کھیل

جنوبی افریقہ کا دورہ پاکستان اور پاکستانی ٹیم کا انتخاب

کھیل ہمیشہ سے ہی بنی نوع انسان کے لیے ایک دلچسپ اور صحت مند مشغلہ رہے ہیں اور نہ صرف کھیلنے والوں کے لیے بلکہ دیکھنے والے بھی عموماً اس کے سحر میں ایسے جکڑ جاتے ہیں کہ اپنا آپ بھول جاتے. کھیل کوئی بھی ہو مگر اس میں جوش جذبہ اور جنون لازمی ہوتا ہے اور دنیا کہ ہر خطہ کے لوگوں میں کسی نہ کسی کھیل کی مقبولیت بہت زیادہ ہوتی ہے کچھ کھیل علاقائی ہوتے ہیں اور کچھ عالمگیر شہرت کے حامل اور اگر بات کی جائے برصغیر پاک و ہند اور دوسرے ہمسایہ ممالک کی تو بلا شبہ کرکٹ ہی وہ کھیل ہے جو اس خطے کے لوگوں کے جسم میں خون بن کے دوڑتا ہے اور یہاں کے لوگ کرکٹ کے جیسے دیوانے ہیں ویسے کسی بھی اور خطے میں نہیں ہیں.

بات کریں پاکستان کرکٹ کی تو سری لنکن ٹیم پر دہشتگردانہ حملے کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے تقریباً بند ہو گئے تھے جو ابھی بتدریج کھل رہے ہیں زمبابوے ویسٹ انڈیز سری لنکا اور بنگلہ دیش کے بعد جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم بھی پاکستان کا دورہ کرنے کے لیے پہنچ چکی ہے جو کہ یقیناً پاکستان کرکٹ کے لیے ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے کہ اب باقی ٹاپ رینک ٹیمیں بھی پاکستان کا دورہ کریں گی انگلینڈ بھی اس سال پاکستان آے گا اور اگلے سالوں میں ہم بفضل خدا آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی بھی میزبانی کریں گے اور یوں کرکٹ کی مکمل بحالی کا خواب پورا ہوگا.

ابھی جو بھی ٹیمیں پاکستان آتی ہیں تو انھیں سربراہ مملکت کا پروٹوکول دیا جاتا ہے جو یقیناً ایک خوش آئند بات ہے جنوبی افریقہ کی ٹیم کے لیے بھی سیکورٹی کے بہترین انتظامات کئے گئے ہیں پاک فوج رینجرز پولیس اور سپیشل سروسز گروپ کے دستے حفاظتی فرائض سرانجام دے رہے ہیں دعا گو ہیں کہ سیریز خیر خیریت سے گزرے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اور شائقین کو اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے. کرونا کی وجہ سے شائقین کو سٹیڈیم جانے کی اجازت تو نہیں ہو گی ٹی وی پر ہی مقابلے دیکھیں جائیں گے.

اب کچھ بات کرتے ہیں پاکستان کی ٹیم سلیکشن کی تو یہ نئے چیف سلیکٹر محمد وسیم کی پہلی آزمائش تھی اور اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو انہوں نے ایک متوازن اسکواڈ منتخب کیا ہے اور حالیہ ڈومیسٹک سیزن کے ٹاپ پرفارمرز کو جگہ ملی ہے سوائے عثمان صلاح الدین اور زاہد کے امید ہے کہ مستقبل میں انہیں بھی مواقع میسر آئیں گے. اس سلیکشن کی سب سے مثبت بات میری نظر میں یہ تھی کہ چیف سلیکٹر نے باقاعدہ پریزینٹیشن تیار کر کے مکمل اعدادوشمار سب کے سامنے رکھے اور جو کھلاڑی منتخب ہوئے وہ کیوں ہوئے اور جو نہیں ہوئے وہ کیوں نہیں ہوئے سب تفصیل سے بتایا جو کہ ایک خوش آئند اور بہت ہی مثبت اقدام ہے

ماضی میں ہم دیکھتے آئے ہیں کہ جیسے ہی ٹیم کا اعلان ہوتا تھا تو میڈیا پر اور خاص کر سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ جاتی تھی کسی کو سفارشی کہا جاتا کسی کو پرچی والااور کسی کے ساتھ زیادتی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا کیونکہ عام لوگوں کے پاس سارے اعدادوشمار ہوتے نہیں تھے مگر اس دفعہ دیکھا ہے کہ اکا دکا لوگوں کے علاوہ زیادہ تر لوگ چیف سلیکٹر کے اس اقدام کی تعریف ہی کرتے نظر آرہے ہیں چیف سلیکٹر کو چاہیے کہ اپنے اس اقدام کو جاری رکھیں اس سے وہ بہت حد تک تنقید سے بھی بچے رہیں گے اور متنازعہ بھی نہیں ہوں گے ورنہ اس ملک کا میڈیا تو پگڑیاں اچھالنے کا ماہر ہے.

آخر میں ایک دفعہ پھر سیریز کے خیر خیریت سے گزرنے اور اپنی ٹیم کی جیت کے لیے دعا گو ہیں اور اگر مہمان ٹیم بھی جیت جاتی ہے تو پھر بھی پاکستان میں کرکٹ جیت جائے گی.

اعجاز یات

میں پاکستان کی اور عالم اسلام کی سیاسی اور جنگی تاریخ پہ لکھتا ہوں اس کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ قومی اور بین الاقوامی مسائل اور کھیلوں کے متعلق لکھتا ہوں

Related Articles

2 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button