ادب

عشق حقیقی اور عشق مجازی

*عشق حقیقی اور عشق مجازی* عشق حقیقی اور عشق مجازی دونوں میں ہی فرق ہے فرق وہ نہیں کہ سوئی برابر یا آٹے میں نمک برابر بلکہ وہ فرق جو زمین وآسمان کہ مترادف ہے۔عشق دنیاوی چیزوں سے کیا جائے تو فنا کا راستہ ہے اور خدا سے کیا جائے تو بقا ہے۔ساری زندگی گزر جائے بے نام رشتوں اور سرابوں کے پیچھے بھاگتے لیکن جب حقیقت کو پہچان لوگے تو رو دو گے کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔

فنا اور بقا دونوں میں سے ایک کو پکڑنا ہوگا ۔میں یہ نہیں کہتی کہ سچا عشق بھی ممنو ع ہے ضرور کریے مگر دستور کے مطابق حد میں رہ کر ۔ہاں بات اب یہ آگئی کہ عشق بھی کیا جائے اور حد بھی دیکھی جائے ،کیوں دیکھی جائے یہ تو بس کی بات نہیں ہے ۔اس کا بھی جواب ہے کوئی بھی چیز وہاں تک کریے جہاں تک ہمارا دائرہ ہے۔ یہ دائرہ اسلام ہے۔اگر اس کی حدود میں رہو گے تو سب پا لوگےیہاں تک کہ خدا کو بھی پا لوگے ۔اسکا نام ہی عشق ہے۔لیکن ہم بھول گئے ہیں۔خداسے عشق کا مقام وہ مقام ہے جہاں انسان سب کچھ پا لیتا ہے ۔اور اس قدر ڈوب جاتا ہے کہ دنیا سے بے نیاز ہو جاتا۔لیکن اگر وہ عشق صرف ظاہری دکھاوا ہے تو پھر کیا حاصل۔لیلی اور مجنوں کے عشق کی داستان بہت مشہور ہے۔لیلی کے پیچھے جب مجنوں ملنگ بنا صحرا کی ریت ناپ رہا تھا تو وہاں ایک شخص خدا کی بارگاہ میں سجدہ ریز تھا۔مجنوں اپنے آپ میں گم سامنے سےگزر گیا۔اس شخص نے نماز مکمل کر کے مجنوں کو جا لیا ۔اور بولا اوئے پاگل تمہیں نظر نا آیا کہ میں بارگاہ  خداوندی میں جھکا ہوا ہوں ۔اور تم آگے سے گزر گئے ہو کیا تم دیکھنے سے جاتے رہے ہو۔وہ بولا میں ایک انسان کے عشق میں گرفتار  ہوں اور دیکھ نا سکا آگے پیچھے ہوش سے بیگانہ تھا۔

اور تم خدا کے کیسے عاشق ہو کہ نماز  میں کھڑے ہو کر بھی تمھارا دھیان مجھ پہ تھا۔اس سے ظاہر ہو رہا کہ عشق حقیقی بھی صدق چاہتا ہے۔عشق کی منازل کو تہہ کرنا آسان نہیں ہے ۔یہ ہر منزل پہ گہرائی طلب کرتا ہے۔کیوں کہ یہ سچے موتیوں سے دیواریں چنتا ہے خلوص کی چھتیں رکھتا ہے ۔ مختصر یہ کہ لگن سچی ہوگی تو عشق مجازی آپ کوعشق حقیقی تک پہنچا دے گا۔ہم سے عشق مجازی کی حقیقت پوچھوکہ یہ بت جب نہیں ملتے تو خدا ملتا ہے۔از قلم: زینیا راجہ

zainia raja

میں اس وقت تک ہار نہیں مانتی جب تک کچھ ٹھیک نا ہو جائے.میرے مشغلے کے بارے میں یہ کافی نہیں کہ مطالعہ کی عادت میرے جسم و روح میں پیوست ہے. شاعری سے شغف بھی ہے اور شاعرانہ مزاج بھی۔

Related Articles

One Comment

  1. عشق تو عشق ہے چاہے وہ خدا سے یا فنا سے…
    عشق مجازی عشق حقیقی کی طرف ایک رستہ ہے عشق مجازی کے سیوا عشق حقیقی کا تصور بھی ممکن نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!