اسلامک

بے ادبانہ اعمال کا نتیجہ

انسان کے تمام افعال کیلئے ادب ضروری ہے، چھوٹا فعل ہو یا بڑا فعل ہو،انفرادی عمل ہو یا اجتماعی عمل ہو،انسان کے اپنے متعلق ہو یا غیر کے متعلق یہ،چونکہ اعمال آداب کے سائے میں ہی اپنے نتائج تک پہنچتے ہیں لہٰذا ہم اکثر جو عمل کرتے ہیں،کوشش وزحمتیں کرتے ہیں تو وہ نتیجہ بخش نہیں ہوتی ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ فقط عمل انجام دیتے ہیں لیکن اس عمل کے آداب کا خیال نہیں رکھتے،آداب کے تحت اس عمل کو نہیں بجالاتے لہذا اثر بھی نہیں ہوتا ہے۔
مثلاً تبلیغ کرتے ہیں لیکن نتیجہ نہیں نکلتا ہے چونکہ آداب تبلیغ رعایت نہیں کرتے ہیں،دعامانگتے ہیں لیکن قبول نہیں ہوتی،استجابت نہیں ہوتی ہے چونکہ آداب دعا کا خیال نہیں رکھتے ہیں،بے ادبانہ وغیر مؤدبانہ دعا کرتے ہیں،نماز پڑھتے ہیں لیکن پھر بھی برائیوں سے باز نہیں آتے چونکہ آداب نماز کی رعایت نہیں کرتے ہیں اور بغیر ادب کے جو عمل انجام دیا جائے تو ظاہر سی بات ہے کہ مقصود وعرض عمل آداب کے گروہ میں ہے اور آداب ہی کسی عمل کا نتیجہ عطا کرتے ہیں،پس بنا بر این ممکن نہیں ہے کہ آداب کو چھوڑ کر ہم کوئی عمل انجام دیں اور وہ عمل کسی نتیجے تک پہنچ پائے،اس لئے ادب خود ایک مستقل موضوع ہے۔انسانکوتمام اعمال میں تمام حالات میں کے ساتھ رہنا چاہئے مثلاً ہم عبادت جانتے ہیں لیکن آداب عبادت انجام نہیں دیتے ہیں،عبادتیں بلاادب اور غیر مؤدبانہ ہیں احکام کے لحاظ سے بالکل درست ہیں،فقہی لحاظ سے بالکل درست ہیں لیکن آداب کے لحاظ سے بے ادبانہ عبادتیں ہیں،بعض بزرگان کے بقول لوگ اپنے گناہوں پہ توبہ کرتے ہیں لیکن ہمیں اپنی عبادتوں پر خدا سے معزرت ومعانی مانگنی چاہئے چونکہ بے ادبانہ عبادتیں ہیں اور عبادتوں کے فراواں بے ادبی کرتے ہیں،روزہ رکھتے ہیں لیکن ادب روزہ نہیں ہوتا ہے،ذکر کرتے ہیں لیکن ادب ذکر نہیں ہوتا ہے،خدا کو پکارتے ہیں لیکن اس کے اندر ادب دعا ملحوظ نہیں ہوتا ہے۔

Tasawar Hussain

کی محمد سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح وقلم تیرے ہیں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!