افسانے

ہم سے بدل گیا وہ نگائیں تو کیا ہوا

؎ بس سمجھ لو “پیار” محبت کا اتنا افسانہ ہوتا ہے
کچھ آنکھیں پاگل ہوتی، کچھ دل دیوانہ ہوتا ہے
عشق ، پیار ، محبت دلوں کےبس کی بات نہیں ہوتی ۔ دل جب کسی کا ہو جاۓ ، روکنے سے بھی نہیں روکتا ۔ محبت حسب ، نسب یا امیر ، غریب نہیں دیکھتی ۔ پیار حاصل ہوجاۓ تو پیار نہیں رہتا نہ ملے تو انسان کہیں کا نہیں رہتا ۔
؎ مجھے کہا گیا تھا “محنت” کرنا
افسوس میں نے نکتہ گرا کر “محبت” کرلی
گوری گاؤں کی رہنے والی لڑکی تھی ۔ والدین کی اکلوتی اولاد تھی ۔ اکلوتی اولاد ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بہت خوبصورت اور حسین اتنی کہ شائد چودھویں کا چاند بھی دیکھ لے تو شرماجاۓ ۔ حلانکہ وہ گاؤں میں پیدا ہوئ تھی لیکن اسے دیکھ کر لگتا نہیں تھا ۔ اس کا نام شانزہ تھا لیکن رنگت اتنی گوری ہونے کی وجہ اسے گوری کا نام دیا گیا ۔ گوری کے گاؤں میں صرف پرائمری سکول تھا ۔ اس لیے پانچ جماعتیں مکمل کرنے کے بعد اسے مزید تغلیم کے لیے دوسرے گاؤں جانا پڑنا تھا ۔ اس لیے چھٹی کلاس میں اس کے والدین نے اس کا دوسرے گاؤں کے سکول میں داخلہ کروادیا ۔ اکلوتی تھی اس لیے والدین کی حد سے زیادہ لاڈلی تھی ۔ اس کے والد کھیتی باڑی کرتے تھے ۔ ان کی اپنی تھوڑی بہت زمین تھی ۔ اکلوتی ہونے کی وجہ سے والدین اس کے ہر ناز اٹھاتے تھے ۔
جب گوری آٹھویں جماعت میں ہوئ تو اس کی پھپھو جو کہ لاہور میں رہتی تھی ۔ ایک دن اپنے بیٹے کے ساتھ گاؤں آئ ۔ بیٹے کا نام احد تھا ۔ وہ بھی ایک خوبصورت نوجوان لڑکا تھا ۔ جب اس نے گوری کو دیکھا تواسے پسند کرنے لگا اور ماں کو کہہ دیا کہ گوری مجھے اچھی لگتی ہے ۔ ماموں سے میرے لیے اس کا رشتہ مانگو ۔ ماں نے اپنے بھائ سے رشتے کا بات کی ۔ آخر کار اپنی اکلوتی بیٹی کی رضامندی جانی تو اس نے بھی پسندیدگی کا اظہار کر دیا ۔ چنانچہ لڑکا لڑکی اور تمام گھر والوں کی رضامندی سے منگنی ہوگئ ۔
احد کا اب لاہور میں جی نہیں لگتا تھا وہ آۓ دن گاؤں اپنی منگیتر سے ملنے آتا رہتا ۔ گھر کا لڑکا ہونے کی وجہ سے کسی نے اسے منع نہیں کیا ۔ گوری کو بھی احد سے شدید محبت ہوگئ ۔ احد ہی اسی سکول چھوڑنے جاتا اور واپس لے کر آتا ۔ اکثر لڑکیاں اس کا مزاق اڈاتی اور اسے چھیڑتی تھی ۔
دسویں جماعت کے بعد والدین نے ان کی شادی طے کرنی تھی ۔
اب گوری احد کے بغیر اک پل بھی زندگی گزارنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔ احد نے بھی ہر طرح سے اسے خوش رکھنے اور ایک اچھا جیون ساتھی بننے کا وعدہ کر لیا تھا ۔
؎ بڑا دشوار ہوتا ہے کسی کو یوں بھلا دینا
کہ جب وہ جزب ہوجاۓ رگوں میں خون کی مانند
گوری پہلے سے بھی زیادہ حسین سے حسین تر ہوتی جارہی تھی جسے ماں باپ کے ساتھ ساتھ ہونے والے جیون ساتھی کا بھی بھرپور پیار ملا ۔۔ کم لوگ ہوتے ہیں جن پر قدرت اتنی زیادہ مہربان ہوتی ہے لیکن سنا تھا کہ اکثر خوبصورت لوگزں کی قسمت خوبصورت نہیں ہوتی ۔
بس یہی وجہ تھی کہ گوری کے خابوں خیالوں میں بھی نہیں تھا کہ اسے بھی بےوفائ ملے گی ۔ جب گوری نويں جماعت میں ہوئ تو وہ اکثر اداس رہنے لگی ۔ اس کا چہرہ مرجھایا رہتا تھا ۔ گھر کے ساتھ ساتھ وہ سکول میں بھی اداس رہنے لگي ۔ وجہ یہ تھی کہ کافی دنوں پہلے گوری کی احد سے بات نہیں ہو پارہی تھی ۔ جس کی وجہ اس کی کزن نے اسے بتائ کہ احد نے فیس بک پر کسی باہر کی لڑکی سے دوستی کر لی ہے اور وہ احد سے شادی کرنا چاہتی ہے اور اس لڑکی نے احد کو اپنے ملک میں بلایا ہے ۔ احد اب ملک سے باہر جارہا ہے اور احد نے رشتے سے بھی انکار کر دیا اور مزید کہا کہ میں گاؤں میں رہنے والی لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا ۔ گاؤں کی لڑکیاں سادی سی ہوتی ہیں ۔ مجھے فیشن ایبل لڑکیاں پسند ہیں ۔
اس بات پر گوری اور اس کے ماں باپ کو بہت بڑا دھچکا لگا جوکہ انہوں نے سوچا بھی نہ تھی ۔گوری کے دل میں بس احد ہی بسا ہوا تھا ۔ اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ قسمت ایسے پلٹا کھاۓ گی ۔ اور عمر بھر کا روگ بےوفائ کی صورت میں مل جاۓ گا
؎ مجبوریوں کے نام پر دامن چھڑا گیا وہ شخص
جن کے عشق میں دعوے وفا کے تھے
بس گوری کا اب یہی کہنا ہے کہ پیار کرنے والا بےوفا ہوگیا تو شکوے کیسے شکایت کیسی قسمت میں تھی بےوفائ بو لڑائ کیسی ۔ اب گوری کا یہی کہنا ہے کہ :
؎ ہم سے بدل گیا وہ نگائیں تو کیا ہوا
زندہ ہیں کتنے لوگ محبت کیے بغیر

nusrat hameed abdul hameed

میں ایک لکھاری ہوں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!