تعلیم

انا-رشتوں میں دوریوں کا باعث

اگلے زمانے میں لوگ سمجھدار ہوا کرتے تھے جو تعلق نبھاتے تھے مگر آج کل لوگ پریکٹیکل ہوگئے ہیں اور ان تعلقات سے فاعدہ اٹھاتے ہیں۔ اگلے زمانے میں لوگ ہنسی خوشی رہا کرتے تھے کیونکہ ان میں ذاتی مفاد نہیں تھا۔ ایک دوسروں کی خوشیوں میں خوش ہوتے تھے اور غم میں برابر کے شریک ہوتے۔ ان دنوں انا کسی میں نا تھی اس لیے دوریاں کم تھی کیونکہ انا دوریوں کا باعث ہے۔ پھر وقت نے کروٹ لی تو زمانے نے بھی نیا رخ کیا اور لوگ انا کے عادی بن گئے۔ انا کی سب سے بڑی وجہ دل میں بات کو رکھنا اور منفی سوچ کا ذہن میں جنم لینا ہے۔ کسی کے بارے میں منفی سوچ رکھنے سے اس کے سارے اچھے کام ایک دم سے دوسرا بھول جاتا ہے اور اسی طرح نفرت پھیلتی ہے۔ دوسرے کے بارے میں برا گمان رکھنا بھی اسی نفرت کو جنم دیتا ہے۔

انا پرست انسان کو اپنی ذات کے سوا کسی سے کوئی لگاؤ نہیں ہوتا۔ اس انا کی وجہ سے وہ اپنے پیاروں سے بھی دور ہو جاتا ہے۔ اس کا انجام بھی اچھا نہیں ہوتا کیونکہ جب رشتے دار بھی ساتھ نا ہوں تو زمانہ ویسے ہی انسان کو ختم کر کہ چھوڑتا ہے۔ اسی انا کی وجہ سے انسان اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے بھی دور ہو جاتا ہے اور زمانے کی ٹھوکریں بھی الگ سے لگتی ہیں۔ پچھلے دنوں ایک آدمی نے خودکشی کی کوشش کی مگر اللہ پاک نے اسے نئی زندگی عطا فرمائی۔ جب اس سے وجہ پوچھی گئی تو اس نے بڑی تفصیل سے بتایا کہ وہ تین بھائی ہیں۔ وہ سب سے چھوٹا ہے اور اس کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں جب کہ باقی دونوں کے پاس پیسہ اور بزنس دونوں ہیں۔ اس نے بتایا کہ اس کی لڑائی ان دونوں بڑے بھائیوں سے ہوئی تھی اور اسی انا کی وجہ آپس میں صلح نا ہوسکی۔ دونوں بھائیوں نے اپنا کاروبار الگ کیا اور آگے نکل گئے جبکہ تیسرا بھائی اکیلا رہ گیا اور اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے اس لیے وہ خودکشی کرنا چاہ رہا ہے۔

اگر ایک انسان کو اللہ پاک نے یہ عظیم رشتے عطا کیے ہیں تو ان کو سنبھال کر رکھنا انسان کا فرض ہیں۔ ماں باپ کی کمی یتیم سے پوچھوں جس کا کوئی نہیں ہوتا اس زمانے میں۔ اسی طرح بڑے بھائی کا ہونا بھی اہم ہے کیونکہ وہ باپ کی جگہ بہن بھائیوں کی پرورش کرتا ہے اور ان کو اچھائی برائی کی رہنمائی بھی فرماتا ہے۔ انسان کو ان رشتوں کی قدر کرنی چاہیے۔ اور انا کی وجہ سے مسائل کا حل موجود ہے۔ سب سے پہلے تو کسی کے بارے میں منفی سوچ نہیں رکھنی چاہیے۔ دوسرا آپ اگر کسی کو کچھ کہنا چاہتے ہیں تو ان کے منہ پر ہی کہہ دیں۔ آپ یہ گمان نا کریں کہ وہ شخص خود سمجھ جائے گا۔ آپ خود ہی اس بات کا اظہار کر دیں جو آپ کرنا چاہ رہے ہیں۔ اگر کسی کے ساتھ بات چیت ختم ہو جائے تو خود ہی صلح کر لیں کیونکہ یہ عمل نبی پاک کو مقبول ہیں۔ خود صلح کی طرف قدم بڑھائیں اور صلح کر لیں اگر آپ خود غلطی پر ہوں تب بھی۔ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ اچھے ظرف کے مالک ہیں۔ خوش رہیں اور کوشش کریں لوگ آپ کی وجہ سے خوش ہوں۔

Danish Hameed

I’m a student, researcher & a writer. I started writing articles 2 years ago. I’m 19 years old and always try to work for the betterment of country.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!