اسلامک

عشق رسول اللہ ﷺکے عملی تقاضے:

*عشق رسول اللہﷺ کے عملی تقاضے :
فرمان مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہے جس کے پاس میرا زکر ہو اس نے مجھ پر دورد نہ پڑھا تحقیق بد بخت ہے ۔ اللہ ھو اکبر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔

جناب عالی قدر دور حاضر میں انسان تذبذ ب کا شکار دکھائی دیتا ہے ۔ اس نے اپنے ہی صنم یعنی بت تراشے ہوے ہیں ۔ مال ، متاع ، کاروبار ، سٹیٹس ، یہ تو وہ کبھی وہ کبھی وہ ۔ جو دنیا میں انے کا مقصد تھا اور ہے وہ ہم اس کو کافی ہد تک بلا چکے ہیں ۔
بے وجہ کی زندگی ، غلامی کی زندگی ایمان کا مزہ نہیں دیتی ۔
مزہ کیا ہے سوال ہے ؟
اہل ایمان والے جانتے کہ ایمان کی قوت کیا ہے ۔ ایمان کے راز کیا ہیں ۔ ایمان والوں کی نشانیاں کیا ہیں ، ایمان والوں کی نوازشیں کیا ہیں ، ایمان والوں کے لیے انعامات کیا ہیں ، ان کا مقام کیا ہے ۔ یہ سب اور بہت کچھ۔
ایک ازاد شخص ہی ایمان کا مزہ چکھ سکتا نہ کے غلام ۔
اب اپ کہے گے ، ہم تو ازاز ہیں ۔ ازاد ملک میں رہتے ہیں ۔
جی ہاں بے شک ازاد ملک میں رہتے ہیں لیکین یہاں قوانین شریعت نہیں ، جمہوری نظام ہے ۔ نظام مصطفی کا نفاص نہیں ہے ۔
ہر شخص اپنے گورک دندے میں لگا ہوا ہے۔ جس کا جو جی میں ا رہا کیئے جا رہا ۔
مسلمان کا مقصد دین اسلام کی سر بلندی ، اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو راضی رکھنا۔ عشق و محبت کے جام مینا ۔
ہم بھی عاشق رسول ہیں ؟

اب اپ کہئیں گے ہم بھی عاشق رسول ہیں ۔ جناب زرہ غور کیجیے عشق کا دعوی کرنا اور ہے عاشق بننا اور ہے ۔
*عشق کی اگ نہ لگانے سے لگتی ہے
نہ بجانے سے بجتی ہے کہ جب چاہا ۔ اگ لگا لی اور بجا لی*

●دعوی سے بات نہیں بنتی ۔ عملی اقدامات سے بنتی ہے ۔ سر کی بازی لگانی پڑتی ہے ۔ محبوب کو راضی کرنا پڑتا ہے ۔ محبوب حقیقی کہ دئیے گے احکامات پر چلنا پڑتا ہے ۔ اطاعت بجا لانی پڑتی ہے ، محبوب کی اداوں کو اپنانا پڑتا ہے۔●

عملی اقدامات میں ہم ZERO زیرہ ہیں ۔ عشق کے دعوی جھوٹے ، ہم جھوٹے ، محبوب کے احکامات کو عملی جامہ پہچانا مشکل ، اور بھی خرابیاں اندر سماے ہوے ہیں ۔ لیکین دعوی ہے کہ عاشق رسول ہیں ۔

نوٹ : دل تے ہتھ رکھ سچ سچ دس
ہمارا یہ دعوی عشق کا کرنا بنتا ہے ۔

اس نوٹ کی مسال دنیا پے ہی لے لو اگر ہم اپنے ماں باپ کا کہا نہ مانے اور کہیں کہ ہم اپنے ماں باپ سے بڑی محبت کرتے ہیں۔ اور ماں باپ ہی کہ دے بیٹا جو محبت کرتے ہیں نہ وہ اپنے ماں باپ کی بات سنتے ہیں ۔
اب اپ خودی ہی دیکھ لیجیے کہ رعوی بنتا ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی اپنا فضل اپنی رحمت توفیق ہدایت ہم سب کے شامل حال فرمائے امین یا رب العالمین رحمان رحیم، اور با عمل مسلمان بناے ۔ امین یا رب العالمین رحمان رحیم

Shahab Shahid

‏ملت اسلامیہ تاریخ انسانی کی آخری مثالی تہذیب کی وارث ہے اور اس کا وجود حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر منحصر ہے۔ تاجدار ختم نبوتﷺ زندہ باد

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!