افسانے

اصل زندگی یا کتابوں یا افسانوں کی زندگی

کیا ہم وہی زندگی گزارتے ہیں جو ہم کتابوں اور مختلف قسم کی کہانیوں اور افسانوں میں پڑھتے ارہے ہیں؟ شاید نہیں یا ہو سکتا ہے بعض لوگوں کے نزدیک اس سوال کا جواب ‘ہے بھی یا نہیں’ایک لمبی بات ہے. مگر ہم یہاں اس کا چھوٹا سا جائزہ لیتے ہیں۔
میرے خیال میں ہم وہ زندگی نہیں گزارتے رہے ہوتےجس کے بارے میں ہم نے کتابوں یا فلموں میں دیکھتے رہے ہیں۔ زندگی کی اپنی ایک سچاہی ہے اور اس سچاہی سے ایک زندہ انسان کو روز نئی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کسی بھی شخص کی زندگی اچھے اور سخت تجربات کی کسوٹی پر چل رہی ہوتی ہے۔کیوں کہ سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ ممکن ہے ایک شخص صرف کتابیں پڑھ پڑ ھ کر اور چند وڈیوذ دیکھ کر ڈرائیونگ سیکھ لے یا گاڑی صحیح طرح چلانے میں کامیاب ہو جائے۔یقیناً ایسا ممکن نہیں ہے۔اسے ہر صورت عملی طور پر سب سیکھنا پڑتا ہے، اسے چھوٹے موٹے حادثات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غلطیاں کرتا ، کٹھن اور تکلیف دہ تجربات ہوتے ہیں پھر ان سے سیکھ کر بالآخر ایک دن ڈرائیور بن جاتا ہے۔
ہم بھی پور ی زندگی چاہے جتنی بھی فلاسفی کی کتابیں پڑھ لیں اور زندگی گزارنے کے حوالے سے چاہے جتنی بھی موٹیویشنل وڈیوذ دیکھ لیں مگر ہم زندگی کو روزانہ کی بنیاد پر جیسی ہے ویسی گزار رہے ہوتے ہیں۔ایسا کیوں ہے؟ ایسا اس لیے ہے کہ ہم اپنے معاشرے اور برادری سسٹم میں اتنے پھنسے ہوئے لوگ ہیں کہ ہم ایک مخصوص سرکل سے باہر سوچ ہی نہیں سکتے۔ کیا یہ عام سی بات نہیں کہ ہمارے ہاں آج بھی خوشیوں اور شادی وغیرہ کے موقعوں پر ہماری چاچیاں ، پھوپھیاں روٹھ جاتی ہیں اور ہم آدھا فنکشن ان کو منانےمیں ضائع کر دیتے ہیں۔ کیا جو لوگ روٹھتے ہیں انہوں نے یہ کتابیں نہیں پڑھی ہوتیں کہ غصہ ناراضگی ختم کر دینا چاہیے، دوسرے کی غلطی ہو تو معاف کر دینا چاہیے اور اپنی ہو تو معافی مانگ لینا چاہیے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ہم چونکہ انا کےاسیر ہوتے ہیں اور کچھ بھی ہو جائے ویسا ہی ری ایکٹ کریں گے۔ ہم غیبت بھی کر رہے ہوتے ہیں اور گالیاں بھی دے رہے ہوتے ہیں جبکہ ہم نے کتابوں میں آداب کے لقمے بھی لفظ بہ لفظ حفظ کر رہے ہوتے ہیں۔مگر جہاں انا اور غصہ ہو وہاں کتابوں اور چند سطروں پہ لکھی ہوئی زندگی کی ترتیب بھلا کہاں یاد رہتی ہے۔
دوستی جسے ہم انمول رشتہ کہتے ہیں ، جس کے بارے میں ہم نے کتابوں اور ارسالوں میں ہزاروں قصیدے پڑھے ہوتے ہیں وہ دوستی بھی ہم تین چیزوں یعنی اعتماد، فائدہ اور نقصان پر بنیاد بنا کر کرتے یا نبھاتے ہیں۔ یونہی پتہ چلا کہ آپ کا راز فاش ہو گیا آپ اس شخص سے دوبارہ دوستی نہیں کرتے ۔ کیے جانے والی دوستی سے فائدہ ہو گا یا نقصان یہ سوچے بنا ہم دوستی نہیں کرتے۔ یہ سب کیا ہے؟ یہ سب زندگی کی وہ حقیقت ہے جس کا ہم مسلسل سامنا کرتے ہیں اور ہم بس اپنے اچھے اور برے تجربات کی روشنی میں زندگی کی ترتیب بناتے ہیں۔
الغرض ہمارے عملی تجربات، غلطیاں اور کتاہیاں ہی ہمارے زندگی کیسی ہو گی کا تعین کرتے ہیں جبکہ کتابی زندگی ہم سے بہت دور رہ چکی ہوتی ہے۔

Shameer Khan

I am a writer and I want to write an article for you

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!