اسلامک

من مانی پھر کیوں۔۔۔

U من مانی پھر کیوں؟۔۔۔۔۔۔۔
تحریر:فرزانہ خورشید

ہم انسان بھی اپنے مالک کے بڑے ناقدرے اور ناشکرے ہیں۔ اس کی نعمتوں کو استعمال کرتے، اسے پکارتے، اپنی عرضی پیش کرتے ہیں اور وہ بھی ایسا داتا ہے،دینے سے کبھی نہیں تھکتا، کبھی یہ نہ کہا کہ جب مانتے نہیں تو مانگتے کیوں ہو؟بلکہ دیتا ہے اور دیتا ہے،دیتاہی رہتا ہے، مگر بدلے میں ہم نے کیا کیا؟من مانی اور کیا کر رہے ہیں ،اس سے مانگنا ہے،تو پھر من مانی کیوں؟لیکن عجب ہے انسان،اپنی منوانا ہے پر اس کی نہیں ماننا یا ،ماننا بھی ہے تو اپنی مرضی سے اس کا حکم اس کی رضا سمجھ کر نہیں، بلکہ اپنی سہولت سے اپنی آمادگی سے اپنی چاہت اپنی مرضی سے۔

وہ رحیم ہے رحمت لٹانے والا،غفار ہے نافرمانی پر معاف کرنے والا ،ہماری پکڑ نہیں کرتا، اپنی عطاؤں سے ہمیں محروم نہیں کرتا بلکہ موقع دیتا ہے،ہمیں پلٹ آنے کی مہلت دیتا ہے۔وہ رب بہت پیار کرتا ہے،بھلے عطائیں نہ روکے،مگر خفا تو ہوتا ہے، مگر پھر بھی حکم عدولی پر سرکشی پر ہماری من مانی پر ہمیں ڈھیل دیتا ہے۔نعمتیں بھلے نہ چھینے وہ دعائیں بھلے نہ روکے وہ، مگرخدا کی نافرمانی میں سکون تو ہرگز نہیں ہے ۔گناہ کی اپنی بھی تو کچھ نحوست ہے۔ اگر گناہ نہ رُکے ہم سے ،ملامت بھی ہرگز نہیں ہو، ضمیر بھی نہ جگائے ہم کو توفیق بھی توبہ کی نہ ہو۔غلط بھی صحیح لگنے لگے، من مانی سے دل کو چین آئے، تو پھر ایسا ہونے لگتا ہے۔وبائیں آتی ہیں، بلائیں آتی ہیں ،بنتےکام بگڑتے ہیں خوشی ناراض ہو جاتی ہے، سکون بھی روٹھنے لگتا ہے، غموں کی برسات ہوتی ہے ،چین ایک خواب بن جاتا ہے۔

یہ اشارہ ہوتا ہے کہ پلٹ آؤ اس جانب جہاں تمہیں آخر ایک دن جاناہے۔ تمہاری منزل بھی وہی ہے ،جو آخر سب کی منزل ہے، بھلے جتنا بھاگو اس سے وہ ایک دن آ گھیرےگی، وہ رب مہربان تم پر ہے ،تمہیں بخشنا چاہتا ہے، مصیبتیں بھیج کر تم کو،وہ رجوع الہی چاھتا ہے، جونعمت تمہارے لئے بنائی اس نے،وہ تمہیں دینا چاہتا ہے۔
دنیا کے لیے نہیں بنے ہو تم کہ یوں سمجھ بیٹھو کہ بس یہی رہنا ہے، جب اسی طرف پلٹنا ہے یہ برحق ہے اور تم اقرار بھی کرتے ہو تو پھر یہ نافرمانی کیوں ہے،من مانی پھر کیوں ہے،، کیا زندگی اسی لئے ہم کو ملی کہ ہم اپنی مرضی دکھائیں ، مان کے رب کا نہ حکم ،خود ہم اپنے اصول بنائیں، کبھی خود سے پوچھو تو کیا زندگی کا یہی مقصدہے۔۔ اگر نہیں تو پھر پلٹ آؤ اس کی اطاعت میں، توڑ دو اپنی چاہت کو،اسکی نافرمانی چھوڑ دو، کم از کم ارادہ تو کر لو کہ اس کی خاطر جینا ہے اس کے مطابق جینا ہے،جب یہ طلب پیدا ہوگی تو وہ خود رستے نکالے گا، ہاں اگر کبھی بھول ہو ہم سے تو وہ، درگزر فرمائے گا، وہ کریم ہے، بے حد یقیناً اپنا فضل فرمائے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button