شوبز

ہم نے انہیں لوٹااورہم کو کسی اور نے لوٹ لیا

یہ کہانی شاید آپ نے پہلے کہیں سے سنی یا پڑھی ہو۔ بہت چھوٹی سی کہانی ہے مگر اس کے ایک ایک لفظ میں ہماری زندگی اور دنیا کی کہانی چھپی ہوئی ہے۔
ایک صاحب نے موبائل ریپئرنگ کی دکان کھول رکھی تھی۔ رات کے دس بجے رہے تھے۔ وہ دکان بند کرنے ہی والے تھے کہ ایک گاہک آ گیا۔ اس گاہک نے موبائل آگے بڑھایا اور کہا کہ یہ آن نہیں ہو رہا۔ موبائل ریپئر کرنے والے نے موبائل ہاتھ میں لیتے ہی کہا چیکنگ فیس تین سو روپے ہے۔ گاہک راضی ہو گیا۔ ان صاھب نے موبائل کھولا اور خامی ایک نظر میں پکڑ لی۔ انہوں نے نہات پھرتی سے موبائل کے مائیک کا اسکریوڈھیلا کیا اور مائیک کو دراز میں گرادیا۔ مائیک جو ایک ننھا سا پرزا تھا ، گاہک کو کیسے نظر آنا تھا کہ کب دراز میں گرا۔ پھر ان صاحب نے موبائل کا معانہ کرتے ہوئے کہا۔ ایل سی ڈی اڑ گئی ہے۔ پاور سسٹم بیٹھ گیا ہے۔ کل ملا کر چار سے پانچ ہزار کا خرچ آئے گا۔ اتنی رقم میں بالکل نیا سیٹ بھی مل جائے گا۔یہ دیکھئے بالکل ایسا ہی سیٹ، قیمت صرف ساڑھے تین ہزار۔ چائنا کا ہے اس لیے سستاہے مگر کمال کا ہے۔ گاہک نے موبائل واپس لے لیا۔ ساڑھے تین ہزار میں نیا سیٹ خریدا چیکنگ کی فیس تین سو روپے دی۔ روپے لے کر ان صاحب نے خدا کا شکر ادا کیا کہ دکان بند کرتے کرتے بھی چیکنگ کے تین ، مائیک پانچ سو تک بک جائے گا اور ساتھ ساتھ ایک ہزار نئے سیٹ پر منافع بھی مل گیا۔ اس نے دکان بند کی اور برابر والے آصف کی دکان پر پہنچا۔ وہ دونوں ایک ہی محلے میں رہتے تھے اس لیے رات میں ساتھ ہی نکلتے تھے۔ آصف نے کپڑوں کی تہہ لگاتے ہوئے کہا ایک محترمہ نے تو آج جان کھا لی تھی۔ جو کپڑا دکھاؤ وہ اس کی سو دو سو قیمت کم لگاتی۔ بڑی مشکل سے تین سو روپے میڑ والا پانچ سو روپے میٹر تھمایا۔ دونوں نے قہقہ لگایا اور دکان کو تالا لگا کر بس اسٹاپ کی طرف چل پڑے۔ رکشے والے سے پوچھا کہ نیو کراچی چلو گے۔ رکشے والے نے ہاں میں سر ہلا کر کہا لیکن تین سو لوں گا کیونکہ آج سی این جی بند ہے رات بھی زیادہ ہو رہی ہے خالی آنا ہو گا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھااور بڑبڑانے لگے۔ “ہر ایک نے لوٹ مچا رکھی ہے، کیا ہو گا اس ملک کا” رکشا ابھی کچھ دور ہی گیا تھا کہ دو بائیک سواروں نے انہیں روک لیا۔ پستول دکھا کر ان کے پرس اور موبائل چھین لیے ان دونوں نے اپنے خریداروں کو لوٹا تھا، رکشہ والے نے سی این جی کی بندش کے بہانے ان کو لوٹا اور ڈاکوؤں نے سرِ راہ ان تینوں کو ہر چیز سے محروم کر دیا۔جو جیسے آیا تھا ، ویسے ہی چلا گیا۔
کیا یہ سب نہیں ہو رہا، کیا اسی طرح ہر طرف لوٹ مار نہیں مچی ہوئی۔ صبح سے شام تک ہم کسی نہ کسی کو ٹھگنے میں لگے رہتے اور کوئی نہ کوئی ہمیں ٹھگنے میں لگا رہتا ہے۔ جب ہم خود ہی اپنا احتساب نہیں کر رہے ہوں گے تو وزیراعظم اناڑی ہو یا کھلاڑی کیا فرق پڑتاہے۔ ایمان اللہ رب العزت کی دین ہے، اگر اللہ کے عذاب کا مزہ چکھنے کا ڈر بھی ہمیں نہیں بدل سکا تو پھر چاہے آپ عمران خان کو چھوڑ کا طیب اردگان بھی لے آئیں ہم یوں کے توں ہی رہیں گے۔ بس پھر ہم کسی دوسرے کو لوٹتے رہیں گے اور پھر کوئی تیسرا ہمیں لوٹتا رہے گا۔

ندیم چوہدری

Teacher & Inspirational Story Writer

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!