اسلامک

جوامع الکلِم

جوامع الکلِم

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
بَعِثتُ بِجَوامِعِ الکَلِمِ
“مجھے جوامع الکلِم عطا کیا گیا ہے” (صحیح بخاری ٧٢٧٣)

جوامع الکلِم کا جو سب سے پہلا مفہوم عام فہم کے لئے بنتا ہے وہ یہ ہے کہ لفظ کم اور معانی ذیادہ ہوں.

دوسرا مفہوم اہلِ علم کے لئے یہ ہے کہ اس مضمون کے تمام تر حقائق اس کلام میں موجود ہوں.

تیسرا مطلب اہلِ نظر کے لئے یہ ہے کہ جس کا مکمل ادراک انسانی ذہن کے لئے ممکن نہ ہو، گویا وہ انسانوں کے اذہان سے زیادہ معانی رکھتا ہو.

جوامع الکلِم ایسے کلمات ہیں جن کا جتنا حصہ بھی ادراک میں آ سکتا ہے وہ اس مضمون پر شعورِ انسانی کی تمام ضروریات کو دائمی طور پر پورا کر دیں. ان کلمات کی معجزاتی شان یہ ہے کہ ذہانت کی کمی اور بیشی ان سے فیضیاب ہونے میں رکاوٹ نہیں بنتی. معمولی اذہان بھی اس سے سیراب ہوں اور اعلیٰ ترین اذہان بھی اس طرح سیراب ہوں کہ ذہن کی تمام وسعت جو بھی صاحبِ ذہن رکھتا ہے مکمل سیرابی کے بعد بھی یہ تاثر رکھے کہ ان کلمات کی مراد کا دائرہ اُسکی وسعت سے بڑا ہے.

چوتھا مفہوم اس کا اہلِ عرفان کے لئے یہ ہے کہ ہر انسانی کلام معنی پر ختم ہوتا ہے، اس کلام کا کوئی مطلب ہے کچھ مقصد ہے. جب وہ مقصد پورا ہو گیا تو انسانی کلام کہ ضرورت بھی پوری ہو گئی. جوامع الکلِم حقائق تک رسائی رکھنے والے وہ کلمات ہیں جو اللہ رب العزت نے حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کر کے گویا انسانوں پر احسان فرمایا کہ وہ حقیقتیں جو انسانی ادراک سے ماورا ہیں اسکے اظہار سے ذیادہ ہیں ان حقیقتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلماتِ مبارکہ سے قابلِ اظہار بنا دیا.

جوامع الکلِم اس ذات کو عطا ہوتے ہیں جس کا ادراک بھی حقائق سے بنا ہو اور جس کا اظہار بھی حقائق سے بنا ہو. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول مبارک جوامع الکلِم ہے. حقائق اُس منزل کو نہیں کہتے جس تک پہنچنے کا وسیلہ عقل ہو، عقل کا کام دریافت کرنا ہے اور حقائق دریافت نہیں ہوتے، حقائق نازل ہوتے ہیں. انسانی عقل کی کوئی بھی دریافت حرفِ آخر نہیں ہو سکتی کیونکہ حقائق تمام پہلوؤں کا کلی طور پر واضع ہونا ہے اور عقل بذاتِ خود انسانی وجود کے اجزاء میں شامل ہے. اجزاء کل کا اتنا ہی ادراک رکھتے ہیں جتنی ان میں وسعت ہو جو ہمیشہ کل سے چھوٹا اور نا مکمل ہوتا ہے. اور حقیقت کہتے ہیں حرفِ آخر کو جس کے بعد شعور کے بھی آگے بڑھنے کی ضرورت ختم ہو جائے اور وجود میں بھی مزید کمال کے حصول کی تمنّا نہ رہے. جو شعور کہ بھی منزل ہو اور وجود کا بھی مُنتہا ہو. عقل محض ان حقائق کو دریافت کر لینے کے وہم میں رہ سکتی ہے. کیونکہ عقل کو صرف راستہ چلنے کا ادراک دے کر پیدا کیا گیا ہے اور جس کو راستہ چلنے کے لئے پیدا کیا گیا ہو وہ منزل ایجاد کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا اگر اس نے منزل کو دریافت کرنے کا دعویٰ کیا تو یہ اس کا وہم ہو گا اس کی فطرت و بناوٹ کے خلاف ہو گا.
جوامع الکلِم عطا کر کے گویا اللہ رب العزت نے حقائق کو بھی نازل فرمایا اور اظہار کو بھی ودیعت فرمایا، جو حقیقت ذہن سے ماورا ہو وہ بیان سے بھی ماورا ہو گی کیوں کہ انسان کا بیان اس کے ذہن کے تابع ہے. چنانچہ اللہ رب العزت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک کو حقیقت کا علم بھی دیا اور اظہار بھی دیا. آپ کا ہر کلام ہر پہلو سے اللہ تک پہنچا دینے والا ہے اس میں معنی چاہے گھر یا بازار کے ہوں لیکن اس کی تاثیر اللہ تک پہنچانے والی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سے کوئی خوش طبعی کی بات بھی ارشاد فرمائیں تو اس کا فوری مطلب تو خوش طبعی ہوتا لیکن وہ کلمات بھی اللہ تک پہنچبے کا تاثر رکھتے ہیں. یہ صاحبِ جوامع الکلِم کی شان ہے کہ اس کی مراد، معنی، مطالب چاہے کثیر ہوں لیکن ہدف واحد ہوتا ہے وہ حقیقت سے اتنا جڑا ہوا ہو کہ وہ جس رخ پر بھی کلام کرے اس رخ کا اختتام اللہ رب العزت کی ذات ہے.

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button