افسانے

مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ قسط نمبر 1

ایک دن میں دلی کے چاندنی چوک میں سے گزر رہا تھا کہ میری نظر ایک فقیر پر پڑی جو بڑے مؤثر طریقے سے اپنے حالات زار لوگوں سے بیان کرتا جا رہا تھا ۔ 2 3 منٹ وقفے کے بعد یہ درد سے بھری ہوئی الفاظ بار بار دہرا رہا تھا ۔ اس الفاظ سننے کے لیے میں ٹھہر گیا ۔اس فقیر کا قد لمبا جسم خوب موٹا تازہ تھا اور چہرہ ایک حد تک خوبصورت ہوتا مگر بدمعاشی اور بے حیائی نے صورت مسخ کر دی تھی۔ یہ اس کی شکل تھی ۔
اے بھائیو مسلمانوں خدا کے لئے مجھ کو بد نصیب کا حال سنیں!میں افت کا مارا، سات بچوں کا باپ ہوں ۔اب روٹیوں کو محتاج ہوں اپنی مصیبت ایک ایک سے کہتا ہوں۔ میں بھی نہیں مانگتا ۔میں یہ چاہتا ہوں کہ اپنے وطن کو چلا جاؤں مگر کوئی خدا کا پیارا مجھے گھر میں بھی نہیں پہنچا تا۔ بھائی مسلمانوں! میں غریب الوطن ہو ں۔ میرا کوئی دوست نہیں ۔اے خدا کے بندو میری سنو ۔
فقیر تو یہ کہتا ہوا اور جن پر اس کے حصے کا اثر ہوا ان کی خیرات لیتا ہوا آگے بڑھ گیا لیکن میرے دل میں چند خیالات پیدا ہوئے اور میں نے اپنے حالات کا مقابلہ اس سے کیا اور مجھے خود تعجب ہوا کہ اکثر امور میں، میں نے اس کو اپنے سے اچھا پایا ۔یہ صحیح ہے کہ میں کام کرتا ہوں اور وہ مفت خوری سے دن گزارتا ہے ۔نیزیہ کہ میں نے تعلیم پائی ہے وہ جاھل ہے۔ میں اچھے لباس میں رہتا ہوں وہ پٹھے کپڑے پہنتا ہے۔بس یہاں تک میں اس سے بہتر ہوں ۔آگے بڑھ کر اس کی حالت مجھ سے بدرجہا اچھی ہے۔ اس کی صحت پر مجھے رشک کرنا چاہیے ۔میں رات دن فکر میں گزارتا ہوں اور وہ ایسے اطمینان سے بسر کرتا ہے کہ اس کے چہرے پر تازگی نظر آرہی ہے ۔بڑی دیر تک میں سوچتا رہا کہ اس کی قابل رشک حالت کس وجہ سے ہوئی؟آخر کار میں اس بظاہر عجیب نتیجے پر پہنچا کہ جسے وہ مصیبت خیال کرتا ہے وہی اس کے حق میں نعمت ھے۔ وہ حسرت سے کہتا ہے کہ میرا کوئی دوست نہیں ۔میں حسرت سے کہتا ہوں ۔ اگر اس کا کوئی دوست نہیں۔اگر یہ سچ ہے تو اسے مبارک باد دینی چاہیئے ۔
میں اپنے دل میں یہ باتیں کرتا ہو ا مکان پر ایا۔کیسا خوش قسمت آدمی ہی کہتا ہے۔کہ میرا کوئی دوست نہیں ہے ۔اے خوش نصیب شخص یہی تو مجھ سے بڑھ گیا لیکن کیا اس کا یہ قول صحیح بھی ہے؟یعنی اصل میں اس کا کوئی دوست نہیں ہے جو میرے دوستوں کی طرح اسے دن بھر میں پانچ منٹ کی بھی فرصت نہ دے؟
لوگ کہیں گے کہ اس شخص کے بیہودہ خیالات ہیں۔بغیر دوستوں کی زندگی دوبھر ہوتی ہیں اور یہ ان سے بھاگتا ہے مگر میں دوستوں کو برا نہیں کہتا ۔میں جانتا ہوں کہ وہ مجھے خوش کرنے کے لئے میرے پاس آتے ہیں اور میرے خیریت پوچھتے ہیں ۔لیکن عملی نتیجہ یہ ہے کہ احباب کا ارادہ ہوتا ہے مجھے فائدہ پہنچانے کا اور ہو جاتا ہے مجھے نقصان ۔
(جاری ہے)

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button