قرآن میں تدبر نہ کرنے کی مذمت

In اسلام
January 13, 2021

قرآن کی آیات خزانہ ہیں اور خزانوں کو فہم وتعقل وتدبر کی ضرورت ہے،آیات کریمہ میں اس نکتے کو ذکر کیا گیا ہے کہ آیات قرآن کو فہم کی ضرورت ہے یعنی انسان قرآن کو سمجھے،فقط قرآن کا ہونا یا پڑھ لینا،فہم سے خالی تلاوت،فہم سے خالی عبادت یا فہم سے خالی قرات کاکوئی فائدہ نہیں ہے۔سورہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کہ جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام گرامی پر موسوم ہے ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے کہ جو قرآن میں تدبر نہیں کرتے ہیں،فہم نہیں کرتے ہیں اور غور وفکر نہیں کرتے ہیں۔سوره مبارک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آیہ (۲۳) اور (۲۴) میں ہے کہ

اولئک الذین لعنھم اللہ فاصمھم واعمی ابصارھم 

یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور ان کے کانوں کو بہرا کردیا ہے اور انکی آنکھوں کو اندھا بنا دیا ہے۔

یعنی پہلے ان لوگوں کا ذکر کرکے،ان کے اعمال کا تذکرہ کرکے پھر فرمایا کہ ان پر خدا کی لعنت ہے اور لعنت خدا یہ ہے کہ محروم ہیں۔قرآن میں لعن درمقابلہ رحمت ہے،رحمت یعنی خدا نے اپنی نعمتیں انکو عطا کی ہوئی ہیں اور لعنت یعنی اپنی نعمتیں ان سے روکی ہوئی ہیں،انہیں محروم رکھا ہوا ہے،اس محرومی کی ایک علامت یا اس کا ایک مصداق یہ ہے کہ

فاصمھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خدا نے ان کو بہرا قرار دیا ہے،یہ آواز سنتے ہیں لیکن اس آواز کے نتیجے میں جو پیغام ہے اسے نہیں سمجھتے ہیں مثلاً آواز قرآن سنتے ہیں،آیات کی آواز ان کے کانوں میں پڑتی ہے لیکن پیغام قرآن ان کے اندر منتقل نہیں ہوتا ہے،

واعمی ابصارھم 
اور خدا نے ان کی آنکھیں اندھی قرآن دی ہیں پھر آیہ ۲۴میں فرمایا کہ

افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا 
تو کیا یہ لوگ قرآن میں ذرا بھی تدبر نہیں کرتے ہیں یا ان کے دلوں میں قفل پڑے ہوئے ہیں۔روایت میں آیا ہے کہ

رب تال القرآن والقرآن یلعنه۔۔۔(۲۶)
بہت سارے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں جن پر خود قرآن لعنت کرتا ہے۔

غور کیجئے کہ قرآن ان پر لعنت کرہا ہے حالانکہ یہ قارئ قرآن ہیں۔ایک اور روایت قرآن ہی کے حوالے سے ہے کہ جہنم میں سخت ترین عذاب ان لوگوں کو ملے گا کہ جو حامل قرآن ہیں یعنی جن کو قرآن حفظ ہے یا قرآن پڑھتے ہیں لیکن قرآن میں غور وفکر وتدبر اور عمل نہیں کرتے ہیں،چونکہ فہم مقدمہ عقل ہے،جیسے عرض ہوا تھا کہ قرآن منشور حیات انسان ہے یعنی حیات کا عملی منشور ہے اور اس پر عمل ہونا چاہیۓ،عمل کا مقدمہ یہ ہے کہ قرآن میں فہم ہو،فہم بھی مقصد اصلی نہیں ہے کہ اگر ہم نے قرآن کریم کو سمجھ لیا ادا کر دیا،فہم کے بعد اس منشور کو اپنی زندگی میں عملی بھی کرنا ہے،پس فہم ایک مقدمہ ہے

/ Published posts: 22

کی محمد سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح وقلم تیرے ہیں

Facebook