اسلامک

لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب

قرآن پاک میں لوط علیہ السلام کا ذکر چالیس مقامات پر آیا ہے آپ علیہ السلام اہل سدوم کی رہنمائی کے لئے نبوت کے درجے پر فائز ہوئے صدوم ایک سرسبز اور شاداب شہر تھا یہاں کھیت اور باغات کی کثرت دی جس پر یہاں کے باشندے غرور اور تکبر میں مبتلا ہوگئےاور بد فعلی کی ابتداءکی حضرت لوط علیہ السلام اپنی قوم کی عادت بد سے بے حد فکر مند رہنے لگے اور دن رات انہیں نصیحت کرنے لگا انہیں اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرایا اور کہا کےمیں تمہارا پیغمبر ہوں میرا کہنا مانو اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور بد فعلی کو چھوڑو لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ فخریہ انداز میں یہ کام کرنے لگے حضرت لوط علیہ السلام نے کہا کہ اللہ تعالی نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہے ان کو چھوڑے ہوئے ہو انہوں نے کہا کہ اگر آپ اس طرح ہمیں برا بھلا کہتے ہو تو ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دینگے قرآن مجید میں ارشاد ہے
ترجمہ:–
وہ کہنے لگے اے لوط تو ہم تم کو شہر بدر کر دیں گے
لوط علیہ السلام برابر ان کو نصیحت فرماتے رہتے اور انہیں اللہ کی عذاب سے ڈراتے رہتے تھے ایک دن ان لوگوں نے کہا کہ اگر آپ علیہ السلام سچے نبی ہیں تو ہم پر عذاب لے آؤں آخرکار لوط علیہ السلام نے خود ہی اللہ تعالی سے عذاب کا مطالبہ کیا اللہ نے لوط علیہ السلام کی دعا قبول فرمائے اور خاص فرشتوں کو انسانی شکل میں دنیا کی طرف روانہ کیا یہ فرشتے نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں گئے لوط علیہ السلام بہت پریشان ہوئے کیونکہ انہیں اپنی قوم کی عادت قبیحۂ کے پیش نظر کا خطرہ تھا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور جب وہ ہمارے فرشتے لوط علیہ السلام کے پاس آئے تو بہت پریشان ہوئے اور کہا کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے لوط علیہ السلام کی بیوی کافروں سے ملی ہوئی تھی اس نے جا کر کافروں کو بتایا وہ دوڑتے ہوئے آئے تو لوط علیہ السلام نے دروازہ بند کر کے وہ بہت گھبرایا ہوا تا تب فرشتوں نے کہا ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور ان پر عذاب نازل کرنے آئے ہیں تو فکر نہ کر جو کچھ رات باقی رہے تو اپنے خاندان کو لے کر بستی سے نکلے لیکن خبردار کوئی پیچھے نہ دے کے تب لوط علیہ السلام مطمئن ہو گئے اور اپنے گھر والوں کو لے کر گھر سے نکلے ان کی کافر بیوی بھی ساتھ تھی لیکن کچھ دور جا کر واپس کافروں کی طرف گئی اور اس عذاب کی شکار ہو گئی حضرت جبرائیل علیہ السلام نے باہر جاکر پر کا ایک کونا ان کافروں کو مارا اور سب اندھے ہوگئے پھر بستی کو اپنے پر سے اوپر اٹھایا اور زمین پر دے مارا اوپر سے ان پر پتھروں کی بارش شروع کر دی اس طرح اللہ تعالی کے عذاب نے اس بستی کو نیست و نابود کر دیا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button