شوبز

آخر عورت ہی کیوں؟

آخر عورت ہی کیوں؟آج کل کے جدید دور میں بھی کہیں نہ کہیں عورت آج بھی مظلوم ہے ۔آج بھی وہ اپنی زندگی اپنی مرضی سے نہیں جی سکتی جب کے اس کے برعکس مرد آج بھی اپنی زندگی آزادی سے جی رہا ہے۔جب کہ عورت کی زندگی گھرکی چاردیواری میں ہی رہ گئی ہے۔
اگر عورت کسی مجبوری کے تحت گھر سے باہر جاتی ہے پھر بھی وہ محفوظ نہیں۔ مرد کے نام پر درندے ہر وقت اس کے آس پاس رہتے ہیں ۔لیکن عورت مجبوری کے تحت ان کی نظروں کے سامنے کام کرتی ہےاور مرد اسے کمزور سمجھ کر اس پر نظر رکھتا ہے ۔عورت سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے ۔عورت کو اپنی طرف مائل کرتا ہے مثلا اس سے پیار بھری باتیں کرتا ہے اس کے ساتھ دنیا چھوڑنے والی باتیں کرتا ہے ۔عورت کو اپنے بس میں کرنے کے لیے ہر حربہ آزمایا ہے ۔
جبکہ عورت بولی ہوتی ہےاس کو تھوڑا سا پیار ملے تو وہ اس کی طرف مائل ہونے لگتی ہے ۔عورت اس مرد کے لیے ہر وہ کام کرنے کے لئے تیار ہے جس کا اسے کہا جائے ۔عورت پیار میں سب کی ہوتی ہے وہ رشتہ مخلص ہوکے نبھاتی ہے جبکہ مرد کے لیے وہ رشتہ عارضی ہوتا ہے ۔اگر ماں اور بچوں کا رشتہ بھی دیکھا جائے تو ماں اپنے بچوں سے بہت زیادہ پیار کرتی ہے ۔عورت ہر روپ نے اپنا رشتہ باخوبی نبھاتی ہے ۔ بالآخر،عورت ہی اپنا ہر رشتہ کھو بیٹھتی ہے۔مرد اسے چھوڑ دیتا ہے جبکہ اس کی اولاد بھی اسے بڑھاپے میں چھوڑ دیتی ہے ۔تو یہ سارے مسائل صرف عورت کے ساتھ ہیں ہوتے ہیں ۔مگر عورت اپنی طرف سے ہر کوشش کرتی ہے رشتوں کو بچانے کی لیکن پھر بھی رشتے بکتے ہیں ۔اپنی زندگی میں ٹوٹ جاتی ہے اور اس کو سنبھالنے کے لئے بھی ایک مرد کی ضرورت ہوتی ہے ۔لیکن پھر عورت اس مرد پر یقین نہیں کرتی وہ مرد سے جڑے ہر رشتے سے بھاگتی ہے ۔عورت کی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ۔لیکن ان مشکلات کا سامنا کر کے عورت خود کو مضبوط کر لیتی ہے ۔وہ اپنی زندگی کی ہر لڑائی خود لڑنا سیکھ لیتی ہے ۔وہ کسی کے سہارے پھر اپنی زندگی نہیں گزارتی ۔
عورت اپنی زندگی میں ہر طرح کا دکھ دیتی ہے ۔کوئی اس کی روح کا ساتھی نہیں ہوتا سارے تعلقات اسے عارضی لگتے ہیں ۔عورت کا دل ہر رشتے سے بھر جاتا ہے پھر وہ اپنے لئے جینا شروع کرتی ہے ۔اپنی زندگی کو سنوارنے کے لیے کوشش کرتی ہے اور اس کوشش میں پھر وہ کامیاب ہو جاتی ہے ۔عورت اپنی زندگی میں رنگینی خود پیدا کرتی ہے اور وہ اپنے اللہ کے قریب ہو جاتی ہے ۔لیکن حالات عورت کو بہت کچھ سکھاتے ہیں ۔جن سے وہ تجربہ حاصل کرتی ہے اور اپنی زندگی کی گاڑی کو جلاتی ہے ۔لیکن کہیں نہ کہیں وہ ایک ایسے ہمسفر کی تلاش میں ہوتی ہے جو اس کو خوش رکھے عورت لالچی نہیں ہوتی ۔ایک عورت دوسری عورت کا دکھ سمجھتی ہے عورت میں ہمدردی کا مادہ زیادہ ہوتا ہے عورت اپنی بہت سی خوشیوں کی قربانی دیتی ہے مثلا وہ اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ دیتی ہے ۔
اس معاشرے میں عورت کو ایک عمدہ مقام حاصل ہونا چاہیے جس میں عورت اپنی خوشیوں کا اظہار کرسکے اپنی زندگی کو ایک اچھے طریقے سے جی سکے معاشرے میں خود کو محفوظ سمجھے ۔اور یہ اس وقت ممکن ہے جب معاشرے کا ہر فرد عورت کی قدر کو سمجھے گا ۔امید ہے کہ آج سے ہر فرد عورت کو عزت دے گا ۔آخر عورت بھی اپنی زندگی خوشگوار طریقے سے گزارنا چاہتی ہے ۔

Madad ali

I'm a professional writer.writing explains the silence.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!