارے رحمت میں جگہ دے) زاھد صاحب ان کے بیٹے ہیں اور اب سکول ٹیچر ہیں۔ اس وقت وہ ایک اصلاحی جماعت سے وابستہ ہیں جو کہ سلطان الفقر محمد اصغر صاحب نے شروع کی تھی۔
گزشتہ اتوار ہم دوستوں نے خصوصی طور پر سر زاھد سے درخواست کی کہ سر آئیے اور مزید ہماری اصلاح کریں۔ اس شب سر زاھد ہمارے دوست ابوبکر کے ساتھ آئے۔ ہماری گفتگو نیب سے شروع ہوئی اور یوں گفتگو کا سلسلہ چل نکلا۔ سر زاھد ںے اپنی گفتگو کا آغاز کیا کہ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ مومنین کے تین گروہ بلحاظ جنس اور تین گروہ بلحاظ طلب ہیں۔ اس بات کو سر نے بہت ہی احسن طریقے سے ہمیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ تین گروہ جو کہ بلحاظ جنس (مرد عورت اور ہیجڑا) اور بلحاظ طلب (طالبان دنیا طالبان عقبٰی اور طالبان مولٰی) کی تفصیل بتائی۔ بلحاظ جنس تو ہم سب کو پتہ تھا لیکن بلحاظ طلب سے ہم واقف نہیں تھے۔
طالبان دنیا یعنی دنیا کی طلب جس میں بندہ کے عبادات نماز روزہ زکوٰۃ اور حج کا مقصد صرف اور صرف دنیا کو دکھانے کے لیے ہوتا ہے۔ چاہے وہ نمودو نمائش ہو یا پھر مال و دولت۔ وہ خیر کا کام بھی کریں تو ان کا مقصد دنیاوی ہے۔ دولت کے پیچھے بھاگنا ان کا وطیرہ ہوتا ہے۔ تو اس قسم کے لوگوں کو مخنّث یعنی ہیجڑے سے تشبیع دی گئی ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد صرف اور صرف پیسہ ہے۔ ناچںنا گانا وہ کس کے لیے کرتے ہیں؟ پیسے کے لیے ہی ناں اسی لیے طالبان دنیا کو مخنّث سے تشبیع دی گئی ہے۔
اسی طرح طالبان عقبٰی یعنی عقبٰی کی طلب۔ ہماری عبادات نماز روزہ زکوٰۃ حج کا مقصد صرف اور صرف جنت ہے۔یعنی ہم جو نیک کام کرتے ہیں صرف اور صرف اس لیے کہ ہمیں جنت مل جائے۔ مطلب اشرف المخلوقات ہو کر مخلوق کو مانگنا۔ رب کی ذات خالق ہے اور ہم مخلوق ۔ خالق وہ ہے جو خلق کرتا ہے اور مخلوق وہ ہے جسے خلق کیا گیا ہو۔ کیا جنت خلق نہیں کی گئی؟ اگر کی گئی ہے پھر تو جنت بھی مخلوق ہوئی ہماری دعا کیا ہوتی ہے کہ ہمارے سارے گناہ معاف کر کے ہمیں جنت ملے۔ یعنی ہوں بھی اشرف المخلوقات اور مانگنا مخلوق کو۔اسی لیے ان کو تشبیع مٔونث یعنی عورت سے دی گئی ہے کیونکہ عورت کو شوق ہوتا ہے اپنے بناو سنگھار کا ہیرے جواہرات اور سونے کا۔ نوکر چاکر کوٹھی بنگلے کا اسی طرح ہماری عبادات بھی جنت کے لیے کسی کام کے ہو جانے کے لیے ہوتی ہیں۔
اب آتی ہے تیسری طلب طالبان مولٰی یعنی مولی کی طلب خالق کی طلب۔ جو مسلماں مومن اپنا ہر کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جزا سزا کے لیے کرتا۔ اسے نہ تو دنیا کی دولت سے غرض ہوتی ہے اور نہ ہی جنت کی فکر۔ جس کی عبادت کا محور صرف اور صرف اپنے مالک کی رضا ہوتی ہے اپنے خالق کی طلب ہوتی ہے ایسے لوگوں کو مذکر یعنی مرد سے تشبیع دی گئی ہے کیونکہ مرد ساری عمر محنت مزدوری کرتا ہے کس کے لیے صرف اور صرف اپنے بچوں کے لیے اپنے والدین کے لیے اپنی بیوی کے لیے۔ اسے اپنے سے زیادہ ان کی فکر ہوتی ہے۔
جس طرح نیب ایک قومی ادارہ برائے احتساب ہے بلکل اسی طرح ہمیں سیب یعنی ادراہ برائے خود احتساب۔ فرد واحد کا احتساب کرنا ہو گا اس سے ہمیں یہ پتہ چل جائے گہ کہ ہم جنس بلحاظ طلب کس قسم کے ہیں۔ مذکر ہیں مٔونث ہیں یا پھر ہیجڑے۔ کیونکہ انسان کو صرف وہی ملے گا جس کی وہ طلب کرتا ہے خواہش کرتا ہے وہ چاہے دنیا ہو یا جنت یا سب سے بڑھ کر اپنے خالق کی طلب۔ اب ہمیں اپنا احتساب کرنا ہو گا کہ ہم ان تینوں گروہوں میں سے کس میں ہیں۔ کیا ہمیں دنیا کی طلب ہے؟ کیا ہمیں جنت کی طلب ہے؟ یا اپنے رب کی۔ہم دوستوں نے اب یہ اعادہ کیا ہے کہ آج سے ہم مہینے میں کم سے کم ایک بار ضرور ایسی نشست رکھیں گے اور زیادہ زیادہ دوستوں کو ساتھ ملائیں گے تاکہ ہم سب کی اصلاح ہو جائے۔ اقبال رحمتہ اللہ نے کیا خوب کہا
واعظ کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراد
دنیا جو چھوڑ دی ہے عقبٰی بھی چھوڑ دے

حامدرسول

I'm the student of mass communication.. A journalist Vlogger Motivational speaker

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!