افسانے

محبت ہار جاتی ہے ،سدا بیکار جاتی ہے

؎ قصور میرا تھا تو قصور تمہارابھی تھا
ہم نے جو نظر اٹھائی ،تو تم ہی نظر جھکالیتے
محبت اتنی اندھی ہوتی ہے کہ جس میں انسان روکنے سے بھی نہیں روکتا اور جسے ہو جاۓ نہ دوا اور نہ ہی دعا اثر کرتی ہے ۔ ایک اچھے بھلے انسان کی مت مار کے رکھ دیتی ہے ۔ ہاۓ کیسی ہے یہ محبت ‘کبھی سچی ، کبھی جھوٹی ، کبھی مطلبی ، کبھی دکھاوے کی ، کبھی وفا کی تو کبھی جفا کی ، کبھی جان لینے کی تو کبھی جان دینے کی ۔ لوگ کہا کرتے ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے ۔ اس لیۓ لوگ اس میں سب کچھ کرجاتے ہیں ۔
؎ نہیں ہوتا کسی طبیب سے اس مرض کا علاج
عشق لاعلاج ہے ، بس پرہیز کیجیے
ساحر ایک غریب فیملی سے تعلق رکھتا تھا ۔ ساحر پانچ بھائیوں اور پانچ بہنیوں پر مشتمل فیملی سے تعلق رکھتا تھا ۔ گھر میں صرف والد کمائ کا ذریعہ تھا ۔ جو کہ سبزی کی کاشتکاری کرتا تھا لیکن پھر بھی اپنے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کررہا تھا ۔ سب کے سب بچے تعلیم حاصل کررہے تھے ۔ ساحر فیملی میں دوسرے نمبر پر تھا اور بی-اے کا سٹوڈنٹ تھا ۔ پڑھائ میں بہت ذہین تھا ۔ لیکن تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسے نوکری کی کوئ اچھی امید نظر نہیں آرہی تھی ۔ کیونکہ والد ان پڑھ اور محنت مزدور تھا ۔ سفارش کے بغیر تو نوکری بھی نہیں ملتی تھی ۔ ساحر کی والدہ بھی ان پڑھ تھی لیکن وہ بہت تیز عورت تھی ۔ اسے امیر اور ماڈل لوگوں میں شامل ہونے کا بہت شوق تھا ۔ لیکن انسان اپنے پائوں زمین پر ہی رکھے تو گرنے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے ۔ اس لیے اس کی والدہ نے بڑے بھائ اور بہن کی شادی اپنے سے امیر لوگوں میں کی ۔ اور شادی میں اپنی اسطاعت سے زیادہ خرچہ کیا ۔ اس کے بعد ساحر کی باری تھی جوکہ اب ایم-اے کی سٹوڈنٹ تھا ۔ ساحر کا ماموں دبئ میں رہتا تھا ۔ اور اس کا ایک بیٹا بھی اس کے ساتھ دبئ میں رہتا تھا ۔ ایک بیٹا ، بیٹی اور بیوی پاکستان میں ہی رہتے تھے ۔ وہ لوگ باپ کی کمائ پر فضول خرچ تھے ۔
ساحر کی والدہ کو بیٹے کا اچھا مستقبل نظر آرہا تھا ۔ بھائ بیٹی بھی تو اکلوتی ہے ۔ داماد کو بھائ اپنے پاس دبئ بلا لے گا ۔ بس یہی سوچ کر ساحر کو آنایا کے پیچھے لگا دیا ۔ ساحر ہر وقت آنایا کے گھر رہتا اور کبھی ساحر کی والدہ آنایا کو اپنے گھر بلا لیتی ۔ اس کی خوب خاطر تواضع کرتی اور اس کے نازونخرے اٹھاتے ۔ دل تو دل ہے کسی کا ہونے سے پہلے اجازت تھوڑی مانگتا ہے ۔
بس آنایا بھی ساحر کی محبت میں کھینچتی چلی گئ ۔ ساحر بہت زیادہ خوبصورت اور پرکشش لڑکا تھا ۔ اسے دیکھ کر تو کوئ بھی لڑکی فدا ہو سکتی تھی ۔ لیکن آنایا زیادہ خوبصورت نہیں تھی ،بس دولت مند تھی ۔
؎ ہزار بار مرنا چاہا نگاہوں میں ڈوب کر ہم نے فراز
وہ نگاہیں جھکالیتی ہے ، ہمیں مرنے نہیں دیتی
اک عام شکل و صورت کا آنایا صرف امیری کے بل بوتے اپنی پھپھو کے گھر اک شہزادی سے کم نہیں لگتی تھی ۔ ساحر اپنی محبت میں مکمل طور پر کامیاب ہوچکا تھا ۔ اب تو آنایا اس کے بغیر کھانا تک بھی نہیں کھاتی تھی ۔ ساحر اور آنایا سارا دن ساتھ بیٹھے رہتے تھے ۔ جس کی وجہ سے رشتےداروں میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگی ۔ آنایا کے چچا نے بھائ کو جلد وطن واپس آنے کو کہا کہ آکر پہلے بیٹی کی شادی کردو پھر دبئ چلے جانا ۔
؎ بڑی شفا ہے تیرے عشق میں
جب سے ہوا ہے کوئ دوسرا درد نہیں ہوتا
جب بھائ واپس آیا تو شادی کی تاریخ طے ہوگئ تھی ۔ اپنی بیٹی کو انہوں نے دنیا بھر کا جہینز دیا ۔ جو کہ ساحر کی والدہ کا خواب تھا ۔ آنایا کے ساتھ اس کے دو بھائیوں کی بھی شادی کردی گئ ۔ ساحر کی والدہ ساحر کو بھی اپنے بھائ کے ساتھ دبئ بھیجنا چاہتی تھی ۔ لیکن ساحر اور آنایا نے اس کے برعکس فیصلہ کیا ۔ ساحر نے کہا کے میں آنایا کے بغیر نہیں رہ سکتا اس لیۓ میں باہر نہیں جائوں گا ۔ جب اس بات کا علم آنایا کے والد کو ہوا تو اس نے اپنی بیٹی کی حمایت میں بات کرتے ہوۓ کہا کہ اپنی بیٹی اور داماد کا خرچہ میں خود اٹھائوں گا ۔ کیونکہ آنایا ساحر کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ اور میں اپنی اکلوتی بیٹی کی آنکھوں میں آنسوں نییں دیکھ سکتا ۔ اس کے بعد ساحر نے اپنی ہی گلی میں ایک جنرل سٹور کھول لیا
؎ کسی سے جدا ہونا اگر اتنا آسان ہوتا فراز
تو جسم سے روح کو لینے کبھی فرشتے نہیں آتے
خرچہ آنایا کا باپ ہر مہینے دبئ سے بھجتا رہتا ۔ اب ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی لیکن اب بھی انایا کا باپ ہی تمام خرچہ اٹھاتا ۔ وہ ہمیشہ کہتا کہ بیٹے میری ساری کمائ آنایا کی ہی ہے ۔ بس میں اسے دکھی نہیں دیکھ سکتا ۔ اس لیۓ اس نے ساحر پر کوئ گھریلو ذمہ داری نہیں آنے دی ۔ شادی کے بعد سے کوئ بھی دکھ ان کے پاس سے بھی نہ گزرا تھا ۔
ایک دن ساحر سٹور پر جانے کے لۓ ابھی سیڑھیاں ہی اتر رہا تھا کہ اچانک اسے دل کا دورہ پڑا ۔ ہسپتال لے جانے پر پتہ چلا کہ وہ دس منٹ پہلے ہی وفات پا چکا تھا ۔ آنایا کے خوابوں خیالوں میں بھی نہ تھا کہ اسے اپنی آدھی زندگی آکیلے ہی گزارنی پڑے گی ۔
“لوگ کہتے ہیں کہ کسی ایک کے چلے جانے سے زندگی نہیں رک جاتی لیکن یہ کوئ نہیں جانتا کہ لاکھوں کے مل جانے سے اس ایک کی کمی پوری نہیں ہوجاتی “

nusrat hameed abdul hameed

میں ایک لکھاری ہوں

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!