اسلامک

حجر اسود پانی میں ڈوبتا نہیں

حجر اسود پانی میں ڈوبتا نہیں
نزہت قریشی
جب حضرت آدمؑ کو جنت سے نکل جانے کا حُکم ہوا اور اُن کو اس دُنیا میں اُتارا گیا تو حضرت آدمؑ نے اللہ کے حُکم سے ایک عبادت گاہ تعمیر کی جو کہ ایک چوکور عمارت تھی۔ یہ عمارت خانہ کعبہ کی عمارت ہے۔ خانہ کعبہ کی دیواریں ایک جیسی ہیں، اس لئے الگ الگ شناخت نہیں ہو سکتیں اس کے جنوب مشرقی دیوار کے گوشے میں تقریباً چار فٹ کی بلندی پرایک خوبصورت کالا پتھر نصب ہے اس پر چاندی کا فریم بنایا گیا ہے۔

یہ جنت سے لایا گیا وہ پتھر ہے جو قیمتی بھی ہے اور خوبصورت اور نایاب بھی۔ اس کی معجزانہ خصوصیات بھی ہیں۔ جو لوگ حج اور عُمرے کے لئے جاتے ہیں تو طواف اسی گوشے سے شروع کرتے ہیں۔ اور ہر طواف کے بعد اس کا بوسہ ضرور لیتے ہیں۔ اس کو حجر اسود کہتے ہیں۔ حجر عربی میں پتھر کو کہتے ہیں۔ اسود کے معنی ہیں کالا، یعنی کالا پتھر۔ اس پتھر کی چوری کا ایک بہت مشہور واقعہ ہے
یہ 317ھ کا واقعہ ہے۔ جب بحرین کے حکمران ابُو طاہر سلطان قرامطی نے مکہ معظمہ فتح کیا۔ حجر اسود کو نکال کر بحرین لے گئے 22 سال تک بیت اللہ مبارک حجر اسود کے بغیر رہا ۔ پھر 339ھ میں ایک عباسی خلیفہ مقتدی نے 30 ہزار دینار دے کر حجر اسود حاصل کیا ۔ بحرین سے حجر اسود کو لانے کے لئے ایک وفد بھیجا ایک مشہور عالم دین اور محدث عبداللہ کو اُس وفد کا سربراہ مقرر کیا۔ جب یہ وفد بحرین پہنچا تو ابو طاہر نے اُن کاشاندار استقبال کیا اور ایک خوبصورت پتھر کپڑے میں لپیٹ کر پیش کیا کہ یہ حجر اسود ہے ۔ محدث عبداللہ نے کہا کہ حجر اسود کی دو نشانیاں ہیں ۔ ایک تو وہ پانی میں ڈوبتا نہیں اور دوسری نشانی یہ ہے کہ آگ میں وہ گرم نہیں ہوتا ۔ بلکہ ٹھنڈا رہتا ہے ۔ جب اُس پتھر کو پانی میں ڈال دیا تو وہ ڈوب گیا۔ اور جب آگ میں ڈال دیا گیا تو گرم ہو کر دو ٹکڑے ہو گیا اُنہوں نے کہا یہ حجر اسود نہیں ہے ۔ پھر ایک دوسرا پتھر لا کر دیا ، مگر اُس کا انجام بھی وہی ہوا۔ جب اصلی حجر اسود کو پانی میں ڈالا گیا تو وہ پھول کی طرح پانی کی سطح پر تیرنے لگا، اور جب آگ میں ڈال دیا ۔ تو بالکل گرم نہیں ہوا بلکہ ٹھنڈا رہا ابو طاہر سلطان کے پوچھنے پر محدث عبداللہ نے کہا کہ یہ نشانیاں حضُور اکرمﷺ نے بتائی ہیں۔
میری اللہ سے دُعا ہے کہ وہ مجھے بھی اس پتھر کو چومنے کے لئے اپنے در پہ بُلا لے۔ آمین

Quraishi Jahan

I am Nuzhat Quraishi. Principal The Smart School Shabqadar Campus. I am a writer and want to write articles.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!