اسلامک

ایسے والدین جن کے لئے بہشتی غذا نازل ہوئی!

ایسے والدین جن کے لئے بہشتی غذا نازل ہوئی!جب حضرت علی ؑ کی اس دنیا میں ولادت ہونے والی تھی اور آپ کے والد گرامی حضرت ابوطالب ؑ کو اس کی خبر دی گئی کہ خدا آپ کو عنقریب ایک مبارک بیٹا عطا فرمائے گا۔تو حضرت ابوطالب ؑ نے مژم سے کہا کہ اپنی اس بات پہ مجھے ایک واضح دلیل بیان کرو تاکہ میں تمہاری بات پہ یقین کر سکوں۔ مژم کہنے لگا کہ آپ مجھ سے کس بات کی امید رکھتے ہیں؟

کہ میں خدا کی بارگاہ میں اس کی دعا کر سکوں اور آپ پر میری بات کی حقانیت واضح ہو جائے! حضرت ابوطالب ؑ نے فرمایا: میں اس وقت بہشتی غذا چاہتا ہوں۔ اس شخص نے دعا مانگی، ابھی دعا مکمل نہیں ہوئی تھی کہ ایک خوبصورت تھال نمودار ہوا جس میں مختلف انواع و اقسام کے پھل وغیرہ موجود تھے۔ حضرت ابوطالب ؑ نے ان میں سے ایک انار اٹھایا اور اپنے گھر تشریف لے آئے۔ اسی بہشتی انار کے توسط سے خدا نے آپ کو ایک مبارک فرزند یعنی حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کی خوشی میسر فرمائی۔ (بحار الانوار:ج35)اسی طرح کا واقعہ حضرت علی ؑ کی والدہ گرامی جناب فاطمہ بنت اسد ؑ کے بارے میں بھی ملتا ہے کہ آپ نے اک مرتبہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ؐ کجھور کھا رہے تھے کہ جن کی خوشبو ایک منفرد انداز سے ماحول کی معطر کئے ہوئی تھی۔ وہ کجھور ایسے درخت کی تھیں کہ جن کی ٹہنیاں نہیں تھیں۔ جناب فاطمہ بنت اسدؑ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے بھی ان میں سے عطا کیجئے! چنانچہ رسول گرامی اسلام ؐ نے آپ کو کچھ کجھوریں عنایت فرمائیں۔ جب جناب فاطمہ ؑ نے ان کجھوروں کو تناول فرما لیا تو دوبارہ رسول خداؐ سے عرض کیا کہ کچھ کجھوریں میرے شوہر اور ہمسر حضرت ابوطالب ؑ کے لئے بھی عنایت کیجئے۔ رسول خدا ؐ نے آپ کو بھی کچھ خرمے عطا کئے۔ جب رات کا وقت ہوا تو حضرت ابوطالبؑ نے ایک ایسی خوشبو سونگھی کہ جو اس سے قبل کبھی نہ سونگھی تھی۔

یہ خوشبو انہی کجھوروں کی تھی کہ جس نے فضا کو معطر کیا ہوا تھا۔ چنانچہ جناب فاطمہؑ نے حضرت ابوطالب ؑ کو وہ کجھوریں دیں اور آپ نے ان کو تناول فرمایا۔ اور انہیں کجھوروں کے طفیل حضرت علی ؑ کی ولادت ہوئی۔(مناقب ابن شہر آشبوب : ج1، ص 358)

Ali Kazmi

میں سید علی نقی کاظمی فیصل آباد سے تعلق رکھتا ہوں اور میں نے اردو زبان میں ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس ویب سائیٹ پہ موجود لوگوں کو اپنی آواز سے آشنا کر سکوں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!