ادب

گفتگو ایسی کہ ہر کوئی آپ کی بات مانے۔۔۔

گفتگو ایسی کہ ہر کوئی آپ کی بات مانے۔۔۔
السلام علیکم محترم قارئین

یقیناََ آپ بھی یہ خواہش رکھتے ہونگے کہ ہر کوئی آپ کو بات کو توجہ سے سنے اور آپ کی بات کو ماننے پر مجبور ہوجائے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی گفتگو سنور جائے اور آپ کا انداز سب سے نرالا ہوجائے کہ سب آپ کے دوست بن جائیں اور آپ کی کہی بات کی اہمیت بھی زیادہ ہوجائے تو آپ کو گفتگو کے آداب سیکھنے بہت ضروری ہیں۔ ان آداب کو سیکھے بِنا آپ اپنی گفتگو میں نکھار نہیں لاسکتے۔

آداب گفتگو سیکھنے کے فوائد
لوگوں کے مجمع میں یہ جب بہت سارے اپنے مشورے دے رہے ہوتے ہیں وہاں آپ کی بات کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے۔سب سے بڑھ کر ہمارے اپنے بھی ہماری بات کے قائل ہونے لگتےہیں جو کہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کو پوری دنیا سے عزت مل رہی ہو تب بھی اپنے اس کے مقام و مرتبہ کے قائل نہیں ہو پاتے۔انسان کے اپنے ضمیر سے بھی یہ آواز آتی ہے کہ میرے الفاظ میں حقیقتاََ کوئی جادو آگیا ہے کہ ہر کوئی میری بات کو اہمیت دینے لگا ہے۔انسان کم الفاظ میں گہری اور مکمل بات کرنا سیکھ جاتا ہے۔حتیٰ کہ کبھی تو الفاظ کی بھی ضرورت نہیں پڑتی اور آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔لوگ آپ کی طرح بننا چاہتے ہیں اور آپ کے انداز کو کاپی کیاجانے لگتا ہے۔

کیا آپ آدابِ گفتگو سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟
جی اب میں آپ کو چند بہترین آدابِ گفتگو بتانے جارہا ہوں مگر آپ کو ان پر تب تک عمل کی مشق جاری رکھنی ہوگی جب تک یہ آپ کی فطرت و عادت میں پیوستہ نہ ہوجائیں یعنی جب تک یہ آپ کی عادات میں نہ رچ بس جائیں تب تک آپ نے ان پر عمل کی مشق جاری رکھنی ہے۔

آدابِ گفتگو
بات کرنے کا سب سے پہلا ادب یہ ہے کہ آپ سامنے والے کو اچھی طرح بولنے دیں اور انکی بات کو پوری توجہ سے سنیں۔ (اگرچہ آپ کو یہ علم بھی ہوکہ سامنے والا غلطی پر ہے پھر بھی اسے اچھی طرح بولنے کا موقع دیں اور اسکی بات کو اسے سنیں جیسے کہ وہ صحیح ہے اور آپ کچھ نہیں جانتے)

خود کم سے کم بولیں۔ (آپ سوچ رہے ہونگے کہ اگر ہم کم بولیں گے تو اپنی بات کیسے سمجھائیں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو کم بولتا ہے اسکی باتوں کو پوری توجہ سے سنا جاتا ہے اور جس کی بات کو مکمل توجہ حاصل ہوجائے اس کی بات کو بہت کم رد کیا جاتا ہے )اپنا نقطہ نظر سامنے رکھنے سے پہلے اچھی طرح جان لیں کہ کیا آپ جس کی طرفداری کر رہے ہیں کیا وہ صحیح بھی ہے یا نہیں؟اپنے گفتگو میں حروف کا سوچ سمجھ کر انتخاب کریں کیونکہ الفاظ کے دانت نہیں ہوتے مگر یہ کاٹ لیتے ہیں۔گفتگو میں اپنے حریف کو غلط ثابت کرنے کی کوشش ہرگز نہیں کرنی بلکہ شروع میں آپ نے اسکی کسی اچھائی کی تعریف کرنی ہے پھر آہستہ آہستہ اپنے مئوقف پر اسے لانے کی کوشش کرنی ہے۔

جہلا (جاہل اور ضدی) لوگوں پر تنقید کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اسی لیے ان کے ساتھ مناسب رویہ میں گفتگو کریں اور اگر وہ آپ کیساتھ متفق نہ ہورہے ہوں تو معزت کرلینا ہی بہتر ہے نہیں تو گھنٹو کی تنقید کے بعد وہ خود کو اور آپ خود کو بہتر سمجھتے ہوئے گفتگو کا اختتام کریں گے اور آپ کے ایک دوسرے کے بارے میں خیالات بھی کافی حد تک بگڑ چکے ہونگے۔ اسی لیے ایسے لوگوں سے بحث سے گریز کرنا ہی بہتر حل ہے۔کوشش کریں کہ آپ کوئی کام کرنے سے پہلے کسی کو اسکے رزلٹ نہ بتائیں بلکہ کام ایسے طریقے سے کریں کہ آپ کا رزلٹ آپ کی کامیابی کا شور مچاکر ہر ایک کو باخبر کردے۔

آسان اور سادہ ترین الفاظ کااستعمال کرنا ۔ (کسی سے بات کرنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ اسکا گفتگو کرنے کا کیامعیار ہے ۔ اگر وہ ادبی گفتگو کرتا ہو تو آپ کو بھی ویسی ہی گفتگو کرنی ہوگی اور کوئی کم پڑھالکھا ہوتو زیادہ پیچیدہ اور مشکل الفاظ کا انتخاب نہیں کرنا چاہیئے۔ بلکہ ہی طریقہ ہےجو اس شخص کو آپ کا ہم خیال بنا سکتا ہے اور وہ ہے کہ جب وہ آپ کی گفتگو کو باآسانی سے سمجھ سکے گا اور اس کے لیے آپ کو آسان اور سادہ ترین الفاظ کااستعمال کرنا ہوگا )ہر شخص کی مہارت اور کام کاج کی نوعیت کی گفتگو کریں۔ ( یعنی اگر اسلامی بندہ ہوتو اس کے پیشہ کے لحاظ کی مثالیں پیش کرتے ہوئے اسے سمجھائیں اور ڈاکٹر، استاد، دوکاندار، مالی، موچی ،گڈریا، بزنس مین ، بچہ، جوان ، بوڑھا ، مرد و عورت ہر ایک کے لحاظ سے الگ الگ گفتگو کرنا ہی مناسب طریقہ ہے جس سے اپنے سامنے والے کو جلدہی ہم اپنا ہم خیال بنا سکتے ہیں۔

آداب جان لینا کافی نہیں بلکہ عملی اقدام اٹھانا ضروری ہے
آپ میں سے بہت سارے دوست احباب یہ پڑھنے کے بعد اسے بھلادیں گے کیونکہ وہ اس پر کوئی عملی اقدام نہیں اٹھانے والے ۔ تو ایسے دوست احباب کو میری اس تحریر سے کچھ بھی فائدہ ملنا دشوار ہے۔آپ سب کے لیے ضروری ہے کہ آپ سب سے پہلے ان شرائط کو حفظ کرلیں۔ اور پھر اپنے آس پاس کے دوست احباب کی مدد لیتے ہوئے ان پر عمل کرنا شروع کردیں۔ جلد ہی آپ ان کےنتائج دیکھ لیں گے۔آپ ایک ایک کر کے بھی ان کو اپنی عادات میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

امید کرتا ہوں میں آج کی تحریر آپ کو پسند آئی ہوگی اور آپ ان پر عمل بھی کریں گے
آپ کے قیمتی وقت کا شکریہ !
میرے چینل کلاتی میڈیم کو وزٹ کریں اورسبسکرائب بھی کریں نیز آپ کے کومنٹس کا انتظار رہے گا۔ واعلیکم السلام!

Ahmad Hassan

میرا نام احمد حسن ہے اور میرا تعلق مظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کے ایک چھوٹے شہر دائرہ دین پناہ سے ہے۔ مجھے نئی چیزین سیکھنے اور سکھانے کا بہت شوق ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!