تعلیم

بچوں کی قابل رشک عادتیں ۔پڑھئیے،اپنائیے۔۔۔۔۔(شاہ حسین)

قدرت نے بچوں کی فطرت میں لچک رکھی ہے۔جہاں بچے نہیں ہوتے وہاں ویرانی چھا ئی رہتی ہے۔بچے تو گھر کی رونق ہوتے ہیں۔ہم ہزار کوشش کریں،سینکڑوں جتن آزمائیں، لیکن بچوں کے بغیر ہم خوشی کا دکھاوا تو کر سکتے ہیں پر خوش نہیں ہو سکتے۔وہ جو مشہور ہے نا!کہ بچے دل کے سچے ہوتے ہیں ۔واقعی ایسا ہی ہوتا ہے۔ بچوں کی بعض عادتیں بڑوں کے لیے قابل رشک بن جاتی ہیں ،بلکہ بڑوں کے لیے قابل تقلید بھی بن جاتی ہیں۔مثلا

۔۔۔1۔۔۔ پہلی عادت۔
وہ رو رو کر مانگتے ہیں اور منگوا کر ہی چھوڑتے ہیں۔
اب ذرا غور کیا جاۓ تو سمجھ آئے گا کہ اس عادت میں ہمارے لیے کتنا بڑا سبق ہے۔جس طرح رو رو کر والد سے بات منوائی جاتی ہے ۔اگر اسی طر رو رو کر ہم اپنی حاجتیں،اپنے دکھ ،اپنا فریاد اللہ میاں کے سامنے رکھے تو اللہ ضرور ہماری بات مان جائے گا ۔کیونکہ اللہ تو ستر ماؤں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔
اس عادت سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ بات رو رو کر منوائی جاتی ہے،خود کو ذلیل کرنا پڑتا ہے،اپنے عجز کا اظہار کرنا پڑتا ہے تب جا کر ہماری بات قابل غور بن جاتی ہے ۔اگر ہم ڈھٹائی کے ساتھ اور بد معاشی کی صورت میں بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں رسوئی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کی یہ عادت ہم بھی اپنانے کی کوشش کریں۔

۔۔۔2۔۔۔دوسری عادت۔
بچے مٹی سے کھیلتے ہیں اور غرور و تکبر خاک میں ملاتے ہیں۔اوہ! کتنی پیاری عادت ہے،پورا دن مٹی میں کھیلتے ہیں۔نہ کپڑوں کی پرواہ،نہ جسم کی گندگی سے ڈر،نہ بڑوں کے ڈانٹ کا خوف۔سب سے بے نیازی ہو کر مٹی میں انا کو دفن کرتے ہیں۔بچہ کتنے ہی بڑے گھرانے سے ہو ،کتنے بڑے باپ کی اولاد کیوں نہ ہو لیکن جب زمین پر چھوڑ دیے جاتےہیں تو مٹی میں کھیلنا شروع ہوجاتے ہیں۔یہ بچے ہمیں پیغام دیتے ہیں کہ دیکھوں اس مٹی کے بنے ہوئے پتلے ہی تو ہو تم۔پھر تکبر کس بات پر؟،غرور کس چیز کا؟ ،اتنی بلند اڑان کیوں؟،اتنی لااوبالی کیسی؟،اور سب سے بڑھ کر دل میں یہ نفرت کی فضاء اور بیر کیوں پال رکھے ہیں؟
ہمیں بھی،اپنی انا کو اس مٹی میں دفنانا ہوگا، تکبر کے بتوں کو گرانا ہوگا ۔تب جا کر ہم ابھرنے کے قابل ہو ں گے۔

۔۔۔3۔۔۔تیسری عادت۔
جو مل جائے کھالیتے ہیں ذخیرہ کی ہوس اور زیادہ جمع کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔
یہ بھی بہت سبق آموز عادت ہے ۔بچے یوں ہی کرتے ہیں جو پاس ہوتا ہے اسی کے گرد گھومتے ہیں ۔جب تک وہ ختم نہیں ہوجاتا وہ آگے کا نہیں سوچتے۔ہم بچوں کوہزار سمجائے لیکن وہ نہیں مانتے۔کیونکہ ان میں حرص اور ذخیرہ کاشوق نہیں ہوتا۔اب یہ عادت بھی بڑوں میں ہونی چاہیۓ کہ ہمارے پاس جو بھی ہے ،ہماری نظر بھی انہی چیزوں پر ہو۔ کل سے بے پرواہ ہو کر آج کا سوچھے۔اس طرح کرنے سے ہمارے دل سے مال کی محبت نکل جاتی ہے،کل کی فکر اور ذخیرہ کرنے کی عادت سے ہماری ہمت کمزور ہو جاتی ہے اور ہم بے حس ہو جاتے ہیں۔

۔۔۔4۔۔۔چوتھی عادت۔
لڑتے ہیں،جگڑتے ہیں پر دل میں بغض،کینہ،بیر،حسد اور دشمنی نہیں پالتے۔یہ عادت بچوں کو سب سے ممتاز بناتی ہے۔وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنے لگتے ہیں لیکن جلد ہی صلح کرتے ہیں۔یعنی دشمنی بھی کرتے ہیں تو بھائی بن کر کرتے ہیں اور تھوڑی دیر بعد لگتا نہیں کہ ان کے درمیان رنجش ہے۔ایسا ہم سب کو کرنا چاہئے۔اگر ہم دل کو صاف رکھیں اپنے بھائیوں جیسا سلوک سب کے ساتھ کریں۔تو معاشرہ خوشیوں سے بھر جائے گا۔پھر ایک دوسرے سے محبت ہوگی،خوف،ڈر اور نفرت ختم ہو جائے گی۔

۔۔۔5۔۔۔پانچویں عادت۔
مٹی کا گھر بناتے ہیں،پھر کھیل کر گرا دیتے ہیں۔بچے اس میں بھی ہمیں پیغام دیتے ہیں کہ دنیا فانی ہے اس میں کھیل کر گھر بناؤ لیکن یہاں مستقل رہائش اختیار نہیں کی جا سکتی۔اور جہاں مستقل رہنا نہیں وہاں پر ساری تونائیاں صرف کرنا کہاں کی عقل مندی؟دنیا بھی جانی والی ہے اور ہم بھی ۔لھذا وہاں کی فکر کرنی چاہئے جہاں ہم جا رہے ہیں اور جہاں کی زندگی ،اور گھر بھی مستقل ہیں۔ویسے یہ ہیں تو بچوں کی عادتیں لیکن ہمارے لیے اس میں بڑا درس اور نصیحت ہے۔اگر یہ باتیں ہماری زندگی میں لوٹ آئیں تو ہمارا بیڑا پار ہو جائے گا۔
شاہ حسین سواتی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button