اسلامک

حضرت شمویئل علیہ السلام

حضرت یوشع بن نون کے وفات کے بعد بنی اسرائیل توحید کی تعلیم کو فراموش کر بیٹھے دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کی اس دوران انبیاء انھیں ںسمجھاتے تھے لیکن انہوں نے بتوں کی پوجا نہ چھوڑیں جس کی وجہ سے اللہ نے ناراض ہو کر ان میں نبوت کا سلسلہ بند کر دیا ان پر کبھی عمالقه قوم حملہ آور ہوتی تو کبھی آرامی یا فلسطینی قابض ہو جاتے ان میں کوئی نبی نہیں تھا ان حالات میں ان پر جب عمالقه قوم کے ایک جابر بادشاہ جالوت نے حملہ کر دیا تو بہت سے لوگوں کو قتل کیا اور بہت سے لوگوں کو غلام بنا کر اپنا قیدی بنا لیا بنی اسرائیل ذلت و رسوائی کی زندگی گزار رہے تھے ان کے خاندان میں نبوّت کا کوئی فرد زندہ نہ تھاصرف ایک حاملہ خاتون جس کا تعلق ہارون علیہ السلام کے خاندان سے تعلق تھا اللہ تعالی نے اسے ایک بیٹا عطا کیا جس کا نام شموئیل علیہ السلام تھا جب بڑے ہوئے تو والدہ نے اسے ایک بزرگ کے ہاں علم حاصل کرنے کے لیے بھیجا جب وہ ایک بڑے عالم بن گئے تو اللہ تعالی نے انہیں نبوت سے سرفراز کیا انہوں نے بنی اسرائیل کے سامنے درس اور تبلیغ شروع کی اسرائیل کے لیے آپ علیہ السلام کی شخصیت کسی نعمت سے کم نہ تھی ایک دن اسرائیل کےچند بزرگ آپ علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا کہ ہم پر ایک بادشاہ مقرر کر دے تا کہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کرے آپ علیہ السلام نے کہا کہ اگر آپ لوگوں نے بادشاہ سے انکار کر دیا تو جس پر بزرگوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوگا ہم اللہ کی راہ میں ڈٹ کر مقابلہ کریں گے تو شمویل علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے آپ علیہ السلام کو وحی کے ذریعے مطلع کر دیا کے ہم نے طالوت کو ان کا بادشاہ مقرر کر دیا طالوت ایک غریب آدمی تھا اور چمڑا بنانے کا کام کرتا تھا طالوت نے جابر بادشاہ جالوت سے جنگ کا اعلان کیا جب بنی اسرائیل کا لشکر نہر اردن پر پہنچا تو طالوت نے ان سے کہا کہ اللہ اس نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والاہے کہ جو شخص سیراب ہو کر پانی پئے گا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہوگا اور جو صرف ایک چلو بھر کر پی لے تو ٹھیک ہے لیکن چند افراد کے علاوہ سب پانی سے خوب سیر ہوگئے اور کہا کہ آج ہم جالوت سے مقابلہ نہیں کر سکتے اور سوائے چند سو افراد کے باقی طالوت سے الگ ہوگئے ان لوگوں نے اللہ سے دعا کی کہ ہمیں فتح عطا فرمائے اللہ نے دعا قبول فرمائی داؤد علیہ السلام اس وقت طالوت کے فوج میں سپاہی تھے اس نے غلیل کے پتھر سے جالوت کو قتل کر دیا بادشاہ کے قتل ہوتے ہی اس کی تمام فوج بھاگ نکلی اور اس طرح طالوت کو فتح حاصل ہوئی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!