اسلامک

ماں باپ کی قدر کرنی چاہیے

آج میں ایک بوڑھے باپ کا ایسے واقعے کا ذکر کرنے جارہی ہوں جس کا میں گواہ تو نہیں ہوں، البتہ اس میں میری حیثیت ایک راوی کی ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ ایک گاوں میں ایک ادمی رہتا تھا۔ اس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ اس نے بڑے بڑے ڈاکٹروں اور حکیموں سے اپناعلاج کروایا۔ دعائیں بھی مانگی، اور آخر کار تقریبا5 سال بعد اللہ نے اسے ایک پیارا بیٹا عطا کیا۔ ہمارے دوست نے بتایا کہ ایک روز وہ ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ لیے خوشی خوشی آرہا تھا۔ اور آکر اس نے بتایا کہ اللہ نے مجھے ایک بیٹے سے نوازا ہے اور اس نے مٹھائی دوستوں میں بانٹنا شروع کردی پھر وقت تیزی سےگزرتا گیا اور کچھ سال بعد وہ اسی طرح ہاتھ میں مٹھائی لیے پھر سے آگیا۔ دوستوں نے پوچھا کہ ایک اور بچہ آگیا کیا؟ اس نے بتایا کہ دوسرا بچہ تو نہیں آیا۔ البتہ کئی سالوں سے ہمارے آلماری میں برتن صحیح سالم پڑے تھے کیوں کہ کوئی تھا ہی نہیں جو اپنی شرارتوں سے اسے توڑتا۔ اور اب میرے بیٹے نے ان برتنوں کو توڑنا شروع کر دے ہیں۔ اسی خوشی میں چاہتاہوں کہ مٹھائیاں بانٹ دوں۔ کہ آج میرا بیٹا اتنا بڑا ہو گیا کہ اس نے برتن توڑ دئیے۔
وقت بڑی تیزی سے گزرتا گیا اور بچہ جوان ہوگیا اور اسے پڑھایا اور لکھایا اور اسے اعلی تعیلم دلاہی جبکہ اس کا جوان باپ بوڑھا ہوگیا۔ اور ایک دن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس بچے کے کچھ دوست آئے تھے۔ اس کا والد ان کے لیے ٹرے میں چائے لا رہا تھا کہ ہاتھ بڑھاپے کی وجہ سے کانپنے لگے اس کے ہاتھ سے وہ ٹرے زمین پر گر گئی اور ٹوٹ گئی۔ وہ بیٹا اس پر چیخنا شروع کر دیا اور کہا کہ دیکھ کے نہیں لا سکتے ہو تو کیوں لاتے ہو؟ اس پر اس کا باپ ہنسا اور اس نے بیٹے سے کہا کہ ذرا قریب آو اور اس کو وہ سب بتا دیا کہ کیسے جب اس نے برتن توڑے تھے تو اس کے بابا نے مٹھائیاں بانٹ دی تھیں۔
یہ ایک حقیقی باپ کا واقعہ ہے۔ اس لیے ہمیں ایسی حرکتوں سے بچنا چاہئیے اپنے ماں باپ کی خدمت کرنی چاہیے اور دوسروں کو بھی ہدایت دینی چاہیے ماں باپ سے بڑھ کر دنیا میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ ہمیں اپنے والدین کی خدمت اور ان کی قدر کرنا نصیب کریں۔

Shameer Khan

I am a writer and I want to write an article for you

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!