اسلامک

دنیا دھوکے کا گھر ہے

*دینا دھوکے کا گھر ہے*
✍🏻حافظ سیف الرحمن چاند
یہ دنیا کیا ہے جس کے پیچھے ہم دن رات بھاگتے رہتے ہیں اور اس کو حاصل کرنے کیلئے ہم نے اپنے رات دن کا آرام اور سکون کھویا ہوا ہے ایک ایسی چیز کے پیچھے ہم لوگ بھاگ رہے جس کی مثال ایک حقیر سی مخلوق یعنی مچھر کے پر کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ دنیا مکڑی کا جالا ہے پانی کا بلبلا ہے

یہ دنیا تو دھوکہ کا گھر ہے انسان بھی کتنا عجیب ہے کہ جو زندگی عارضی ہے ایک نہ ایک دن ختم ہو جانی ہے اس کی فکر میں دن رات ایک کیئے ہوئے ہیں اور جو ابدی زندگی ہے ہمیشہ کی زندگی ہے اس کی کوئی فکر ہی نہیں ہے
اگر ہم یہ دیکھیں کہ ہم جو مال کما رہے ہیں جس کے پیچھے ایسے لگے کہ نہ نماز کی فکر نہ روزے کی فکر یہ ہمارے ساتھ تو جانا نہیں ہیں
آدمی کے ساتھ آخرت کی زندگی میں صرف اس کے اعمال جانے ہیں اور کچھ نہیں تو دنیا کو حاصل کرنے کیلئے ہم نے اپنے رات دن کا آرام اور سکون کھویا ہوا ہے
ایک روایت میں آتا ہے کہ انسان کے ساتھ جنازے میں تین چیزیں جاتی ہیں مال. رشتہ دار اور اعمال تو ایک چیز ساتھ قبر میں رہ جاتی ہے باقی دونوں واپس آ جاتی ہیں تو جو انسان کے اعمال ہوتے ہیں وہ قبر میں ساتھ جاتے ہیں اور رشتہ دار اور مال واپس آ جاتے ہیں
تو ہمیں اس دھوکہ کے گھر میں اپنے اصل گھر کی فکر کرنی چاہیے اپنے نیک اعمال بس دنیا میں ایک مسافر کی طرح رہو مسافر اپنے سفر میں اپنی ضرورت کے بقدر ہی سامان لے جاتا ہے تو ہم بھی اس دنیا میں مسافر ہیں پتہ نہیں کب یہ سفر ختم ہو جائے اس لئے ہمیں اس دنیا سے نفع اپنی ضرورت کے بقدر ہی اٹھانا چاہیے
انسان تو حریص (لالچی) ہے حدیث میں دو قسم کے حریصوں کے بارے میں ذکر ہے ایک مال کا اور دوسرا علم کا حریص
انسان کی فطرت میں یہ حریص پن ہے حدیث شریف میں ہے کہ اگر انسان کو ایک پوری وادی سونے کی مل جائے تو وہ دوسری وادی کی خواہش کرے گا
ہمیں چاہیے کہ ہم نیک کاموں میں حرص کریں اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کریں ہم سب کو گناہوں سے بچنا چاہئے اور نیک اعمال کرنے چاہیے
اللہ تعالیٰ ہم سب کا خاتمہ بالخیر فرمائے آمین ثم آمین

Hafiz Saif-Ur-Rehman Chaand

زندگی کا سکون نماز میں ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button