اسلامک

غیبت کرنے کا انجام

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب میں معراج کے لیے گیا تھا ۔تو میرا گزر کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جن کے ناخن تانبے کے بنے ہوئے تھے۔جس سے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔جب میں نے سوال کیا جبرائیل یہ کون ہے یہ لوگ؟ تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیں:یہ وہ لوگ ہیں جو گوشت کھاتے ہیں یعنی غیبت کرتے ہیں اور دوسروں کی عزت کو پامال کرتے ہیں۔آج کل ہمارے معاشرے میں یہی ہو رہا ہے۔کے گھر پہ کچھ عورتیں جب ساتھ میں بیٹھتی ہے۔جب ان کی باتیں شروع ہوتی ہے۔تو اس طرح باتوں ہی باتوں میں غیبت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔تھوڑا سا کیا مسئلہ ہوتا ہے کہ اپنے رشتے داروں کے خلاف بولنا شروع ہو جاتا ہے۔اور جب ان کو پتہ چلتا ہے کہ فلاں بندے سے میں نے یہ بات سنی ہے۔کہ آپ نے میری برائی کی ہے تو اس سے رشتہ داری میں مسلہ اور درار پیدا ہو جاتا ہے۔غیبت کرنے سے لوگ بلکل گھبراتے نہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے ان لوگوں کو غیبت کرنے سے کوئی شرم بھی محسوس نہیں ہوتا اب تو اب ذرا سوچیں ہمارا دین ہے اسلام تو ہم کیوں اپنے بھائیوں بہنوں کے خلاف غیبت کرتے ہیں ہمیں کیا پڑی ہے ہمیں کیا ضرورت ہے بھائی اس کو اپنی زندگی میں خوش رہنے دے آپ بھی خوش رہیں کیا ضرورت ہے آپ کو بولنا کسی کے بارے میں اگر آپ کو کسی کی خامی یا کوئی برائی نظر آتا ہے اس کو اب تنہا یہ بولے جناب آپ کی یہ عادت یہ باتیں اچھی نہیں آپ اس میں تبدیلی لائیں کیا ضرورت ہے ہم جیسے جانتے بھی نہیں ایسے لوگوں کے سامنے اپنے رشتہ داروں کے خلاف بولتے ہیں یہ غلط ہے۔غیبت سے بچیں اور گھر والوں کو بھی بچائیں ورنہ دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو سکتی ہے۔سب سے بڑی غلطی ہم یہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کے سامنے دوسرے کے خلاف برائی کرتے ہیں۔تو ہمارے بچے تو ہمیں دیکھ کر ہی سیکھتے ہیں لوگوں اللہ سے ڈرو اس کا عذاب بڑا ہی دردناک ہے۔غیبت زنا سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ایک دفعہ ایک صحابی نے حضور سے پوچھا کہ غیبت زنا سے زیادہ کیوں بدتر ہے؟تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ زنا کرنے کے بعد انسان توبہ کر لیتا ہے اور اللہ اسے معاف کر دیتا ہے اور جب غیبت کرتا ہے وہ تب تک بخشا نہیں جاتا جب تک وہ معافی نہ دیں جس کی غیبت کی گئی ہو۔حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے زنا کرنے والے کی بخشش ہو جاتی ہے لیکن غیبت کرنے والے کے لیے توبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اللہ تعالی ہمیں ان برائیوں سے بچائے آمین ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button