کھیل

کارٹون سے کرکٹ کا سفر

کرکٹ ایک جنون کا کھیل ہے ۔ یہ جنون آسمان کو چھونے والا جنون ہے ۔ یہ قومی کھیل نہ ہوتے ہوۓ بھی دل والوں کا کھیل ہے ۔ اس کھیل سے ملک کو بڑے بڑے کھلاڑی ملے ۔ جنہوں نے پوری دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کیا ۔
یہ کھیل عام گلی محلوں میں کھیلا جانے والا کھیل ہے ۔ ان گلی محلوں سے کھیل کر ہی بنا کسی استاد کے کرکٹ کے دیوانے اپنے ملک کو ولڈ کپ میں شامل کرنے والے کھلاڑی آۓ ۔ اس کھیل کا جنون جیسے ہوجاۓ وہ پھر پیچھے نہیں ہٹتا ۔ اور نہ ہمت ہارتا ہے ۔ کرکٹ کا جنون عشق سے بھی بڑھ کر ہے ۔ بچوں سے لے کر بوڑھوں تک سب اس کھیل کے دیوانے ہیں ۔ مجھے بچپن سے کارٹون دیکھنے کا بہت سوق تھا ۔ بس ہر وقت ریموٹ ہاتھ میں اور کارٹون لگا کر بیٹھی رہتی ۔ یہ شوق مجھے دسویں جماعت تک لے آیا ۔ دسویں کے پیپر جب مکمل ہوۓ تو پھر یہ شوق مزید بڑھ گیا ۔ گھر کا تھوڑا بہت کام کیا اور کارٹون لگا کر بیٹھ جاتی ۔ سب گھر والوں نے میرا نام کارٹون پکارنا شروع کر دیا ۔
کرکٹ کا نام میرے خواب و خیال میں بھی نہ تھا ۔ بس کارٹون اور صرف کارٹون ۔ ایک دن کجھ یوں ہوا کہ جب میں کارٹون دیکھ رہی تھی ، تو میری والدہ میرے پاس آکر بیٹھ گئ ۔ میری والدہ نے کہا کہ آؤ آج ہم کچھ اور دیکھتے ہیں ۔ انھوں نے سپورٹس کا چینل لگوایا ۔ وہاں پر ایک “ٹی ۔ ٹونٹی” میچ لگا ہوا تھا ۔ یہ میچ شاہد آفریدی کا تھا ۔ میری والدہ نے کہا کہ ہم مل کر یہ میچ دیکھتی ہے ۔ میچ کے بارے میں والدہ مجھے معلومات دیتی رہیں ۔ میچ دیکھتے ہی میری دلچسپی کرکٹ کی طرف بڑھی ۔ میں نے کوکٹ کے بارے میں معلومات لینا شروع کر دی ۔ گھر پر کرکٹ کھلینا شروع کر دی ۔
اس کے کچھ دن بعد ہی ولڈ کپ میچ شروع ہوگیا ۔ پھر تو یہ شوق مزید بڑھنے لگا ۔سب میچ شوق سے دیکھنے لگی ۔ اور ڈورمون کو خدا حافظ کہا ۔ اور کرکٹ کا جنون سوار ہو گیا ۔ ولڈ کپ کے بعد کالج میں داخلہ لے لیا ۔ وہاں کرکٹ میں داخلہ لے لیا ۔ کالج کی طرف سے مجھے کرکٹ کی ٹیم میں شامل کر لیا گیا ۔ میں نے بہت اچھی کپنگ کی ۔ پھر کالج میں سب مجھے کیپر بلانے لگ گۓ ۔ کرکٹ کی ٹرینگ شروع کر دی کالج کی طرف سے دو بار بی ۔ زیڈ ۔ یو ۔کھیلنے گئ ۔
پھر کرونا کی وجہ سے کالج میں چھٹیاں ہوگئ ۔ میں کرکٹ میں آگے بڑھنا چاہتی تھی ۔ صرف میری والدہ ہے جو کہ ہم تین بہن بھائیوں کا خرچہ اٹھا رہی ہے ۔ وہ کہتی ہے کہ : “میں اجھی اکیڈمی کا خرچہ نہیں اٹھا سکتی ۔ ” لیکن لگتا ہے کہ میرا یہ جنون بھی کارٹون کی طرح ختم ہوجاۓ گا ۔ کرکٹ میں کچھ کر کے دیکھانے کا شوق گھر کے حالات کی وجہ سے ختم ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔ کاش میں کرکٹ کی دنیا میں کچھ کر سکتی کاش ۔

nusrat hameed abdul hameed

میں ایک لکھاری ہوں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!