اسلامک

توہمات، دور جدید اور اسلام

دین اسلام نے ہمیشہ سے توہم پرستی کی شدید مذمت کی ہے اور تاقیامت کرتا ہی رہے گا، لیکن یہ صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ مثال کے طور پر ہزاروں سالوں سے ہندو اس خیال کی بنا پر سورج، چاند اور کئ قسموں کے جانوروں کی پوجا کر رہے ہیں کہ یہ سب ان کو کسی نہ کسی طریقے سے مالی فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ اور اسی طرح باقی مذاہب ميں بھی اسی طرح کے یا اس سے ملتے جلتے خیالات رکھتے ہیں۔ جدید دور میں ان خیالات و نظریات کی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا احساس ہمیں معاشرے میں رائج ان بے معنی روایات جن میں زائچہ بنانا، عدد، ہنسوں اور ہاتھ کی لکیروں کا مطلب جاننے یا سمجھنے کا علم شامل ہے، سے ہوتا ہے۔
تقدیر اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین
یہ سب علوم بظاہر تو انسان کو فائدہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں، لیکن یہ حقیقیت میں سوائے مایوسی اور ذہنی دباؤ کے کچھ نہیں دیتے۔ کیونکہ جب انسان اللہ عزوجل کے علاوہ کسی اور سے امید اور آرزو رکھنا شروع کر دیتا ہے تو پھر وہ صرف مایوس اور ناامید ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی اس چیز پر قادر نہیں ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہی اس بات پر منحصر ہے۔ ہمیں تقدیر پر جو کہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے کامل یقین ہونا چاہیے کہ وہ جو بھی کریں گے اس میں ہماری بھلائی اور بہتری ہی ہو گی۔ ایک کہاوت بھی مشہور ہے کہ “وقت سے پہلے اور تقدیر سے زیادہ کسی کو نہیں ملتا”۔ اور وہی ہمارے لیے بہترین ہوتا ہے۔ اللہ جو ہمارے خالق ہیں، وہ بھلا کیسے ہمارا برا چاہ سکتے ہیں۔
زائچہ بنانے والوں کے لئے چیلینج
زائچہ بنانے والوں سے کوئی پوچھے کہ وہ لوگ جو اپنی تاریخ پیدائش نہیں جانتے، وہ ان کے بارے میں
کیا پیشن گوئی کریں گے۔ حالانکہ زندگی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی بھی قائم و دائم ہے۔ یہ سب علوم محض دھوکے اور فریب کے سو ا اور کچھ نہیں ہے۔
سکندر اعظم کی زندگی سے مثال
سکندر اعظم کی زندگی کے ایک انتہائی دلچسپ واقعہ ہے کہ ایک دفعہ کسی نجومی نے اس کے ہاتھ کی لکیریں دیکھیں اور اس سے کہا کہ تم کبھی دنیا فتح نہیں کر سکو گے۔ (سکندر اعظم کی عالی شان فتوحات سے تو سبھی واقف ہیں کہ کیسے اس کے دور حکومت میں اس کا سحر پوری دنیا پر طاری تھا) اس نے فوراً تلوار سے اپنے ہاتھ میں ایک لکیر کھینچ دی۔ اور دنیا فتح کر کے اس نجومی کی پیشن گوئی کوغلط ثابت کیا۔
دوسری مثال
ان لوگوں کی ہے جن کے یا تو ہاتھ نہیں ہوتے یا کسی حادثے کی وجہ سے وہ ان سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ان کی زندگی تو نہیں رکتی بلکہ اسی تسلسل کے ساتھ چلتی رہتی ہے۔ اگر ہاتھوں کی لکیروں کے علم والے سچے ہیں تو ایسے لوگوں کے بارے میں کیا پیشن گوئی کریں گے۔
وقت کی اہمیت اور آخرت
اسلام ، جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ہمیں سختی سے اس سب فضولیات سے منع کرتاہے۔ کیونکہ یہ سب علوم صرف انسان کا وقت ہی ضائع کرتے ہیں۔انسان کو اپنا وقت، قوت اور پیسہ وہاں خرچ کرنا چاہیے جہاں اس کا کوئی حقیقی فائدہ بھی ہو۔کیونکہ وقت بہت کم ہے انسان کے پاس جس کو وہ نہیں سمجھتا یا پھر سمجھ کر بھی انجان ہے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ اور کیوں؟ اس کا نتیجہ یا فائدہ کیا ہوگا؟ اور ایک دن جب ہم یہ دنیا چھوڑ کر چلے جائیں گے جو کہ ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے، تو کیا ہمارے اعمال ہمیں کچھ نفع دے سکیں گے؟
مسلمانوں کے موجودہ زوال کا سبب
ہم اپنی دنیا کی زندگی جس کو قرآن مجید میں محض دھوکے اورعارضی زندگی سے تشبیہ دیا گیا ہے، کی روشنیوں، رنگینیوں اور جھوٹی نمود و نمائش میں کھو چکے ہیں۔ اور مسلمان بلکہ مومن ہونے کا اپنا حقیقی فریضہ بھول چکے ہیں۔ جو کہ نہ صرف اپنے مسلمان بھائیوں میں دین کی تبلیغ کرنا ہے بلکہ پوری دنیا کو اس کی اہمیت سے روشناس کروانا ہے۔ لیکن دنیا کی دوسری قومیں ہمارے قول و فعل سے کیسے متاثر ہو سکتی ہیں، جب ہم نے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زندگی گزارنے کے بہترین طرزِ عمل کو چھوڑ دیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ہمیں قرآن پاک میں ان کی زندگی کو مومن کی لئے بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔
حاصل کلام
ان توہمات سے نئ نسل کو دور کرنے کا واحد حل ان کا اسلام کی بنیادی تعیمات سے آگاہ ہونا ہے تاکہ وہ نئ آنے والی نسلوں کوو اس سے محفوظ رکھ سکیں۔ موجودہ دور کی اس برق رفتار زندگی میں ہمیں تھوڑی دیر رک کر یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ہم کون ہیں؟ ہماری پہچان کیا ہے؟ ہمارے پیدا ہونے مقصد کیا ہے؟

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button