افسانے

میری کتاب

آج بہت دنوں بعد لکھنے کو دل کیا ہے کافی عرصہ
سے لکھ نہیں پا رہی تھی اک مصنف کے لۓ تب لکھنا بہت مشکل ہو
تا جب اک وقت میں بہت سی سوچیں ،خیالات،واہمے ذہن میں چل رہے
ہوتے ہیں آج چند باتیں میری کتاب سے آپ سے شیئر کرنے لگی ہوں
امید کرتی ہوں آپ کو پسند آئیں گی انشاءاللّٰه
مجھے محسوس ہورہا ہے جسے لوگوں کے رویے سہتے ہوۓ میں بھی
ان جیسی ہو گئ ہوں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخر میری زندگی
کا کیا مقصد ہے؟ کبھی کبھی ایسے لگتا ہے کہ میں سوچ سوچ کے پاگل
ہو جاؤں گی اگر ایسے ہی خیالات آتے میں گری رہی۔۔۔۔،
مجھ سے کسی نے کہا تھا آپ بہت کامیاب ہوگی ۔۔۔۔۔۔مگر مجھے یہ سن
کہ بہت حیرانی ہوئ کہ مجھ جیسے انسان کو بھی کوئ کامیابی مل سکتی
ہے؟ ؟ جس نے زندگی میں کبھی کسی انسان کی رضا نہ حاصل کی ہووہ
اللہ کی رضا اور کامیابی کا حاصل کسے ہو سکتا ہے؟؟ مگر یہ سوچ دل
کو خوشی دیتی ہے کہ اللہ نے حساب کتاب کا کام صرف اپنے سر لیا ہے
اگر انسانوں کے ہاتھ میں ہوتا تو نہ جانے کیا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،

‎‎اور اللہ جب چاہیں آپکی قسمت برے سے اچھے میں بدل

دیں اور اگر اللہ چاہ لیں تو کیا نہیں کرسکتے ۔۔۔۔ میں جب

دیکھتی ہوں اپنے اردگرد کے حالات و واقعات کو،لوگوں

کے رویوں کو تو مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ہر شخص اور

ہم سب ایک دوسرے کی مجبوریوں کو وجہ بناکر استعمال کر

رہے ہیں,یہ بات جانتے ہوۓ بھی کہ ہم غلط ہیں غلط کر رہے

ہیں خود کو روکتے نہیں اگر غلطی سے ہمارا ضمیر جاگ بھی

جاۓ تو چپکے سے اسے پھر سلا دیتے ہیں کہ کہیں ہم غلطی

سے بھی کوئ اچھا کام نہ کر لیں۔۔۔۔۔۔آج یوں لگ رہا ہے جیسے

انسان ،انسان ہونے کی حد سے آگے گزر چکا ہے۔ہم کیا سو چتے

اور کیا ہو جاتا ہے ہمارے ساتھ جیسا کبھی ہم نے سوچا بھی نہیں

ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ہی تو حقیقت ہے کہ انسان کہ بس میں انسان کا اپنا

آپ بھی نہیں رہا

گرمیوں کےدن بہت لمبےاور اداس کن محسوس ہوتے ہیں اکثر،کبھی

کبھی توایسا لگتا ہے کہ یہ سخت سہ پہریں کسی ان چاہے کسی اپنے

کے انتظار میں جلتی ہوں جیسے۔۔۔۔۔۔۔،

ایسے ہی ایک سہ پہر میں،سڑک کنارے چلتی ہوئ اردگرد کے لوگوں

سے بے خبر اپنی ہی دھن میں چلتے ہو ۓ نہ جا نے کن خیالوں میں گم

تھی،اسکے چہرے پہ اداسی خاصی نمایاں تھی ،اسے دیکھ کہ یوں لگ

رہا تھا جیسے وہ بہت بیزار ہو،پاؤں میں پہنا ہوا جوتا پوری طرح مٹی میں

اٹاہوا تھا زرد چہرا،پھٹے ہوۓ ہونٹ،کندھے پہ کالج بیگ اٹھاۓ وہ بے سدھ

سی نظریں نیچے جھکاۓ پتہ نہیں کن خیالوں میں گم تھی جون کی اس سخت

دھوپ نے اس کے حا ل کو اور ابتر کر دیا تھا

بلاآخر جب وہ گھر پہنچی تو تھکن کے مارے کھڑا نہیں ہوا جارہا تھا اس نے کند

ھے پہ لٹکے بیگ کو اک بوجھ کی طرح اتار کر ایک طرف پیھنکا اور دھڑام سے

اپنے بستر پہ گھر گئی
پہلے میں سوچا کرتی تھی زندگی بہت آسان ہے بہت صاف

ہے اس میں کوئ دکھ یا غم نہیں ہے کوئ بھی بے چینی ،کو

ئ اضطرابی نہیں ہے بس چھوٹے سے بڑا ہونا ہے شادی کر

نا ہے بس ۔۔۔۔ ساری عمر جب سے پیدا ہوۓ ہیں یہی سنا ہے

کہ خود کو ٹھیک کر لو خود کو سنوار لو اگلے گھر بھی جا نا

ہے ۔۔۔۔۔ تو ایسے میں بندہ ایسا ہی سوچے گا نہ جیسے اس کی

اور جس وجہ سے اس کی ٹرینگ کی جا رہی ہو ،یہ ایک نیچرل

فیکٹ ہے انسان کہ ساتھ کہ جو چیز یا عمل بار بار کروایا جاۓ

تو انسان کو اس کے ساتھ اٹیچمنٹ ہو جاتی ہے

مگر میرے خیال میں میں ہر رشتہ اللہ نے اس لۓ بنایا ہے تاکہ

ہم اپنے اللہ کی مصلحت کو جان سکیں سمجھ سکیں ،ہر اچھا برا

ہماری زندگی میں ہمیں مظبوط بنانے کے لۓ ہے

کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ اللہ مجھے آزمارے ہیں میں نے آج تک

کسی کا برا نہیں چاہا جان بوجھ کر تو کبھی نہیں ہاں مگر ہر انسان کی

طرح مجھ سے بھی کچھ گناہ ضرور ہوۓ ہیں مگر اس کہ باوجود یہ میں

سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اللہ مجھ پہ اتنا مہربان کیوں ہے اس سب کے

باوجود میرا دل اتنا پر سکون کیوں ہے ،

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button