281 views 0 secs 0 comments

حضرت یونس علیہ السلام

In اسلام
January 17, 2021

حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ نے شہر نینوا کے باشندوں کی رہنمائی کے رسول بنا کر بھیجا یہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے حضرت یونس علیہ السلام ان لوگوں کو بھوت پرستی سے منع کرتے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کا حکم فرمایا لیکن ان لوگوں نے آپ علیہ السلام کا حکم ماننے سے انکار کیا اور اور آپ علیہ السلام کو جھٹلایا آپ علیہ السلام انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا کہ تم پر اللہ تعالی کا عذاب آنے والا ہے

جس پر ان لوگوں نے مشورہ کیا حضرت یونس علیہ السلام کا بھی جھوٹ نہیں بولتے مشورے میں یہ طے پایا کے اگر یونس علیہ السلام رات کو اپنے گھر میں مقیم رہتے ہیں تو سمجھ لو کہ یہ جھوٹ ہے اور اگر وہ یہاں سے کہیں اور چلے جائے تو سمجھ لو کہ عذاب آنے والا ہے رات کو ان لوگوں نے دیکھا کہ آپ علیہ السلام بستی سے باہر تشریف لے گئے اور صبح ہوتے ہی عذاب کے اثارنمودار ہوئے ہر طرف کالی بدلیاں نامودار ہوئی یہ منظر دیکھ کر لوگوں کو یقین ہوگیا اور آپ علیہ السلام کو تلاش کرنے لگے لیکن وہ کہیں بھی نظر نہیں آئی اب ان لوگوں نے اپنے عورتوں اور بچوں کو لے کر اور پرانے کپڑے پہن کر روتے ہوئے جنگل میں پہنچ گیا اور استغفار میں مشغول ہوئے اور رو رو کر اللہ سے گناہوں کی معافی مانگنے لگے آپس میں بھی ایک دوسرے سے معافی مانگتے رہے اخرکار اللہ تعالی کو جو کہ نہایت رحیم و کریم ہے ان لوگوں پر رحم آگیا اور عذاب کی بدلیاں ہٹ گئی سب لوگ واپس اپنے گھروں میں آئے حضرت یونس علیہ السلام ان انتظار میں تھے کہ اب ان لوگوں پر عذاب نازل ہوگا جب عذاب ٹل گیا تو ان کو فکر ہوئی کہ اب تو قوم مجھے جھوٹا قرار دے گی اس قوم کا دستور یہ تھا کہ جس شخص کا کوئی جھوٹ معلوم ہو جاتا اسے قتل کر دیا جاتا یونس علیہ السلام پریشانی کے عالم میں گھر سے نکل کر بحیرہ روم کے کنارے پہنچے اور ایک کشتی میں سوار ہوگئے کچھ دیر بعد چشتیاں اچانک گئی کشتی والوں نے اعلان کیا کہ اگر اس کشتی میں کوئی گناہ گار یا بھاگا ہوا غلام سوار ہو خود کو ظاہر کریں جس پر آپ علیہ السلام نے کہا کہ وہ میں میں ہوں اور مجھے سمندر میں ڈال دے تاکہ باقی سب لوگ اس عذاب سے بچ جائے یونس علیہ سلام کو شہر سے نکل کر کشتی میں سوار ہونا ایک طبعی خوف کی وجہ تھی اللہ کے حکم کے بغیر یو چلے انے کو اللہ نے ایک گناہ قرار دیا

لیکن کشتی والے آپ علیہ السلام کو دریا میں ڈالنے پر تیار نہ ہوئے بلکہ قراندازی کی جس میں کئی مرتبہ آپ علیہ السلام کا نام آیا ایک مچھلی منہ کو کھولے ہوئے موجود تھی اور آپ علیہ السلام کو اپنے پیٹ میں لے لیا اور دور دراز کی مسافتوں میں پیر آتی رہتی اس حالت میں اپ آیات کریمہ پڑھتے رہتے جب فرشتوں نے آپ علیہ السلام کی تسبیح سنی تو اللہ سے عرض کی کہ ہم ایک کمزور آواز اجنبی زمین سے سن رہے ہیں جس پر اللہ نے فرمایا کہ یہ میرا بندہ یونس علیہ سلام ہے اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ اگر وہ اللہ کی پاکی بیان نا کرتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے ۔