خواتین

عورت کی زندگی

کچھ دن پہلے اپنی ایک کالیگ سے بحث ہو رہی تھی”عورت کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی”۔اصل میں یہ نقطہ نظر میرا نہیں ان کا تھا۔ان کے کہنے کے مطابق شادی سے پہلے ایک عورت اپنے ماں باپ اپنے بھائیوں کے کہے کے مطابق زندگی گزارتی ہے ۔اسکی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی ۔انکے جذبات کو ان کے خیالات اور احساسات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔

جبکہ شادی کے بات اسکی زندگی کی چابی اسکے شوہر اور سسرال والوں کے ہاتھ میں دے دی جاتی ہے۔ پھر وہ ایک پنجرے سے نکل کر دوسرے پنجرے میں چلی جاتی ہے بچوں کے بعد اس کی پوری زندگی ان کی خواہشات کی تکمیل میں گزر جاتی ہے۔ اپنی زندگی کو اپنے طریقے سے جینے کا موقع ہی نہیں مل پاتا۔میرا نقطہ نظر تھوڑا مختلف تھا۔ایک عورت ہونے کے ناطے مجھے ان میں سے کسی بھی قسم کی کوئی شکایت نہیں تھی۔ میں نے دو منٹ میں اپنی گزری ہوئی زندگی پر نظر دوڑائی تو اپنی گزشتہ زندگی کے کسی بھی حصے میں مجھے ایسا نہیں لگا کہ میں قید ہوں,میری زندگی میرے مطابق نہیں یا میرے ساتھ کسی بھی معاملے میں کسی بھی قسم کی کوئی نا انصافی ہوئی ہے یا ہو رہی ہے۔خیر اس وقت کام کی اتنی مصروفیت تھی کہ اس موضوع پر مزید بات نہیں ہو پائی۔میں چونکہ غیر شادی شدہ ہوں تو میری زندگی میں جن مرد خضرات کا عمل دخل ہے وہ والد صاحب اور بھائی ہیں۔انکے الفاظ”وہاں مت جانا,ایسا نہیں پہننا,دوپٹے کا خیال کرنا” ایسی باتیں مجھے قید نہیں لگتیں بلکہ ان باتوں سے اپنی اہمیت کا پتا چلتا ہے کہ ہم کتنی اہمیت رکھتے ہیں کہ ہم سے تعلق رکھنے والےمردوں کوہماری پروٹیکشن کی کتنی فکر ہوتی ہے۔اگلے ہی دن میں “سورہ نساء” ترجمے کے ساتھ پڑھ رہی تھی۔یہ اتفاق تھا یاشاید اللہ میرے اس یقین کو اور پختہ کرنا چاہتا تھا کہ عورت مظلوم,غلام نہیں وہ تو اپنی حدود میں رہ کر مکمل طور پر آزاد ہے۔اللہ نے مرد کو عورت کا حاکم بنایا ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔مگر چونکہ مرد اپنا مال عورت پر خرچ کرتا ہے اسکو آشیانہ دیتا ہے اسکے لیے محنت کرتا ہے تو اللہ نے اسکو حاکم بنا دیا۔ویسے بھی دنیا کی کوئی بھی ریاست کوئی بھی ملک کوئی بھی کمپنی بغیر سربراہ,مینیجر یا لیڈر کے نہیں چلتا۔ کسی بھی نظام کو چلانے کے لیے ایک سربراہ چاہیئے ہوتا ہے۔گھر کے نظام کو چلانے کے لیئے سربراہ مرد کو بنایا گیا۔اور جبکہ اللہ نے بنایا ہے تواس نے بہت بہتر بنایا ہے ۔اور آگے ہی اللہ فرماتا ہے کہ جو نیک اور فرمانبردار عورتیں ہوتی ہیں وہ اپنے خاوند کی غیر موجودگی میں بھی اسکے مال اور عزت کی خفاظت کرتی ہیں۔ جب آپ کو کوئی اعتماد دیتا ہے تو آپ اور زیادہ جزباتی ہو جاتے ہیں آپ کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔جب اسلام نے عورت کو اتنی اہمیت دی ہے اسکے حقوق کے لیے سورتیں نازل ہوئی ہیں۔تو حقوق کے ساتھ ساتھ کچھ فرائض بھی تو ہیں نا۔ میں جب اپنی آزادی کو دیکھتی ہوں اور اپنے سے جڑے لوگوں کا مجھ پر اعتماد اور بھروسہ دیکھتی ہوں تو احساس ذمہ داری اور بڑھ جاتا ہے۔

تو جو خواتین یہ سوچتی ہیں کہ عورت کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی انکو اپنے سوچنے کا نظریہ تھوڑا تبدیل کرنا پڑے گا۔ایک بہن کے لیے بہت ہی پر مسرت بات ہو گی کہ وہ اپنے بھائی کا کوئی کام کرے۔ ایک بیٹی اپنے والد کو کھانا پیش کر کے جو دلی سکون اور اطمینان حاصل کرتی ہے وہ کہیں اور نہیں۔ایک ماں کے اپنے بچوں کے لیے جزبات اور پیار ناقابل بیان ہیں۔ہمیں تو اللہ کی اس عطا کے لیے شکر گزار ہونا چاہیئےنہ کہ کمپلیکشن کا شکار ہو جائیں۔اللہ تعالی ہمیں اپنی خفظ و امان میں رکھے۔ہمیں با پردہ ہونے کے ساتھ شرم و حیا بھی عطا کرے۔
آمین۔

Fazal Nabeel

میرا نام فضل نبیل ہے اور میرا تعلق راولپنڈی سے ہے۔میری تعلیم بی اے ہے۔

Related Articles

One Comment

  1. میں ارٹیکل اور مظمون لکھنا پسند کرتاہوں کیونکہ اس سے مجھے جو روپے ملے گے میں اس سے اپنی تعلیم بھی جاری رکھوں گا اور گھر والوں کی بھی مدد کروںگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!