اسلامک

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا
جو لوگوں کے سامنے گناہوں سے پرہیز نہیں کرتا وہ تنہائی میں بھی اللہ کا خوف نہیں کھاتا اور جو شخص اپنے دل میں نعمتوں کا شکر بجا لاتا ہے تو ان کو زبان پر لانے سے پہلے ان میں اضافے کا مستحق ہوجاتا ہے
آپ نے فرمایا اللہ رب العزت کا خوف عارفوں کی چادر اور اور شوق الہی کمال یقین والوں کی صفت ہے
اللہ تعالی کے خوف سے رونا دلوں کو روشن کرتا ہے اور گناہوں کی طرف راغب ہونے سے بچاتا ہے
خوف خدا سعادتمندوں کی خصلت ہے اور انصاف پر قائم رہنا بھلے لوگوں کی علامت ہے
آپ فرماتے ہیں اللہ تعالی سے ایسے ڈرو جیسا کہ اس نے اپنی ذات مقدس سے ڈرایا ہے اور اس سے ایسا خوف کرو جو تمہیں ان تمام کاموں سے باز رکھے جو اس کی نا خوشی کا باعث بنتے ہیں
آپ نے کہا اللہ تعالی سے اس شخص کی طرح ڈرتے رہو جو اس کا کلام سن کر عاجزی ظاہر کرتا ہے گناہ ہو جانے کے بعد اعتراف گناہ کرتا ہے  اس کا حکم معلوم ہونے کے بعد ڈرتا ہے اور جلدی سے اس کی تعمیل کرتا ہے نیک کاموں میں مصروف رہتا ہے نہایت عمدگی کے ساتھ آداب الہی کو بجا لاتا ہے
جو شخص اپنے رب کا خوف رکھتا ہے وہ ظلم سے باز رہتا ہے اور  جس شخص میں تقویٰ اور پرہیزگاری زیادہ ہوتی ہے اس شخص سے گناہ بہت کم سرزد ہوتے ہیں
آپ مزید فرماتے ہیں اللہ کے خوف سے رونا عارفین کی عبادت ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت میں فکر کرنا مخلصین کی بندگی ہے
اپنے اس مالک سے ڈرتا رہے جس کی بارگاہ اقدس میں تمہیں ضرور پیش ہونا ہے اور وہاں جانے کے علاوہ اور کوئی ٹھکانا نہیں ہے
آپ نے فرمایا تمام لوگوں میں اپنے نفس کو سب سے زیادہ پہچاننے والا وہ شخص ہے جو اپنے پروردگار سے زیادہ خوف کرتا ہے اور اپنے نفس کا سب سے زیادہ خیر خواہ وہ ہے جو اللہ تعالی کا زیادہ فرمانبردار ہے
خوشی ہے اس شخص کے لئے جو عذاب الٰہی کا خوف کھائے روزے حساب کے لئے نیک عمل کمائے قدر کفایت پر قناعت کرے اور اللہ تعالی سے راضی ہو
آپ نے فرمایا اگر تمام آسمان اور زمین کسی آدمی کے گرد ہوتے اور وہ ان کے اندر بند کیا گیا ہوتا اور پھر اللہ تعالی سے ڈرتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کے لیے راستہ بنا دیتا اس کو ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا جہاں پر اس کا وہم و گمان بھی نہ پہنچتا ہو،جب تو دیکھے کہ اللہ کریم تجھے پے در پے نعمتیں بخش رہا ہے تو اس کے عذاب کا خوف رکھ رکھ
اور جب تجھ پر لگاتار مصائب بھیجے تو اس کا شکر ادا کر
اے اللہ کے بندو اللہ سے اس شخص کی طرح خوف رکھو جس کا دل آخرت کی فکر میں مشغول ہو جس کی زبان اللہ کی یاد میں مصروف ہوگئے وہ اپنے امن کے لیے ہر وقت اس کے ذات کا خوف رکھتا ہو
جو لوگ اپنے اللہ سے ڈرتے ہیں وہ گروہ در گروہ جنت کی طرف چلے جائیں گے وہ عذاب سے مامون ہوں گے ان کو کسی قسم کا عتاب نہ ہوگا وہ دوزخ سے دور رکھے جائیں گے تاکہ ان کو اس کی ہوا بھی نہ پہنچے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button