اسلامک

سودی نظام کا جال… استغفراللہ

اسلام علیکم دوستو.اللہ پاک سے دعا ہے کہ تمام امت محمدی کو بخش دے. آمین دوستو.آجکل بازار میں قسطوں پر گھریلو اشیاء اور موبائل فون گاڑیاں موٹرسائیکل وغیرہ دیتے ہیں.کہ کسی چیز کی اصل قیمت قسطوں میں بڑھ جائے گی اور ساتھ وقت مل جاتا ہے کہ اتنے عرصے میں ادا کرنا ہے. دیکھنے میں تو یہ بہت آسان لگتا ہے. کہ تنخواہ دار طبقہ ہر مہینے اقساط ادا کرتا ہے اور سال بعد یا چھ مہینے بعد

وہ اس چیز کا مالک بن جاتا ہے.مسئلہ یہ ہے کہ کسی چیز کی اصل قیمت سے زیادہ جو رقم ہے وہ کیا ہے. اور اسکج شرعی حیثیت کیا ہے.میری ناقص رائے میں یہ سود کج ایک شکل ہے.اس بارے میں علماء کی رائے کو پڑھا گیا تو پتہ چلا ڈاکٹر اسرار احمد (مرحوم) اس بارے میں فرماتے ہیں کہ جو قیمت کسی بھی چیز کی ہو اور قسطوں پر اسکی چیز کی قیمت بڑھ جائے تو وہ سود ہو گی. مثال کے طور پر ایک موٹر سائیکل کی قیمت ایک لاکھ روپے ہو اور وہی موٹر سائیکل ایک سال کی قسطوں پر ایک لاکھ 27 ہزار کی ہو تو 27 ہزار سود ہو گا.اور سود ہر شکل میں حرام. ہے.اور سود کتنا بڑا گناہ ہے. اس بات سے اندازہ لگائیں کہ سودکے ستر درجےہیں. اور سب سے کمتر درجہ اپنی ماں سے زنا کرنا ہے.. . استغفراللہ سود سے ہر صورت بچنا چاہیے. ڈاکٹر صاحب نے مزید فرمایا کہ بد قسمتی سے ایک فقہ میں اسکو جائز قرار دیا گیا. ہمارے ایک دوست جو بنک میں ملازمت کرتے تھے کہتے ہیں کہ بنک لیز پر گاڑیوں کی خریداری اور اس پر مارک اپ سود کی ایک بہت بھیانک شکل ہے.. جو کوئی بندہ بنک سے گاڑی خریدتا ہے تو جو فارم وہ بھرتا ہے. تو ان میں ایک فارم. پر ایک بہت ہی باریک سی تحریر درج ہوتی ہے. جو کہ بہت غور سے پڑھی جاتی ہے. اس میں لکھا ہوتا ہے. کہ سٹیٹ بینک ہر سال شرح سود کو بڑھانے کا اختیار رکھتا ہے اور جو شرح سود بڑھے گی وہ آپکی اس گاڑی کی قیمت پر بھی لاگو ہوگی. یعنی کہ جو گاڑی پر سود آپ ادا کررہے ہو وہ ہر سال بڑھتا چلا جائے گا.

اور اس طرح ایک بہت بڑی رقم سود کی مد میں نکل جاتی ہے.اللہ پاک ہمیں اس سودی نظام سے مخفوظ رکھے…. آمیں اسکے علاوہ سود کج ایک اور شکل جو کہ آجکل بہت عام ہے کہ مختلف موبائل کمپنیوں کی یہ آفر ہوتی ہے. کہ ہمارے اکاؤنٹ میں پیسے جمع کروائیں اور آپکو روزانہ کال ٹائم اور SMS دیے جائیں گےیہ بھی سود ہے کہ آپ کوئی بھی رقم کسی کو دیتے ہو اور شرعی طور پر کوئی بات زیر تحریر نہیں لائی جاتی کہ آپکی رقم کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا. کوئی مدت شامل نہیں اور کس کاروبار میں استعمال کریں گے. تو یہ بھی سود ہے. اس سبھ اجتناب کرنا چاہیے.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!