اسلامک

قرآن حبل خدا ہے

صدرالمتالھین فرماتے ہیں کہ جو اہل واہل تامل وتدبر ہیں وہ اس فصل میں نگاہ کریں،یہ بھی مفید ہے،درک عظمت خداوند تبارک وتعالی کیلئے انسان کو چیز چاہئے وہ یہ ہے کہ فلینظر المتامل فی فضل اللہ ورحمتہ،کیف لطف بخلقه فی ایصال کلامه الی افھامھم واذواقھم؟….پہلا نکتہ انہیں یہ غور کرنا چاہئے کہ انسانوں کے اوپر خدا وند تبارک وتعالیٰ نے کتنا عظیم لطف فرمایا ہے کہ

اپنا کلام جو عالی ترین الطاف الہیہ میں سے ہے اسے کس لطیف اور نفیس طریقے سے انسانوں کے ذہن اور فہم کی حد تک پہنچایا ہے؟ وکیف جزبھم اللہ بحبل القرآن العظیم فی طی اصوات وحروف ھی من صفات البشر۔۔۔۔ایک عظیم معجزہ واتفاق رونما ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ کلام خدا جو مادی وجسمانی نہیں ہے،جو لفظ ومفہوم نہیں ہے اس کو خداوند تبارک وتعالیٰ نے قرآن کی حبل کیصورت میں،اصوات اور حروف کی شکل میں کہ بشری چیزیں ہیں،بشری امور ہیں یعنی بشری حالات انسانی کی صورت میں انسان کے لئے پیش کیا ہے،قرآن کے بارے میں روایات میں بھی ہے کہ یہ حبل خدا ہے،جیسے پہلے بیان کیا تھا کہ یہ ذومراتب ہے،قرآن کے درجات ہیں،ایک درجۂ بالا ہے کہ جسے اہل علم واہل معرفت صقع ربوبی کے نام سے تعبیر کرتے ہیں یعنی بارگاہ خدا،ذات خدا میں قرآن کا ایک مرتبہ ہے اور ایک مرتبہ ابھی ابھی ہمارے سامنے عربی میں موجود اور اس کے درمیان قرآن کے مراتب فراواں ہیں،ہر ایک توفیق کی حد تک ان مراتب سے سروکار رکھتا ہے قرآن کے بارے میں ایک تعبیر استعمال ہوئی ہے کہ قرآن حبل ہے،یہ حبل اللہ ہے حبل یعنی رسی اور وہ بھی حبل نجات انسان ہے کہ جس کے ذریعے انسان کو ہلاکت سے بچانا ہے،ایسی رسی کہ جس سے نجات دی جاتی ہو،رسی میں دو سرے ہوتے ہیں،

ایک سرا بچانے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور ایک سرا ہلاک ہونے والے کے پاس ہوتا ہے یعنی ایک سرے کو وہ تھامتا ہے کہ جو معرضِ ہلاکت میں ہے اور دوسرے سرے کو نجات دینے والا تھامتا ہے والا اگر وہ رسی ساری کی ساری نیچے پھینک دی جائے تو ایسی رسی تو نجات نہیں دے سکتی ہے۔کنویں میں اگر کوئی گراہوا انسان ہو اور کہے کہ رسی پھینکو ہے اور آپ رسی کا بنڈل بنا کر نیچے پھینک دیں،بعض سادہ لوح اسی طرح پھینکتے ہیں،اگر مدد مانگیں تو وہ اسی طرح پھینکتے ہیں،اس رسی کا وہ کیا کریں؟ رسی پھینکنے کے معانی یہ ہیں کہ اس کا ایک سرا اپنے پاس رکھو اور ایک سرا درخت کے ساتھ باندھ دو یا خود پکڑوتو وہ رسی انسان کو نجات دیتی ہے خدا نے اپنی حبل انسان کو آویزاں کی ہے،پھینکی نہیں ہے کہ ساری رسی جمع کرکے،رول بنا کر انسان کی طرف پھینک دی ہو کہ یہ لو یہ میری رسی ہے،ایسی رسی کا ہم کیا کریں؟ہمیں وہ رسی چاہئے کہ جس کا ایک سرا خود خدا کے ہاتھ میں ہو اور ایک سرا انسان کے پاس ہوتا کہ جب ہم اس رسی سے تمسک کریں تو وہ ہمیں اپنی طرف کھینچ لے،یہ حبل خدا ہے،پس قرآن کا ابھی ایک سرا ہمارے ہاتھ میں ہے،عربی سرا ہمارے ہاتھ ✋ میں ہے اور غیر عربی سرا خدا کے ہاتھ ✋ میں ہے،جب ہم اس سرے سے تمسک کریں گے تو سرا ہمیں اس سرے تک پہنچائے گا اور انسان کےلئے باغث حصول تقرب خدا بنےگا۔۔۔۔۔۔۔۔

Tasawar Hussain

کی محمد سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح وقلم تیرے ہیں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!